Updated: September 15, 2026, 10:23 PM IST
| Los Angeles
امریکی صدر نے اے آئی ڈیٹا سینٹرز کی اہمیت کا موازنہ تیل سے کرتے ہوئے پیشین گوئی کی کہ ڈیٹا سینٹرز اگلے دو دہائیوں میں معاشی ترقی کا محور ہوں گے۔ انہوں نے اس ٹیکنالوجی کے مجموعی اثرات کو خود انٹرنیٹ سے بھی بڑا قرار دیا۔ انہوں نے دلیل دی کہ جو بھی قوم اے آئی میں برتری حاصل کرے گی، وہ عالمی سطح پر فیصلہ کن غلبہ رکھے گی۔
ڈونالڈ ٹرمپ اور جینسن ہوانگ۔ تصویر: ایکس
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پیر کے روز لاس اینجلس میں `آل-اِن سمٹ‘ (All-In Summit) میں ایک پینل مباحثے کے دوران این ویڈیا کے سی ای او جینسن ہوانگ کو غیر متوقع طور پر لائیو فون کال کیا، جس پر ہوانگ نے اسٹیج پر ہی کال وصول کی اور صدر کو سامعین کیلئے اسپیکر آن کردیا۔ کال وصول کرتے ہوئے ہوانگ نے ٹرمپ کو بتایا کہ جب یہ کال آئی تو وہ دیگر پینلسٹس کے ساتھ اسٹیج پر موجود تھے۔ ٹرمپ نے ہوانگ کے ساتھ ہلکے پھلکے طنزیہ انداز میں جواب دیا کہ اگرچہ ہوانگ دنیا کی جدید ترین کمپیوٹر چپ ڈیزائن کرسکتے ہیں جس کا ایک دہائی تک کوئی ثانی نہیں، لیکن وہ اب بھی یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ انہیں اسپیکر پر کیسے ڈالا جائے۔
یہ بھی پڑھئے: اے آئی انسانوں کے کنٹرول میں نہ رہے تو اس کی ترقی بے معنی ہے: مائیکروسافٹ سربراہ نڈیلا
پھر ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے وسیع تر خدشات پر اپنی بات رکھی اور اے آئی کے خطرات سے متعلق پریشانیوں کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کر دیا۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ امریکی اے آئی کی ترقی کی رفتار سست ہونے سے صرف چین کو فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے اس ٹیکنالوجی سے متعلق خوف کو ”تقریباً ایک سازش“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”میں آپ کو بتا رہا ہوں، یہ سب ایک ڈھونگ ہے۔“
صدر نے اے آئی ڈیٹا سینٹرز کی اہمیت کا موازنہ تیل سے کرتے ہوئے پیش گوئی کی کہ ڈیٹا سینٹرز اگلے دو دہائیوں میں معاشی ترقی کا محور ہوں گے۔ انہوں نے اس ٹیکنالوجی کے مجموعی اثرات کو خود انٹرنیٹ سے بھی بڑا قرار دیا۔ انہوں نے دلیل دی کہ جو بھی قوم اے آئی میں برتری حاصل کرے گی، وہ عالمی سطح پر فیصلہ کن غلبہ رکھے گی۔
یہ بھی پڑھئے: مسک نے اے آئی کی ترقی سست کرنے کی حمایت کی پرانی وارننگ پھر یاد دلائی
حفاظتی خدشات کا براہِ راست حوالہ دیتے ہوئے، ٹرمپ نے اس خیال کو مسترد کر دیا کہ اے آئی سسٹمز کوئی وجودی خطرہ (existential threat) ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ روبوٹس ”دنیا پر قبضہ نہیں کریں گے۔“ انہوں نے ایسے خدشات کو مبالغہ آرائی پر مبنی قرار دیا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ کچھ احتیاط اب بھی ضروری ہے لیکن اس بات پر اصرار کیا کہ اس کا مطلب صنعت کی ترقی کو روکنا نہیں ہونا چاہئے۔ ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کے ناقدین نادانستہ طور پر چین کے مفادات کی مدد کر رہے ہیں۔ ایسی مخالفت ان لوگوں کے کام آتی ہے جو امریکی اے آئی کی ترقی کو کامیاب ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے۔
یہ بھی پڑھئے: اے آئی میں ہم سب کو مارنے کی صلاحیت ہے: سابق ڈیپ مائنڈ محقق بلال چغتائی
ہوانگ نے ٹرمپ سے اتفاق کرتے ہوئے جواب دیا اور کہا کہ مقصد یہ ہے کہ جیسے جیسے اے آئی ترقی کرے، امریکی صنعت، کاروباری اداروں، ریاستوں اور افراد کی کامیابی کو یقینی بنایا جائے۔ این ویڈیا اے آئی ڈیٹا سینٹرز کو چلانے کیلئے درکار اعلیٰ کارکردگی والے GPUs کے ایک سرکردہ مینوفیکچرر کے طور پر اے آئی کے شعبے میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مصنوعی ذہانت ہم سب کو ہلاک کر سکتی ہے: اے آئی کے حفاظتی خدشات پر اینتھروپک کے محقق نے استعفیٰ دیا
یہ گفتگو خود اے آئی کے میدان سے سامنے آنے والے حالیہ بیانات کے بعد اے آئی کی حفاظت پر جاری گرما گرم بحث کے دوران سامنے آئی ہے۔ حال ہی میں اینتھروپک کے ایک سابق محقق کے وجودی خطرات سے متعلق انتباہی ریمارکس اور اینتھروپک کی سیفٹی قیادت کی طرف سے ایسے ہی خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔ ٹرمپ ماضی میں بھی ایسے انتباہات کو مسترد کر چکے ہیں۔ ایک موقع پر انہوں نے اس معاملے پر حد سے زیادہ محتاط رویہ اپنانے پر اینتھروپک کے سی ای او پر تنقید کی تھی اور اس موضوع پر صنعتی لیڈران کے ساتھ حالیہ بات چیت کے باوجود اے آئی کی ترقی پر وفاقی ضوابط نافذ کرنے کے مطالبات کی اب تک مزاحمت کرتے رہے ہیں۔