Inquilab Logo Happiest Places to Work

گرین کارڈ پالیسی تبدیلی سے اہل درخواست دہندگان متاثر نہیں ہوں گے: ٹرمپ انتظامیہ

Updated: May 31, 2026, 8:00 PM IST | Washington

ٹرمپ انتـظامیہ نے ایک بیان میں کہا کہگرین کارڈ پالیسی میں تبدیلی اہل درخواست دہندگان کو متاثر نہیں کرے گی ،لیکن سابق سرکاری وکیل کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی سے اضافی بوجھ پڑنے کا امکان ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

میڈیا رپورٹس کے مطابق، سنیچرکو ٹرمپ انتظامیہ نے حالیہ گرین کارڈ پالیسی میں تبدیلی پر تارکین وطن اور ملازمین کو یقین دہانی کرائی کہ اس سے امریکہ میں مستقل رہائش حاصل کرنے والے اہل درخواست دہندگان کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔سی بی ایس نیوز کے مطابق، یہ وضاحت اس تشویش کے بعد سامنے آئی کہ یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز (USCIS) کی جانب سے جاری کردہ نئی ہدایت لاکھوں گرین کارڈ درخواست دہندگان کو ملک چھوڑنے اور اپنے معاملات بیرون ملک امریکی قونصل خانوں میں مکمل کرنے پر مجبور کر سکتی ہے۔پہلے والی ہدایت میں ’’اسٹیٹس کی ایڈجسٹمنٹ‘‘ نامی عمل کو محدودکردیا گیا ہے، جو رشتہ داروں یا ملازمین کی طرف سے اسپانسر کیے گئے بعض تارکین وطن کو مستقل رہائش کے حصول کے دوران امریکہ میں رہنے کی اجازت دیتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: امریکی عدالت کا ’’ کینیڈی سینٹر‘‘ سے ٹرمپ کا نام ہٹانے کا حکم

امیگریشن وکلاء، کاروباری گروپوں اور تارکین وطن کے حامیوں کی تنقید کے بعد، ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) نے کہا کہ یہ ہدایت محض طویل عرصے سے چلنے والے قانون اور پالیسی کو دہراتی ہے۔ ڈی ایچ ایس کے مطابق، ’’یہ پالیسی کسی بھی ایسے غیر ملکی کو گرین کارڈ حاصل کرنے سے نہیں روکے گی جو جائز اور مناسب طریقے سے اس کا اہل ہو۔

یہ بھی پڑھئے: وہائٹ ہاؤس کی نئی امیگریشن ویب سائٹ، غیر ملکیوں کو ’’ایلین‘‘ کہنے پر تنازع

لیکن USCIS کے سابق چیف کونسل لنڈن میل میڈ نے کہا کہ اس پالیسی سے درخواست دہندگان اور وکلاء پر اضافی بوجھ پڑنے کا امکان ہے، کیونکہ اس کے تحت امریکہ کے اندر یہ عمل مکمل کرنے کے جواز کے لیے مزید ثبوت درکار ہوں گے۔میل میڈ نے کہا، بنیادی پالیسی اب بھی قانونی امیگریشن کو سست کرے گی۔واضح رہے کہ یہ پالیسی تبدیلی ٹرمپ انتظامیہ کی غیر قانونی امیگریشن کے خلاف کریک ڈاؤن اور زیادہ تر عاتیسری دنیا کے  بہت سے ممالک کے شہریوں کو کم قانونی امیگریشن کی اجازت دینے کی کوششوں کا حصہ نظر آتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK