’’چلو اسکول چلیں‘‘ مہم کے تحت وزیر تعلیم دادا بھسے نے ضلع پریشد اسکولوں کا دورہ کیا اور طلبہ کے ساتھ پر بیٹھ کر ان سے بات چیت کی اوران کے سبق سنے۔
ریاستی وزیرتعلیم دادابھُسے ایک طالب علم کا سبق سنتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این
علی باغ (سراج شیخ): سندھو درگ اور رتنا گیری اضلاع کا دورہ کرنے کے بعد ریاست کے وزیر تعلیم دادا بھسے جمعہ کو علی باغ پہنچے۔یہاں انہوں نےریاست بھر میں نافذ کیے جانے والے ابھیان ’چلو اسکول چلیں‘‘ کے تحت علی باغ تعلقہ کے مختلف ضلع پریشد اسکولوں کا دورہ کیا اور وہاں کے تعلیمی ماحول کا جائزہ لیا۔وزیر تعلیم خود کلاس روم میں گئے اور بچوں کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کی اور ان کے اسباق سنے۔اس موقع پر انہوں نےدیہی علاقوں کی اسکولوں میں تعلیمی نظام میں بلند تعلیمی معیار برقرار رکھنے والے اساتذہ کو مبارکباد اور خراج تحسین پیش کی۔
اس دورے میں ان کے ہمراہ رائے گڑ ھ کے نگراں وزیر بھرت گو گاولے، ایم ایل اے مہندر دلوی، ایم ایل سی نیانیشور مہاترے ،ضلع پریشد کے صدر منگیش واکڈیکر، ایجوکیشن چیئرمین چندرکانت کالمبے، خواتین اور بچوں کی بہبود کی چیرمین رسیکا کینی اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر نیہا بھوسلے موجود تھے۔اسکولوں میں وزٹ کے بعد علی باغ میں ڈسٹرکٹ پلاننگ کمیٹی اسمبلی ہال میں منعقدہ خصوصی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے دادا بھسے نے کہا کہ موبائل فون کا زیادہ استعمال طلبہ کی صحت، توجہ اور تعلیمی کارکردگی پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔اسکول کے طلبہ کا زیادہ وقت موبائل پر گزرنا نقصان دہ ہے۔ بچے ہوم ورک کے نام پر موبائل حاصل کرتے ہیں لیکن پھر اس کے عادی ہو جاتے ہیں۔ اس لیے اساتذہ اور والدین کو چاہیے کہ بچوں کے لیے متبادل اور روایتی طریقے اپنائیں تاکہ وہ اسکرین ٹائم سے محفوظ رہیں۔انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں صرف ڈگریاں بانٹنے والی تعلیم کی ضرورت نہیں بلکہ اصل ضرورت ایسی تعلیم کی ہے جو نوجوانوں کو روزگار اور حب الوطنی کی بنیاد فراہم کرے۔دوران تقریر انہوں نے کہا کہ جلد ہی ریاست کے تمام اسکولوں کو انفارمیشن ٹیکنالوجی، اے آئی، ہنر مندی اور دیگر فنی مہارتوں سے جوڑا جائے گا تاکہ ہمارے بچے نوکری تلاش کرنے والے نہیں بلکہ نوکری دینے والے بن سکے۔انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ پلاننگ ڈویلپمنٹ فنڈ کے ذریعے ہر سرکاری ا سکول میں پینے کا صاف پانی، بیت الخلاء، سی سی ٹی وی کیمرے اور حفاظتی دیواروں جیسی سہولیات ترجیحی بنیادوں پر فراہم کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ اسکولوں میں غیر استعمال شدہ کمروں کو سی ایس آر فنڈ کے ذریعے ہائی ٹیک لائبریریوں اور ٹیکنالوجی سے چلنے والے اے آئی اسٹڈی سینٹرز میں تبدیل کیا جائے گا۔