Updated: August 17, 2026, 2:09 PM IST
| Washington
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مکہ معاہدے پر دستخط کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ’’بڑا، جرات مندانہ اور اہم پہلا قدم‘‘ قرار دیا ہے، ٹرمپ نے کہا کہ یہ معاہدہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ متحد ہو رہا ہے اور خطے کے ممالک زیادہ مؤثر انداز میں اپنے دفاع کے قابل ہوں گے، تینوں ممالک نے ۷ اگست ۲۰۲۶ء کو مکہ مکرمہ میں سہ فریقی سربراہی اجلاس کے دوران معاہدے پر دستخط کئے، جس کے تحت مشترکہ سلامتی، دفاعی تعاون اور علاقائی امن و استحکام کو مزید مضبوط بنانے کا عزم کیا گیا ہے۔
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کی جانب سے ’’مکہ معاہدے‘‘ پر دستخط کا خیرمقدم کیا ہے۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا، ’’مجھے یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نے حال ہی میں، اور بالآخر، مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کئے ہیں۔‘‘ ٹرمپ نے کہا کہ یہ معاہدہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ’’مشرقِ وسطیٰ کس طرح متحد ہو رہا ہے اور ممالک آخرکار زیادہ مؤثر انداز میں اپنے دفاع کے قابل ہوں گے۔‘‘ انہوں نے تینوں ممالک کی قیادت کو مبارک باد دیتے ہوئے مزید کہا، ’’یہ ایک بڑا، جرات مندانہ اور اہم پہلا قدم ہے، واہ!‘‘
مشترکہ تزویراتی مفادات
ترکی، سعودی عرب اور پاکستان نے ۷ اگست ۲۰۲۶ء کو مکہ مکرمہ میں منعقدہ سہ فریقی سربراہی اجلاس کے دوران دفاعی معاہدے پر دستخط کئے۔ اس معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے مشترکہ سلامتی کو مضبوط بنانے، دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے اور خطے سمیت عالمی سطح پر امن و استحکام کے فروغ کے عزم کا اظہار کیا۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے اس معاہدے کو بدلتے ہوئے علاقائی حالات کے تناظر میں ’’تزویراتی عزم‘‘ کی علامت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سہ فریقی تعاون کا طریقۂ کار روزمرہ کی پیش رفت یا کسی فوری واقعے کے ردعمل کے طور پر قائم نہیں کیا گیا۔ اردگان نے مزید کہا، ’’ترکی نے ہمیشہ کشیدگی کے مقابلے میں سفارت کاری، تنازع کے مقابلے میں مکالمے اور تقسیم کے مقابلے میں مضبوط علاقائی تعاون کو ترجیح دی ہے۔ ایک ایسے ملک کی حیثیت سے جو تمام فریقوں سے بات کرنے اور مشکل معاملات میں ضرورت پڑنے پر ذمہ داری قبول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، ہم اپنے خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے قیام کیلئے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: حماس کے اعلیٰ سطحی وفد کا مصری حکام کے ساتھ مذاکرات
مکہ معاہدہ
’’مکہ معاہدے‘‘ کے تحت تینوں ممالک اس بات کے پابند ہوں گے کہ ان میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملے کو تینوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ معاہدے میں دفاع کے تقریباً تمام شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ یہ معاہدہ طویل عرصے سے موجود اسلامی یکجہتی کے روابط اور مشترکہ تزویراتی مفادات کی بنیاد پر قائم کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد تینوں ممالک کی اجتماعی دفاعی صلاحیت اور بازدار قوت کو مضبوط بنانا، علاقائی استحکام کو فروغ دینا اور ایک زیادہ محفوظ مستقبل کی بنیاد رکھنا ہے۔ واضح ہو کہ معاہدے میں کسی بیرونی ملک کو ہدف بنانے کی بات نہیں کی گئی، بلکہ اس کا بنیادی مقصد تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، مشترکہ سلامتی اور علاقائی استحکام کو مزید مضبوط بنانا قرار دیا گیا ہے۔