پولیس گھر کے باہر نگرانی کرتی رہی اور پولیس اسٹیشن بھی بلایا گیا،فیروز میٹھی بور والا کے مطابق پولیس کے رویے کے خلاف ہم سب عدالت جانے کی تیاری کررہے ہیں۔
EPAPER
Updated: October 12, 2026, 10:34 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai
پولیس گھر کے باہر نگرانی کرتی رہی اور پولیس اسٹیشن بھی بلایا گیا،فیروز میٹھی بور والا کے مطابق پولیس کے رویے کے خلاف ہم سب عدالت جانے کی تیاری کررہے ہیں۔
پولیس کی سختی اور حکومت کے تمام ہتھکنڈوں کے باوجود ووٹ چوری ، گیانیش کمار کے استعفے اور ایس آئی آر رد کرنے کے مطالبوں میں روز بروز شدت آتی جارہی ہے۔
اتوار کے دن بھی صدائے احتجاج بلند کی گئی مگر پولیس نے شدت سے آواز بلند کرنے والوں پر نگاہ رکھی ، ان کے گھر کے باہر پولیس کا پہرہ بٹھایا اور پولیس اسٹیشن بھی انہیں بلایا گیا۔
اس میں پروگریسیو اسٹوڈنٹس یونین کی سربراہ سامیا کورڈے ، جنہوں نے سنیچر کے اگست کرانتی میدان احتجاج میں پولیس سے زبردست مزاحمت کی تھی ، ان کو گھر میں نظر بند کردیا گیا اور ان کے گھر کے باہر پولیس کا پہرہ بٹھادیا گیا مگر سامیا کا کہنا تھا کہ اس سے احتجاج کی آگ اور بھڑکے گی ،سرد نہیں ہوگی۔ چونکہ ووٹ چوری، ایس آئی آر کی آڑ میں ہمارے آئینی حقوق چھیننے کا معاملہ ہے اس لئے جب تک مطالبات پورے نہیں ہوتے ، احتجاج جاری رہے گا۔
یہ بھی پڑھئے: دہلی پولیس پربدسلوکی اور گرفتار شدگان کے ساتھ مارپیٹ کا الزام
سامیا کورڈے کے مطابق گھر پر پولیس بٹھاکر ہمیں نظربند تو کیا جاسکتا ہے مگر اس سے ہماری فکر، سوچ، آئینی حقوق اور مطالبات کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔
اسی دوران فیروز میٹھی بور والا کو پولیس تیسرے دن بھی ان کے گھر سے ایم آئی ڈی سی پولیس اسٹیشن لے گئی۔ فیروز نے پولیس اہلکاروں سے کہا کہ انہیں پونے جانا ہے، انہیں جانے دیا جائے پھر بھی پولیس نے ایک گھنٹے تک بٹھایا، کھانا کھلایا ۔اس کے بعد کہا کہ آپ پونے جائیے مگر ہم آپ کو دادر چھوڑیں گے پھر آپ کو بس میں بٹھاکر فوٹو بھی لیں گے۔
فیروز کے مطابق پولیس نے اتنا سب کچھ کیا مگر حق وانصاف کی آواز اس طرح کی بندشوں سے دبائی نہیں جاسکتی، پولیس کے اس رویے کے خلاف ہم سب عدالت جانے کی تیاری کررہے ہیں کیونکہ احتجاج کرنا ہمارا جمہوری حق ہے، اسے پولیس یا کوئی حکومت چھین نہیں سکتی۔ ہاں اگر توڑ پھوڑ کی جائے ، سرکاری املاک کا نقصان ہو تو گرفتار کیا جاسکتا ہے مگر احتجاج سے روکنے کا مطلب جمہوری حق چھیننا ہے۔