Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہاسٹل کے قواعد سے قبائلی طلبہ ناراض، ایڈیشنل کمشنر کے دفتر کے باہر دھرنا

Updated: August 21, 2026, 11:54 AM IST | Ali Imran | Nagpur

ناگپور میں ہاسٹل انتظامیہ نے طلبہ کیلئے میڈیا سے بات کرنے اور ہاسٹل کی بد انتظامی کی باہر شکایت کرنے کو ممنوع قرار دیدیا ہے۔

Students protesting outside the Additional Commissioner`s office. Picture: INN
ایڈیشنل کمشنر کے دفتر کے باہر طلبہ احتجاج کر رہے ہیں۔ تصویر: آئی این این
ناگپور (علی عمران) : محکمہ قبائلی ترقی کے ایڈیشنل کمشنر کے دفتر کے سامنے گزشتہ چند دنوں سے سیکڑوں قبائلی طلبہ دن رات احتجاج کر رہے ہیں۔ انہوں نے پلے کارڈ اٹھا رکھے ہیں، نعرے لگا رہے ہیں اور کئی مطالبات بھی کر رہے ہیں۔ تاہم ، اس احتجاج کا سبب صرف ہاسٹل میں داخلے کیلئے عمر کی حد کو بڑھانے یا کم کرنے کا نہیں ہے بلکہ محکمۂ قبائلی ترقی کے ذریعے جاری کردہ نئے قواعد و ضوابط ہیں جن میں سے بعض پر طلبہ کو سخت اعترض ہے۔ وہ اسی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔  
طلبہ نعرے لگا رہے ہیں ’’ہمارے بولنے کے حق پر بھی کیوں پابندی لگائی جارہی ہے؟‘‘ بتادیں کہ ۵؍اگست کو، محکمہ قبائلی ترقی نے ریاست میں ۴۹۰ ؍سرکاری ہاسٹلوں کیلئے نئے ضابطوں کا اعلان کیا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ قواعد ہاسٹل میں نظم و ضبط، سیکوریٹی اور سہولیات کو درست کرنے کیلئے بنائے گئے ہیں۔ تاہم، طلبہ نے اس کی کچھ دفعات پر اعتراض کیا ہے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ نئے ضابطوں کے مطابق اگر ہاسٹل میں کوئی مسئلہ درپیش ہے تو ہمیں پہلے ہاؤس منیجرسے تحریری شکایت کرنی ہے، اگر وہاں بھی مسئلہ حل نہیں ہوتا تو ہم آگے کہاں جائیں؟ ہم میڈیا سے بات نہیں کرسکتے، احتجاج نہیں کرسکتے، کسی تحریک میں شامل نہیں ہوسکتے تو پھر ہمارے مسائل کیسے حل ہوں گے؟ نئے ضوابط میں شروع میں ہاسٹل میں داخلے کیلئے عمر کی حد ۲۶؍ سال مقرر کی گئی تھی۔ تاہم طلبہ کے احتجاج کے بعد انتظامیہ نے ہوسٹل میں قیام کی حد ۲۶ سے بڑھا کر ۳۰؍سال کی عمر تک کر دی ہے۔ تاہم مظاہرین کا کہنا ہے کہ صرف اعداد تبدیل کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ تحریک کی قیادت کر رہے آدیواسی ودیارتھی سنگھ کے صدرگنیش اِرپاچی نے میڈیا کو بتایا کہ عمر کی اس حد کو ہی ختم کیا جائے۔ طالب علم کی ضروریات کا واحد معیار عمر نہیں ہو سکتی۔ فرض کریں کہ میری عمر ۳۰؍سال ہے اور میں ابھی پڑھ رہا ہوں۔ میرے مالی حالات ایسے نہیں کہ میں ہاسٹل کے بغیر پڑھ سکوں۔ تو کیا میں اپنی تعلیم صرف اسلئے چھوڑ دوں کہ میں ۳۰؍سال مکمل کر چکا ہوں؟ حکومت کو میری عمر کے بجائے میری ضروریات کو دیکھنا چاہئے۔ اگر ہاسٹل میں جگہ کم ہے تو مالی حالت، نصاب اور تعلیمی ترقی جیسے معیارات طے کریں۔ لیکن صرف ایک عمر کی بنیاد پر طلبہ کو خارج کرنا درست نہیں ہے۔
ہاسٹل کے قوانین میں اظہار خیال اور احتجاج سے متعلق دفعات طلبہ کیلئے انتہائی تشویش کا باعث ہیں۔ دفعات میں پابندیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ طلبہ کسی تنظیم میں شامل نہیں ہوسکتے، بھوک ہڑتال، مورچہ یا اسی طرح کے احتجاج میں حصہ نہیں لے سکتے، اور ہاسٹل کے مسائل میڈیا کے سامنے بیان نہیں کرسکتے۔ مظاہرہ کررہے طلبہ کا کہنا ہے کہ اگر انتظامیہ کے فیصلے سے ہمیں نقصان ہو رہا ہے اور ہم اس کے خلاف پرامن احتجاج بھی نہیں کر سکتے تو جمہوریت کہاں ہے؟ قبائلی طلبہ کا مسئلہ اب اسکالرشپ، ہاسٹل یا داخلوں تک محدود نہیں رہا۔ وہ پالیسیوں پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ وہ قواعد پڑھ کر ان کی دفعات پر اعتراض کر رہے ہیں۔ انتظامیہ سے بات چیت کر رہے ہیں۔ وہ اپنے آئینی حقوق کی بات کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہاسٹل میں نظم و ضبط ہونا چاہئے۔ سیکورٹی کے بارے میں بھی کوئی سوال نہیں ہے۔ لیکن نظم و ضبط اور خاموشی میں فرق ہے۔ انتظامیہ کے ساتھ رابطے اور احتجاج میں بھی فرق ہے۔ شکایات درج کرنے کا عمل ہونا چاہیے؛ لیکن اگر شکایت کا جواب نہیں ملتا تو اگلا جمہوری راستہ بھی کھلا ہونا چاہئے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK