تریپورہ میں آتشزدگی کے شکار ہندوخاندانوں کیلئے مسلم شخص نے اپنا گھر کھول دیا،آ فتاب علی، اور شیخ فاؤنڈیشن نے آگ لگنے سے بے گھر ہونے والے تین متاثرہ ہندو مزدور خاندانوں کو پناہ، خوراک اور ضروری سامان فراہم کیا۔
EPAPER
Updated: February 21, 2026, 1:02 PM IST | Agartala
تریپورہ میں آتشزدگی کے شکار ہندوخاندانوں کیلئے مسلم شخص نے اپنا گھر کھول دیا،آ فتاب علی، اور شیخ فاؤنڈیشن نے آگ لگنے سے بے گھر ہونے والے تین متاثرہ ہندو مزدور خاندانوں کو پناہ، خوراک اور ضروری سامان فراہم کیا۔
شمالی تریپورہ سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ایک زبردست مثال سامنے آئی ہے، جہاں آگ لگنے سے تین ہندو خاندانوں کے گھر تباہ ہو گئے، جس کے بعد مقامی مسلمانوں نے فوری مدد کے لیے قدم بڑھایا۔یہ واقعہ تریپورہ کے ضلع اگرتلا میں کیلاشہر کے گورنگر علاقے میں پیش آیا۔ مقامی لوگوں کے مطابق، چند روز قبل بجلی کی خرابی کی وجہ سے آگ لگ گئی۔ چند ہی منٹوں میں شعلوں نے دیول بؤلی سمیت تین ہندو مزدور خاندانوں کے گھروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔یہ خاندان، جو باغات میں کام کرکے اپنی روزی کماتے ہیں، اپنے گھر، فرنیچر، جمع پونجی اور روزمرہ کی ضروریات کی اشیاء سے محروم ہو گئے۔ چودہ افراد، جن میں بچے اور بزرگ شامل ہیں، سرد موسم میں بے گھر ہو گئے۔سب کچھ جل کر راکھ ہو گیا۔ ان کے پاس کچھ نہیں بچا۔ تاہم جیسے ہی یہ خبر ایک مقامی مسلم نوجوان، آفتاب علی، تک پہنچی انہوں نے بلا جھجک اپنے گھر کے دروازے کھول دیئے۔ انہوں نے تینوں بے گھر خاندانوں کو رہنے کے لیے اپنے گھر کے تینوں کمرے پیش کر دیئے۔
یہ بھی پڑھئے: حیدرآباد: امبرپیٹھ میں تراویح کی نماز کے دوران ، مسجد کے قریب نعرے بازی کے بعد کشیدگی
بعد ازاں علی نے کہا، ’’میں انہیں تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا تھا۔ ایسے وقت میں مذہب کی اہمیت نہیں ہوتی۔ وہ سب سے پہلے ہمارے پڑوسی ہیں۔‘‘انہوں نے صرف پناہ دینے پر ہی اکتفا نہیں کیا۔ علی نے کھانا پکانے کے برتن، گیس سلنڈر، راشن، بستر اور دیگر روزمرہ کی ضروریات کا انتظام کیا تاکہ خاندان عزت کے ساتھ اپنی زندگی دوبارہ شروع کر سکیں۔جلد ہی امداد میں شیخ فاؤنڈیشن بھیشامل ہو گئی۔ تنظیم نے ایک گاڑی بھیجی جس میں ایک ماہ کا راشن، خاندان کے تمام افراد کے لیے کپڑے اور بچوں کے لیے تعلیمی مواد تھا۔
یہ بھی پڑھئے: پٹنہ ہائی کورٹ: اپوزیشن کی ریلی میں مودی کے خلاف نعرے لگانے والے شخص کو ضمانت
فاؤنڈیشن کے مشیر مقبول علی نے کہا، یہ انسانیت کا معاملہ ہے۔ جب ایک خاندان مصیبت میں ہوتا ہے تو پوری برادری کو ان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔‘‘جبکہ امداد کی تقسیم کے دوران ان کے ساتھ فاؤنڈیشن کے اراکین عباس علی الجلیلی، شیخ جسیم الدین، تاج اسلام اور مقامی نوجوان یحییٰ خان بھی شامل تھے۔مقامی لوگوں نے اس اقدام کو سراہا ہے اور اسے بھائی چارے کا عملی پیغام قرار دیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب فرقہ وارانہ کشیدگی اکثر سرخیاں بنتی ہے۔ متاثرہ خاندانوں کے لیے اب فوری تشویش اپنے گھروں کی تعمیر نو ہے۔ لیکن اس نقصان اور مشکل کے عالم میں، اپنے مسلمان پڑوسیوں کی طرف سے ملی مدد نے انہیں امید دی ہے۔متاثرہ خاندان کے ایک فرد نے خاموشی سے کہا، ’’ہم آگ میں سب کچھ کھو بیٹھے، لیکن ہم نے انسانیت نہیں کھوئی۔‘‘