Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ کا دعویٰ: وہائٹ ہاؤس کے نیچے فوجی کمپلیکس زیر تعمیر

Updated: March 30, 2026, 10:11 PM IST | Washington

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ وہائٹ ہاؤس کے نئے بال روم کے نیچے ایک بڑا فوجی کمپلیکس تعمیر کیا جا رہا ہے، جو مقررہ وقت سے پہلے مکمل ہونے کے قریب ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ مکمل طور پر نجی فنڈنگ سے ہو رہا ہے اور اس میں سرکاری رقم استعمال نہیں کی گئی۔

Donald Trump. Photo: INN
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اتوار کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج وہائٹ ہاؤس کے نئے تعمیر ہونے والے بال روم کے نیچے ایک ’’بڑا کمپلیکس‘‘ تیار کر رہی ہے۔ انہوں نے ایئر فورس ون میں سوار صحافیوں کو بتایا کہ ’’فوج بال روم کے نیچے ایک بڑے کمپلیکس کی تعمیر کر رہی ہے، اور یہ زیر تعمیر ہے، اور ہم بہت اچھا کام کر رہے ہیں، اس لیے ہم مقررہ وقت سے پہلے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ اس کا حصہ ہے؛ بال روم بنیادی طور پر ایک شیڈ بن جاتا ہے جس کے نیچے بنایا جا رہا ہے۔‘‘
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب وہائٹ ہاؤس کے انفراسٹرکچر میں ممکنہ توسیع اور سیکوریٹی اپ گریڈ پر پہلے ہی بحث جاری ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ہندوستان جانیوالے مزید ۲؍ ایل پی جی ٹینکرز بحفاظت آبنائے ہرمز سے گزر گئے

بال روم منصوبہ: لاگت اور ڈیزائن
ٹرمپ نے گزشتہ سال وہائٹ ہاؤس میں ۹۰؍ ہزار مربع فٹ کے ایک نئے بال روم کی تعمیر کا اعلان کیا تھا، جس کی لاگت تقریباً ۴۰۰؍ ملین ڈالر بتائی گئی۔ انہوں نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ اس منصوبے میں ’’سرکاری رقم کا ایک پیسہ بھی شامل نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’ہم مقررہ وقت سے پہلے اور بجٹ کے تحت ہیں۔ تمام رقم میں نے اور عطیہ دہندگان نے ادا کی ہے۔‘‘ صدر کے مطابق، اس عمارت میں جدید سیکوریٹی خصوصیات شامل ہوں گی، جن میں ’’بلٹ پروف شیشہ‘‘ اور ’’ڈرون پروف چھتیں‘‘ شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہر چیز ڈرون پروف اور بلٹ پروف ہے، اور بدقسمتی سے، ہم ایک ایسے دور میں رہ رہے ہیں جہاں یہ اچھی بات ہے۔‘‘

ممکنہ مقصد: سیکوریٹی یا اسٹریٹجک انفراسٹرکچر؟
اگرچہ ٹرمپ نے کمپلیکس کی مکمل نوعیت کی وضاحت نہیں کی، تاہم ماہرین کے مطابق وہائٹ ہاؤس کے نیچے کسی بڑے کمپلیکس کی تعمیر کئی مقاصد کے لیے ہو سکتی ہے، جن میں ایمرجنسی کمانڈ سینٹرز، سیکوریٹی بنکرز یا حساس آپریشنز کے لیے محفوظ سہولیات شامل ہو سکتی ہیں۔ ماضی میں بھی وہائٹ ہاؤس کے نیچے خفیہ بنکرز اور ایمرجنسی آپریشن سینٹرز کی موجودگی کی اطلاعات رہی ہیں، خاص طور پر سرد جنگ کے دور سے لے کر جدید دور تک، جب سیکوریٹی خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ میں عیسائیوں کی پام سنڈے پر عبادت، نسل کشی کے درمیان امن کی دعائیں

سیاسی اور عوامی ردعمل
ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سیاسی حلقوں اور عوامی سطح پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ کچھ حلقے اس اقدام کو بڑھتے ہوئے عالمی خطرات کے پیش نظر ایک ضروری سیکوریٹی اپ گریڈ قرار دے رہے ہیں، جبکہ ناقدین اس منصوبے کی شفافیت، فنڈنگ اور اس کے حقیقی مقصد پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ خاص طور پر یہ سوال زیر بحث ہے کہ اگر یہ منصوبہ مکمل طور پر نجی فنڈنگ سے ہو رہا ہے تو اس کی نگرانی اور احتساب کس طرح کیا جا رہا ہے، اور کیا یہ قومی سلامتی کے معاملات میں نجی اثر و رسوخ کو بڑھا سکتا ہے۔

وسیع تر تناظر: بدلتی عالمی سیکوریٹی صورتحال
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر سیکوریٹی خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے، خاص طور پر ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر حملوں اور جدید جنگی طریقوں کے باعث۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اہم حکومتی عمارتوں کو ڈرون پروف اور بلٹ پروف بنانے کا رجحان دنیا بھر میں بڑھ رہا ہے، اور یہ منصوبہ بھی اسی وسیع تر رجحان کا حصہ ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: وینزویلا کے سابق صدر نے امریکی حراست سے پہلا پیغام جاری کیا

سوالات ابھی باقی ہیں
اگرچہ صدر ٹرمپ نے منصوبے کو ایک کامیاب اور تیز رفتار تعمیراتی عمل قرار دیا ہے، تاہم کمپلیکس کی نوعیت، اس کے استعمال اور اس کے طویل مدتی اثرات کے بارے میں کئی سوالات ابھی باقی ہیں۔ یہ منصوبہ نہ صرف سیکوریٹی بلکہ حکومتی شفافیت، فنڈنگ اور اختیارات کے حوالے سے بھی مستقبل میں مزید بحث کو جنم دے سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK