• Fri, 25 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

یو پی آئی پرایم ڈی آر فیس صارف نہیں تاجر دیں گے: سیتارمن

Updated: September 25, 2026, 6:59 PM IST | New Delhi

۱۵؍ اکتوبر سے ۲؍ ہزار روپے سے زیادہ کی مخصوص یو پی آئی ادائیگیوں پر ۴ء۰؍ فیصد ایم ڈی آر نافذ ہوگا، تاہم حکومت کے مطابق یہ رقم صارف سے وصول نہیں کی جائے گی اور چھوٹے تاجروں سمیت تقریباً ۹۶؍ فیصد تاجر ادائیگیاں اس سے متاثر نہیں ہوں گی۔

Nirmala Sitharaman. Photo: INN.
نرملا سیتارمن۔ تصویر: آئی این این

مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے جمعہ کو واضح کیا کہ ۱۵؍ اکتوبر سے مخصوص زیادہ مالیت کی یو پی آئی ادائیگیوں پر عائد ہونے والی مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ (ایم ڈی آر) صارفین سے وصول نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیس تاجر ادا کریں گے اور اسے صارفین پر منتقل نہیں کیا جائے گا۔ سیتارمن نے اس اعتراض کو بھی مسترد کیا کہ نئی فیس دراصل ٹیکس یا سرچارج ہے۔ سیتارمن کے مطابق یہ رقم حکومت کے کنسولیڈیٹڈ فنڈ میں نہیں جائے گی۔ انہوں نے کہا، ’’یہ ٹیکس نہیں ہے، یہ سیس نہیں ہے اور نہ ہی سرچارج ہے۔‘‘ ان کے مطابق ایم ڈی آر سے حاصل ہونے والی رقم ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کے اندر ہی رہے گی اور اس میں بینکوں، ادائیگی کی خدمات فراہم کرنے والے اداروں اور دیگر متعلقہ فریقوں کو حصہ ملے گا۔

یہ بھی پڑھئے: ترنمول کانگریس کے نام ونشان کا معاملہ، الیکشن کمیشن کو وقت مقرر کرنے کی ہدایت

نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا (این پی سی آئی) کے ۱۵؍  ستمبر کے اعلان کے مطابق ۱۵؍ اکتوبر سے ۲؍ ہزار روپے سے زیادہ کی مخصوص شخص سے تاجر کو ہونے والی یو پی آئی ادائیگیوں پر ۴ء۰؍ فیصد ایم ڈی آر عائد ہوگا۔ مثال کے طور پر ۱۰؍ ہزار روپے کی اہل ادائیگی پر تاجر کو ۴۰؍ روپے ایم ڈی آر ادا کرنا ہوگا۔ ۷۵؍ ہزار روپے یا اس سے زیادہ کی ادائیگی پر یہ رقم زیادہ سے زیادہ ۳۰۰؍ روپے تک محدود رہے گی۔ دوسری جانب شخص سے شخص کو رقم منتقل کرنے والی تمام یو پی آئی ادائیگیاں بدستور مفت رہیں گی، خواہ رقم کتنی ہی ہو۔ ۲؍ ہزار روپے تک کی تاجر کو کی جانے والی ادائیگیوں پر بھی ایم ڈی آر نہیں ہوگا۔ حکومت کے مطابق چھوٹے تاجر جو یو پی آئی کیو آر کے ذریعے ماہانہ ایک لاکھ روپے تک وصول کرتے ہیں، انہیں بھی ایم ڈی آر سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ نے شام کو پانچ ملین ڈالر مالیت کے مسروقہ نوادرات واپس کر دئے

حکومت کا کہنا ہے کہ اعداد و شمار کے مطابق تقریباً ۹۶؍ فیصد تاجر سے متعلق یو پی آئی لین دین نئی ایم ڈی آر فیس سے متاثر نہیں ہوں گے۔ وزارت خزانہ کے مطابق ایم ڈی آر صرف مخصوص ۲؍ ہزار روپے سے زیادہ کی ادائیگیوں پر لاگو ہوگا، جبکہ صارفین کو یو پی آئی کے ذریعے رقم ادا کرنے پر الگ سے کوئی لین دین فیس نہیں دینی ہوگی۔ نئی فیس کا مقصد یو پی آئی کے ڈجیٹل ادائیگی نظام کو طویل مدت تک برقرار رکھنے کے لیے اس میں شامل اداروں کے اخراجات اور سرمایہ کاری کے لیے آمدنی کا ذریعہ فراہم کرنا بتایا گیا ہے۔ سیتارمن نے کہا کہ تاجروں سے پہلے ہی کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے ادائیگی قبول کرنے پر ایم ڈی آر لیا جاتا ہے، جبکہ یو پی آئی میں طویل عرصے سے ایسا کوئی تجارتی ماڈل موجود نہیں تھا۔ نئی تقسیم کے تحت ایم ڈی آر سے حاصل ہونے والی رقم کا ۴۰؍ فیصد صارف کے بینک، ۳۰؍ فیصد ادائیگی کے گیٹ وے، ۲۰؍ فیصد یو پی آئی ایپ اور ۱۰؍ فیصد ایپ کے اسپانسر بینک کو دینے کی تجویز ہے۔ اس رقم کو ٹیکنالوجی کے بنیادی ڈھانچے، نظام کی بہتری اور ڈیجیٹل ادائیگیوں میں جدت کے لیے استعمال کیے جانے کی بات بھی کہی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ نے انڈیا مڈل ایسٹ یورپ اقتصادی راہداری کی حمایت کردی

کچھ مخصوص شعبوں کے لیے عام ۴ء۰؍ فیصد شرح کے بجائے الگ فیس مقرر کی گئی ہے۔ ریلوے، ٹیلی کام، ایندھن، انشورنس اور بعض دیگر ضروری خدمات میں ۲؍ ہزار روپے سے زیادہ کی متعلقہ ادائیگیوں پر۵؍ روپے کی مقررہ فیس رکھی گئی ہے۔ سرمایہ بازار سے متعلق بعض ادائیگیوں پر ۰۲ء۰؍ فیصد کی شرح ہوگی، جس کی زیادہ سے زیادہ حد ۳۰۰؍ روپے رکھی گئی ہے۔ وزارت خزانہ نے بینکوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ تاجر ایم ڈی آر کی رقم صارفین پر منتقل نہ کریں۔ حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ عام صارفین کے لیے یو پی آئی استعمال کرنے پر کوئی ماہانہ حد یا اضافی پلیٹ فارم فیس عائد نہیں کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھئے: کھانے کا تیل سستا ہوگا، کسٹم ڈیوٹی میں کمی

تاہم نئی فیس کے اعلان کے بعد تاجروں کی جانب سے اس پر تشویش بھی سامنے آئی ہے۔ ٹریڈرز کی ایک تنظیم نے ۲۵؍ ستمبر کو حکومت سے ایم ڈی آر واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بڑے لین دین پر اضافی لاگت سے تاجروں کے لیے یو پی آئی کے استعمال پر نظرثانی کا امکان پیدا ہوسکتا ہے۔ تنظیم کے مطابق تقریباً ۶؍ کروڑ دکاندار اور تاجر اس تبدیلی سے متاثر ہوسکتے ہیں، اگرچہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق زیادہ تر تاجر لین دین ایم ڈی آر کے دائرے میں نہیں آئے گا۔ این پی سی آئی نے ۱۵؍ ستمبر کو جاری کردہ نئے فریم ورک میں واضح کیا تھا کہ ایم ڈی آر صرف مخصوص تاجر ادائیگیوں کے لیے ہوگا۔ محکمہ مالیاتی خدمات نے اسی روز اس سلسلے میں تفصیلی سوال و جواب بھی جاری کیے، جس میں نئی شرح، استثنیٰ اور صارفین پر فیس منتقل کرنے سے متعلق قواعد بیان کیے گئے ہیں۔ نئی ایم ڈی آر کا نفاذ ۱۵؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء سے ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK