Inquilab Logo Happiest Places to Work

دنیا کے پہلے سیاہ فام فوجی پائلٹ احمد علی چیلیکتن کو سرکاری شناخت دلانے کی مہم

Updated: July 29, 2026, 7:07 PM IST | Ankara

ترکی میں دنیا کے پہلے سیاہ فام فوجی پائلٹ سمجھے جانے والے احمد علی چیلیکتن کے اہلِ خانہ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی خدمات کو سرکاری سطح پر زیادہ نمایاں کیا جائے تاکہ نئی نسل ان کی زندگی، جدوجہد اور فوجی کارناموں سے واقف ہو سکے۔ خاندان کا کہنا ہے کہ اگرچہ احمد علی چیلیکتن نے پہلی جنگِ عظیم اور ترکی کی جنگِ آزادی میں اہم کردار ادا کیا، لیکن انہیں وہ عالمی اور قومی شناخت نہیں مل سکی جس کے وہ مستحق ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

ترکی کے شہر ازمیر میں رہنے والے دنیا کے پہلے سیاہ فام فوجی پائلٹ سمجھے جانے والے احمد علی چیلیکتن (Ahmet Ali Çelikten) کے اہلِ خانہ نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی تاریخی خدمات کو سرکاری سطح پر زیادہ مؤثر انداز میں اجاگر کیا جائے تاکہ آنے والی نسلیں اس عظیم شخصیت سے واقف ہو سکیں۔ خاندان کا کہنا ہے کہ احمد علی چیلیکتن نہ صرف ترکی بلکہ عالمی ہوا بازی کی تاریخ کا ایک اہم باب ہیں، تاہم انہیں آج بھی وہ شناخت حاصل نہیں ہو سکی جس کے وہ حقیقی معنوں میں مستحق ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: اٹلی: پیپ سمر کیمپ، گارڈیالا نے ۳۰؍ فلسطینی بچوں کا خیرمقدم کیا

احمد علی چیلیکتن ۱۸۸۳ء میں ازمیر میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کی والدہ زنجیہ امینہ ہانم نائیجیریا سے تعلق رکھنے والے افریقی نژاد خاندان سے تھیں جبکہ والد علی بے بھی افرو ترک پس منظر رکھتے تھے۔ انہوں نے عثمانی بحریہ میں شمولیت اختیار کی اور بعد ازاں ۱۹۱۴ء میں قائم ہونے والے بحری فضائی اسکول میں تربیت حاصل کی۔ انہیں ۱۵۔۱۹۱۴ء میں پائلٹس ونگز سے نوازا گیا، جس کی بنا پر متعدد مؤرخ انہیں دنیا کا پہلا سیاہ فام فوجی پائلٹ قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے پہلی جنگِ عظیم کے دوران عثمانی فضائیہ میں خدمات انجام دیں اور بعد میں ترکی کی جنگِ آزادی میں بھی حصہ لیا۔ جنگ کے بعد جمہوریہ ترکی کے قیام پر وہ نئی ترک فضائیہ میں شامل رہے اور مختلف ذمہ داریوں پر خدمات انجام دیتے ہوئے ۱۹۴۹ء میں کرنل کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ انہیں ۱۹۲۴ء میں مصطفیٰ کمال اتاترک اور عصمت انونو کی جانب سے جنگِ آزادی میں بہادری پر ترکی کا تمغۂ آزادی بھی عطا کیا گیا۔ 
انادولو ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے احمد علی چیلیکتن کے خاندان نے کہا کہ ان کی زندگی صرف ترکی ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے باعثِ فخر ہے، لیکن افسوس کی بات ہے کہ ان کا نام ابھی تک تعلیمی نصاب، عوامی یادگاروں اور بین الاقوامی تاریخ میں وہ مقام حاصل نہیں کر سکا جس کا وہ حق رکھتے ہیں۔ خاندان کے ایک فرد نے کہا کہ ’’ہم چاہتے ہیں کہ مستقبل کی نسلیں انہیں جانیں۔ وہ صرف ہمارے خاندان کے فرد نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک تاریخی شخصیت ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: تم جنونی قاتل ہو: ہالی ووڈ اداکار مارک رفالو کا نیتن یاہو پر شدید حملہ

انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہم چاہتے ہیں کہ ان کی زندگی پر مزید تحقیق ہو، کتابیں لکھی جائیں، دستاویزی فلمیں بنائی جائیں اور ان کا نام زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچے۔‘‘ خاندان کے مطابق احمد علی چیلیکتن کی کامیابی اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ انہوں نے ایسے دور میں فوجی پائلٹ بننے کا اعزاز حاصل کیا جب دنیا میں سیاہ فام افراد کو شدید نسلی امتیاز کا سامنا تھا۔ اس کے باوجود انہوں نے اپنی صلاحیت، پیشہ ورانہ مہارت اور عسکری خدمات سے تاریخ میں ایک منفرد مقام بنایا۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق احمد علی چیلیکتن کا نام اکثر یوجین جیک بولارڈ (فرانس)، ولیم رابنسن کلارک (برطانیہ) اور دیگر ابتدائی سیاہ فام فوجی ہوا بازوں کے ساتھ لیا جاتا ہے، تاہم متعدد محققین کا کہنا ہے کہ احمد علی نے ان سب سے پہلے فوجی پائلٹ کی حیثیت سے اپنے پروں کا اعزاز حاصل کیا تھا، اسی لیے انہیں دنیا کا پہلا سیاہ فام فوجی پائلٹ تصور کیا جاتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئ: حوثیوں کا سعودی خام تیل ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

اہلِ خانہ نے مطالبہ کیا ہے کہ ترکی میں ان کے نام پر مزید یادگاریں قائم کی جائیں، تعلیمی اداروں میں ان کی خدمات کو نصاب کا حصہ بنایا جائے اور بین الاقوامی سطح پر بھی ان کی شخصیت کو متعارف کرانے کے لیے اقدامات کیے جائیں تاکہ نوجوان نسل کو یہ معلوم ہو سکے کہ افریقی نژاد ایک ترک فوجی افسر نے ایک صدی قبل عالمی ہوا بازی کی تاریخ میں کس قدر نمایاں کردار ادا کیا تھا۔ یاد رہے کہ احمد علی چیلیکتن کا انتقال ۲۴؍ جون ۱۹۶۹ء کو ازمیر میں ہوا، لیکن ان کی عسکری خدمات اور ہوا بازی کے میدان میں ان کا تاریخی کردار آج بھی دنیا بھر کے مؤرخین اور ہوا بازی کے ماہرین کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ان کے خاندان کو امید ہے کہ آنے والے برسوں میں انہیں وہ قومی اور عالمی مقام ضرور ملے گا جس کے وہ مستحق ہیں۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK