Updated: August 17, 2026, 11:18 AM IST
| Washington
سابق امریکی رکنِ کانگریس مارجوری ٹیلر گرین نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ سطحی حکمتِ عملی اجلاسوں میں ایران کے خلاف جوہری ہتھیاروں کے ممکنہ استعمال پر غور کیا جا رہا ہے، تاہم انہوں نے اپنے دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا اور نہ ہی امریکی حکومت کی جانب سے اس کی تصدیق ہوئی ہے، گرین نے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف جوہری ہتھیاروں کا استعمال وسیع تر عالمی تنازع کو جنم دے سکتا ہے اور ہیروشیما و ناگاساکی پر ایٹمی حملوں کے تباہ کن انسانی اثرات کا حوالہ دیتے ہوئے جوہری ہتھیاروں کے دوبارہ استعمال کی مخالفت کی ہے۔
مارجوری ٹیلر گرین۔ تصویر: ایکس
سابق امریکی رکنِ کانگریس مارجوری ٹیلر گرین نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے خلاف جوہری ہتھیاروں کے ممکنہ استعمال پر اعلیٰ سطحی حکمتِ عملی کے اجلاسوں میں غور کر رہی ہے۔ تاہم، انہوں نے اپنے اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔ گرین نے اتوار، ۱۶؍ اگست کو ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’وہ حکمتِ عملی کے اجلاسوں میں ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے پر بات کر رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’یہ حقیقت ہے۔ میں قیاس آرائی نہیں کر رہی، میں جانتی ہوں۔‘‘ گرین، جو اس سے قبل ایران میں امریکی فوجی مداخلت کی مخالفت کر چکی ہیں، نے خبردار کیا کہ جوہری ہتھیاروں کا کوئی بھی استعمال وسیع تر عالمی تنازع کو جنم دے سکتا ہے۔ انہوں نے امریکی شہریوں پر زور دیا کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی مخالفت کریں اور جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کریں۔ تاہم، گرین کے دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ امریکی حکومت کی جانب سے ایسا کوئی عوامی بیان یا سرکاری دستاویز سامنے نہیں آئی ہے جس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہو کہ واشنگٹن ایران کے خلاف جوہری حملے پر غور کر رہا ہے۔
ایران کے بارے میں امریکی انٹیلی جنس نے کیا کہا؟
امریکی انٹیلی جنس کی سابقہ جائزہ رپورٹس میں ایران کی جوہری صلاحیت اور جوہری ہتھیار تیار کرنے کی فعال کوشش کے درمیان فرق واضح کیا گیا ہے۔ امریکی انٹیلی جنس برادری کی ۲۰۲۵ء کی سالانہ خطرات سے متعلق جائزہ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایران جوہری ہتھیار تیار نہیں کر رہا اور اس وقت کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے جوہری ہتھیاروں کے اس پروگرام کو دوبارہ شروع کرنے کی اجازت نہیں دی تھی، جسے انہوں نے ۲۰۰۳ء میں معطل کردیا تھا۔ ۲۰۲۶ء کی سالانہ خطرات سے متعلق جائزہ رپورٹ میں کہا گیا کہ آپریشن ایپک فیوری سے قبل ایران زیادہ جدید اور مؤثر میزائل نظام تیار کرنے کی کوشش کر رہا تھا اور وہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی، یعنی آئی اے ای اے، کے ساتھ اپنے جوہری وعدوں کی پابندی کرنے میں ناکام رہا تھا۔ اس میں اہم جوہری تنصیبات تک رسائی دینے سے انکار بھی شامل تھا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ آپریشن ایپک فیوری شروع ہونے کے بعد امریکی انٹیلی جنس ادارے ایران کی بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے متعلق صلاحیتوں اور سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: حماس کے اعلیٰ سطحی وفد کا مصری حکام کے ساتھ مذاکرات
گرین نے ہیروشیما اور ناگاساکی کا حوالہ دیا
گرین نے مستقبل میں کسی بھی ممکنہ جوہری حملے کے تباہ کن نتائج سے خبردار کرتے ہوئے ۱۹۴۵ء میں امریکہ کی جانب سے ہیروشیما اور ناگاساکی پر کئے گئے ایٹمی حملوں کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا، ’’آخری مرتبہ جوہری ہتھیار ۶؍ اور ۹؍ اگست ۱۹۴۵ء کو جاپان کے دو شہروں، ہیروشیما اور ناگاساکی میں استعمال کئے گئے تھے۔‘‘ انہوں نے ان حملوں کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں اور طویل مدتی انسانی مصائب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اثرات میں تابکاری سے ہونے والی بیماریاں، سرطان کے واقعات میں اضافہ اور پیدائشی نقائص شامل تھے۔ گرین نے مؤقف اختیار کیا کہ ماضی کا یہ تجربہ واضح کرتا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کو دوبارہ کبھی استعمال نہیں کیا جانا چاہئے۔