ٹرمپ انتظامیہ کے پیش کردہ بجٹ پر ڈیموکریٹک لیڈران کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ سینیٹ کے اقلیتی لیڈر چک شومر نے اس بجٹ کو ”بوسیدہ بنیادوں کا حامل بجٹ“ قرار دیا اور عہد کیا کہ ان کی پارٹی کانگریس میں اس کی مخالفت کرے گی۔
EPAPER
Updated: April 04, 2026, 8:05 PM IST | Washington
ٹرمپ انتظامیہ کے پیش کردہ بجٹ پر ڈیموکریٹک لیڈران کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ سینیٹ کے اقلیتی لیڈر چک شومر نے اس بجٹ کو ”بوسیدہ بنیادوں کا حامل بجٹ“ قرار دیا اور عہد کیا کہ ان کی پارٹی کانگریس میں اس کی مخالفت کرے گی۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے ساتھ جاری جنگ کے درمیان مالی سال ۲۰۲۷ء کیلئے ریکارڈ ۵ء۱؍ کھرب ڈالر کے دفاعی بجٹ کی تجویز پیش کی ہے۔یہ ملک کی تاریخ میں فوجی اخراجات کی سب سے بڑی درخواست ہے۔ وہائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ بجٹ دستاویزات کے مطابق، اس تجویز میں ۱۵ء۱ کھرب ڈالر کے صوابدیدی دفاعی اخراجات کے ساتھ ۳۵۰ ارب ڈالر کے اضافی لازمی وسائل شامل ہیں۔ اس طرح صرف دفاعی اخراجات کیلئے تجویز کردہ بجٹ ۵ء۱؍ کھرب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
یہ بجٹ ملک کی فوجی صلاحیتوں کو وسعت دینے کی جانب ٹرمپ انتظامیہ مسلسل توجہ کی عکاسی کرتا ہے، دوسری طرف انتظامیہ دیگر شعبوں میں اخراجات کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انتظامیہ نے غیر دفاعی صوابدیدی اخراجات میں ۱۰ فیصد یعنی تقریباً ۷۳ ارب ڈالر کی کمی کی تجویز پیش کی ہے۔ ان کٹوتیوں سے رہائش، تعلیم اور توانائی جیسے اہم شعبے متاثر ہوگے۔ حکام نے اس منصوبے کو وفاقی اخراجات کی ترجیحات کو تبدیل کرنے کی وسیع کوشش کے طور پر پیش کیا، جس میں ملکی اخراجات کو محدود کرکے قومی سلامتی کو مضبوط بنایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: ایران پر امریکی حملے ممکنہ جنگی جرائم: سو سے زائد بین الاقوامی ماہرین کا انتباہ
اقلیتی لیڈر نے بجٹ کی مخالفت کی
ٹرمپ انتظامیہ کے پیش کردہ بجٹ پر ڈیموکریٹک لیڈران نے شدید تنقید کی ہے۔ سینیٹ میں اقلیتی لیڈر چک شومر نے بجٹ کو ”بوسیدہ بنیادوں کا حامل بجٹ“ قرار دیا اور عہد کیا کہ ان کی پارٹی کانگریس میں اس کی مخالفت کرے گی۔ شومر نے ریکارڈ دفاعی اخراجات اور عام امریکیوں کی مدد کرنے والے پروگراموں (جیسے سستی رہائش اور تعلیم) میں کٹوتیوں کے تضاد پر تنقید کی۔ انہوں نے روزمرہ زندگی کے بڑھتے اخراجات روشنی میں بجٹ کے معاشی خدشات کو بھی اجاگر کیا۔
سینیٹ کی مسلح خدمات کی کمیٹی کے سینیئر رکن اور ڈیموکریٹک سینیٹر جیک ریڈ نے بھی اس منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے اسے ”غیر سنجیدہ بجٹ“ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تجویز معاشی چیلنجوں سے نمٹنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ فوجی آپریشنز سے متعلق اضافی ہنگامی فنڈنگ کی درخواستیں اخراجات میں مزید اضافہ کرسکتی ہیں۔