• Fri, 25 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ کی آئی سی سی پابندیوں کو ۳۸؍حقوق گروپوں کا امریکی عدالت میں چیلنج

Updated: September 25, 2026, 6:00 PM IST | Washington

ٹرمپ کی آئی سی سی پابندیوں کو ۳۸؍حقوق گروپوں نے امریکی عدالت میں چیلنج کیا ہے، ساتھ ہی خبردار کیا ہے کہ یہ پابندیاں متاثرین کے لیے خوفناک اثرات پیدا کر رہی ہیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

ایمنسٹی انٹرنیشنل، انٹرنیشنل فیڈریشن فار ہیومن رائٹس (ایف آئی ڈی ایچ) اور۳۶؍ دیگر سول سوسائٹی تنظیموں نے انٹرنیشنل کریمنل کورٹ (آئی سی سی) پر ٹرمپ انتظامیہ کی پابندیوں کو چیلنج کرتے ہوئے ایک مشترکہ عدالتی تحریر جمع کرائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ مہم براہ راست نشانہ بنائے گئے اہلکاروں سے کہیں زیادہ نقصان پہنچا رہی ہے۔ ان گروپوں نے۲۲؍ ستمبر کو امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ برائے سدرن ڈسٹرکٹ آف نیو یارک میں ایک امیکس کیوریہ (عدالت کا دوست) تحریر جمع کرائی۔ یہ امریکن فرینڈز سروس کمیٹی، سینٹر فار کنسٹیٹوشنل رائٹس، ہیومن رائٹس واچ اور اوپن سوسائٹی انسٹیٹیوٹ کے دائر کردہ مقدمے کی حمایت کرتی ہے۔ یہ مقدمہ ایگزیکٹو آرڈر۱۴۲۰۳؍ کے تحت عائد پابندیوں کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرتا ہے، جنہوں نے آئی سی سی کے پراسیکیوٹرز اور ججوں، اقوام متحدہ کے ایک انسانی حقوق کے ماہر، اور تین فلسطینی انسانی حقوق گروپوں کو نشانہ بنایا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: سلامتی کونسل میں اے آئی لیڈران کا انتباہ: دنیا اے آئی پر کنٹرول کھو سکتی ہے

بعد ازاں ایف آئی ڈی ایچ کے صدر الیکسس ڈیسویف نے کہا، ’’ہر اس سول سوسائٹی تنظیم کے پیچھے جسے خاموش کر دیا جا رہا ہے یا آئی سی سی سے دور دھکیلا جا رہا ہے، متاثرین اور بچ جانے والے موجود ہیں جو انصاف کا انتظار کر رہے ہیں۔ یہ پابندیاں ان لوگوں اور تنظیموں کے نیٹ ورکس کو تباہ کر رہی ہیں جو ان متاثرین کے ساتھ کھڑے ہیں جو عدالت کے سامنے اپنی کہانیاں اور شواہد پیش کرتے ہیں، اور براہ راست نشانہ بنائے گئے افراد سے کہیں زیادہ خوف پھیلا رہی ہیں۔‘‘ مزید برآں ایمنسٹی کے سیکرٹری جنرل ایگنیس کالامارڈ نے کہا، ’’جیسے ہی ٹرمپ انتظامیہ آئی سی سی اور اس کے کام کے لیے ضروری سول سوسائٹی تنظیموں پر اپنے حملے تیز کر رہی ہے، یہ انتہائی اہم ہے کہ امریکی فیڈرل کورٹ کو یہ واضح کیا جائے کہ پابندیاں عالمی سول سوسائٹی، بین الاقوامی قانون کے تحت جرائم کے متاثرین اور بچ جانے والوں، اور بین الاقوامی انصاف کے تصور ہی کو کس طرح نقصان پہنچا رہی ہیں۔‘‘ 
دریں اثناء تحریر میں دلیل دی گئی ہے کہ یہ پابندیاں ان سول سوسائٹی نیٹ ورکس کو توڑ رہی ہیں جن پر آئی سی سی انحصار کرتی ہے۔ وکلاء، متاثرین کے نمائندے اور بچ جانے والوں کے وکلاء متاثرین اور گواہوں کو عدالت سے جوڑتے ہیں، ظلم و ستم کے جرائم کی دستاویز کرتے ہیں، متاثرین کی شرکت اور معاوضے کی حمایت کرتے ہیں، اور قانونی اور ثقافتی مہارت فراہم کرتے ہیں۔ وہ ملکی تفتیش اور مقدمات کو بھی آگے بڑھاتے ہیں، خاص طور پر جہاں عدالت کی رسائی محدود ہو۔دوم، گروپوں کا استدلال ہے کہ ایگزیکٹو آرڈر۱۴۲۰۳؍ تنظیموں اور افراد پر شدید مالی اور قانونی پابندیاں لگا کر آزادی اظہار اور انجمن کی آزادی کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: وہائٹ ہاؤس: پریس پر پابندی، جج نے ٹرمپ انتظامیہ کے طریقۂ کار پر سوال اٹھایا

مزید برآں تحریر کے مطابق، نامزد اداروں نے پہلے ہی فنڈنگ، عملہ، بینکنگ رسائی اور شراکت داریاں کھو دی ہیں۔ دیگر تنظیموں کو آئی سی سی کے ساتھ مشغولیت سے روک دیا گیا ہے، اور بہت سے گروپوں کے درمیان تعلقات متاثر ہوئے ہیں۔ دستخط کنندگان اس نقصان کو قابل پیمائش اور ناقابل تلافی قرار دیتے ہیں، جو سول سوسائٹی، آئی سی سی، بین الاقوامی فوجداری انصاف کے نظام، اور بالآخر ان متاثرین کو متاثر کرتا ہے جن کی خدمت کے لیے یہ نظام موجود ہے۔ تاہم عدالت نے ابھی اس چیلنج پر فیصلہ نہیں دیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK