Inquilab Logo Happiest Places to Work

بارش کے دوران درخت گرنے کے واقعات میں اضافہ

Updated: July 07, 2026, 1:07 PM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi

بھیونڈی میں مسلسل ہونے والی بارش کے دوران ۵؍دنوں میں ۲۱؍درخت گر گئے۔

Several Vehicles Were Crushed Under A Tree In The Roshan Bagh Babu Chuni Building Area.Photo:INN
روشن باغ بابو چونی بلڈنگ علاقے میں درخت کے نیچے متعدد گاڑیاں دب گئیں۔ تصویر:آئی این این
مسلسل موسلادھار بارش کے باعث بھیونڈی شہر میں درخت گرنے کے واقعات میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ گزشتہ ۵؍ دنوں کے دوران شہر کے مختلف علاقوں میں مجموعی طور پر ۲۱؍ درخت زمین بوس ہو چکے ہیں جس سے شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ 
 
 
محکمہ فائر بریگیڈ کے سربراہ نتن چوہان کے مطابق یکم جولائی سے ۵؍ جولائی کے درمیان شہر کے مختلف علاقوں میں درخت گرنے کے متعدد واقعات پیش آئے، تاہم خوش قسمتی سے کسی بھی واقعے میں جانی نقصان نہیں ہوا۔محکمہ فائر بریگیڈ کے ریکارڈ کے مطابق یکم جولائی کو ۵؍، ۲؍جولائی کو ۴؍، ۳؍جولائی کو ۴؍، ۴؍جولائی کو ۵؍اور ۵؍ جولائی کو ۳؍ درخت گرنے کے واقعات پیش آئے۔ ان حادثات کے دوران ایک کار اور چند موٹر سائیکلوں کو شدید نقصان پہنچا۔اتوار کی دیر شام شہر کے روشن باغ، بابو چونی والی بلڈنگ علاقے میں ایک بڑا اور قدیم درخت اچانک زمین بوس ہو گیا۔ مقامی افراد کے مطابق یہ درخت تقریباً ۶۰؍برس سے زائد عرصے سے وہاں موجود تھا۔ درخت گرنے کے نتیجے میں وہاں کھڑی کئی گاڑیاں اس کی زد میں آ گئیں، جس سے انہیں شدید نقصان پہنچا۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہو گیا اور بڑی تعداد میں مقامی شہری جمع ہو گئے۔
 
 
مقامی کارپوریٹر شکیل انصاری (پاپا) نے الزام عائد کیا کہ مذکورہ درخت کے کمزور اور خطرناک ہونے کی اطلاع وہ پہلے ہی میونسپل کارپوریشن انتظامیہ کو دے چکے تھے لیکن انتظامیہ کی لاپروائی اور تساہلی کے باعث بروقت کارروائی نہیں کی گئی جس کے نتیجے میں یہ حادثہ پیش آیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر بروقت اقدامات کئے جاتے تو املاک کو ہونے والے نقصان سے بچا جا سکتا تھا۔کارپوریٹر عبید جان راجو نے بھی اس واقعے کے لئے میونسپل انتظامیہ کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر انتظامیہ وقت پر یہ درخت کو کاٹ دیتا تو آج یہ حادثہ پیش نہ آتا۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK