منوج باجپائی نے حال ہی میں اپنی آنے والی نیٹ فلکس فلم’’گھوس خور پنڈت‘‘ سے متعلق ہونے والے تنازع پر کھل کر بات کی ہے۔ اداکار نے انکشاف کیا کہ اس تنازع کے باعث انہیں دھمکیوں، ٹرولنگ اور یہاں تک کہ ان کے خاندان پر ذاتی حملوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
EPAPER
Updated: May 31, 2026, 8:01 PM IST | Mumbai
منوج باجپائی نے حال ہی میں اپنی آنے والی نیٹ فلکس فلم’’گھوس خور پنڈت‘‘ سے متعلق ہونے والے تنازع پر کھل کر بات کی ہے۔ اداکار نے انکشاف کیا کہ اس تنازع کے باعث انہیں دھمکیوں، ٹرولنگ اور یہاں تک کہ ان کے خاندان پر ذاتی حملوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
منوج باجپائی نے حال ہی میں اپنی آنے والی نیٹ فلکس فلم’’گھوس خور پنڈت‘‘ سے متعلق ہونے والے تنازع پر کھل کر بات کی ہے۔ اداکار نے انکشاف کیا کہ اس تنازع کے باعث انہیں دھمکیوں، ٹرولنگ اور یہاں تک کہ ان کے خاندان پر ذاتی حملوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
تنازع کیا ہے؟
یہ پروجیکٹ نیٹ فلکس کی۲۰۲۶ء کی لائن اپ کے حصے کے طور پر اعلان کئے جانے کے فوراً بعد تنقید کی زد میں آ گیا تھا۔ کئی صارفین نے فلم کے عنوان پر اعتراض کیا اور دعویٰ کیا کہ یہ ایک مخصوص کمیونٹی کے جذبات کو ٹھیس پہنچاتا ہے۔ جیسے جیسے تنازع بڑھا، معاملہ عدالت تک پہنچ گیا، جس کے بعد فلم کے تخلیق کاروں نے معافی مانگی اور عوام اور حکام کو یقین دہانی کرائی کہ ریلیز سے پہلے عنوان تبدیل کر دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: گھوس خور پنڈت: سپریم کورٹ نے کہا آزادیٔ اظہار کسی طبقے کی توہین کا لائسنس نہیں
منوج باجپائی کا ردعمل
پی ٹی آئی کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں اداکار نے بتایا کہ انہیں اور ٹیم کو اس قدر شدید ردعمل کی توقع نہیں تھی۔ انہوں نے کہا:’’ہمیں اس کی توقع نہیں تھی۔ لیکن جب یہ ہوا تو دو دن کے اندر ہم نے معافی جاری کر دی۔ اگر کسی چیز سے اتنی شدت سے کسی کے جذبات مجروح ہو رہے ہوں تو ہم تخلیقی لوگ ہمیشہ اپنی غلطی درست کرنے کیلئے تیار رہتے ہیں۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا:’’میری ذاتی رائے میں عنوان تبدیل کرنا کوئی بڑی بات نہیں ہے، ہم تخلیقی لوگ ہیں، ہم دس مختلف نام سوچ سکتے ہیں جو اتنے ہی دلچسپ ہوں گے۔ ‘‘باجپائی کے مطابق اس تنازع نے ٹیم پر جذباتی اثر ضرور ڈالا۔ انہوں نے کہا:’’کیا ہم متاثر ہوئے؟ کچھ وقت کیلئے۔ جب تک ہم نے اپنا بیان جاری نہیں کیا تھا، ہم صورتحال کا جائزہ لے رہے تھے اور زیادہ ذہنی دباؤ میں نہیں آئے تھے۔ ‘‘انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انہیں ذاتی طور پر دھمکیاں ملیں :’’لیکن مجھے بتانا چاہئےکہ جب مجھے دھمکیاں مل رہی تھیں، میں مسلسل سفر کر رہا تھا اور کسی خوف کے بغیر تھا۔ جب لوگ آپ کو ٹرول کر رہے ہوں، گالیاں دے رہے ہوں اور آپ کے خاندان کو اس میں شامل کر رہے ہوں، تو مجھے ان لوگوں کیلئے ہمدردی محسوس ہوتی ہے۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: ’’گھوس خور پنڈت‘‘ تنازع: ایف ڈبلیو آئی سی ای کی پری ریلیز اسکریننگ کی مانگ
لوگوں نے نیت کو غلط سمجھا
انہوں نے مزید کہا کہ بہت سے ردعمل اس وقت آئے جب لوگوں نے فلم کے بارے میں مکمل معلومات حاصل نہیں کی تھیں۔ انہوں نے کہا ’’فلم کسی اور چیز کے بارے میں ہے۔ لیکن آج کل سوشل میڈیا پر لوگ بہت بے صبر ہیں اور بغیر پوری بات سمجھے فوراً اپنی رائے دے دیتے ہیں۔ ‘‘انہوں نے کہا’’میں ایک متجسس اور تعلیم یافتہ انسان ہوں۔ میرے پاس اتنی توانائی اور وقت نہیں کہ میں ایسے لوگوں سے بحث کروں جو بغیر سمجھے رائے دے رہے ہوں۔ اس لئے ان سے بحث نہیں کرنی چاہئے۔ ایسے لوگوں کے ساتھ بحث میں نہیں پڑنا چاہئے جو آپ کو کیچڑ میں گھسیٹنا چاہتے ہیں۔ ‘‘
فلم کے بارے میں
فلم کا مرکزی خیال دوسرا موقع اور اجے دکشت کی خود کو سدھارنے کی کہانی پر مرکوز ہے، بجائے اس کے کہ وہ اپنی خراب شہرت کے سائے میں جییں۔ فلم کی ہدایت کاری ریتیش شاہ نے کی ہے اور یہ نیرج پانڈے کے زیرِ پیشکش ہے۔ منوج باجپائی کے ساتھ نُشرت بھروچا، ثاقب سلیم، کیکو شاردا، دویا دتہ، اکشے اوبیرائےاور شر دھا داس بھی شامل ہیں۔