Updated: May 18, 2026, 9:11 PM IST
| Washington/Tehran/Tel Aviv
اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو نے اتوار کو ایک فون کال کے دوران ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی شروع کرنے کے امکان پر تبادلہ خیال کیا۔ چینل ۷ کے مطابق، یہ کال ۳۰ منٹ سے زیادہ جاری رہی اور اس کا موضوع ”ایران میں دوبارہ لڑائی شروع کرنے کا امکان“ تھا۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کو تازہ انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کے پاس امریکی مطالبات کا جواب دینے کیلئے ”وقت تیزی سے نکل رہا ہے۔“ انہوں نے ایران پر معاہدہ کرنے پر زور دیا اس سے پہلے کہ ”ملک کا نام و نشان بھی باقی نہ رہے۔“ اتوار کے دن ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے لکھا کہ ”ایران کیلئے وقت تیزی سے نکل رہا ہے۔ ان کیلئے بہتر ہوگا کہ وہ تیزی سے، بہت تیزی سے پیش رفت کریں، ورنہ ان کا نام و نشان بھی باقی نہیں رہے گا۔ وقت کی اہمیت بہت زیادہ ہے!“
ٹرمپ کا یہ بیان، واشنگٹن اور تہران کے درمیان تعطل کا شکار جنگ بندی مذاکرات پر بڑھتی کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے۔ امریکہ نے مطالبہ کیا ہے کہ ایران یورینیم کی افزودگی روک دے، افزودہ جوہری مواد امریکہ کے حوالے کردے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولے۔ ٹرمپ کا یہ انتباہ ان کے اس پرانے بیان کے بعد آیا ہے جس میں انہوں نے ایران کی تازہ ترین تجویز کو ”ناقابلِ قبول“ قرار دے کر مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ موجودہ جنگ بندی ”لائف سپورٹ“ پر ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران پر ممکنہ نئے حملوں کی خبروں پر تشویش کی لہر
اتوار کو وہائٹ ہاؤس سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق، ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر کے حالیہ بیجنگ دورے کے دوران ایران معاملے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ دونوں لیڈران نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ایران ”جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا۔“ انہوں نے آبنائے ہرمز کو بغیر کسی ٹیکس یا پابندی کے دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب، ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے اس جنگ کو دوبارہ شروع کیا تو اسے کو شدید معاشی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ عراقچی نے کہا کہ ”اصل تکلیف تب شروع ہوگی جب امریکی قرضے اور رہن کی شرحِ سود میں تیزی سے اضافہ ہونے لگے گا۔“
یہ بھی پڑھئے: ایرانی لفٹر کا عالمی ریکارڈ، تمغہ میزائل حملے میں فوت بچوں کے نام کیا
ٹرمپ اور نیتن یاہو کا دوبارہ جنگ شروع کرنے کے امکان پر تبادلہ خیال
اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجامن نیتن یاہو نے اتوار کو ایک فون کال کے دوران ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی شروع کرنے کے امکان پر تبادلہ خیال کیا۔ چینل ۷ کے مطابق، یہ کال ۳۰ منٹ سے زیادہ جاری رہی اور اس کا موضوع ”ایران میں دوبارہ لڑائی شروع کرنے کا امکان“ تھا۔ اسرائیلی روزنامہ یدیعوت احرونوت نے رپورٹ کیا کہ یہ گفتگو اسرائیل کی سلامتی کابینہ کے اجلاس سے کچھ دیر پہلے ختم ہوئی، جہاں ایران فائل پر بحث متوقع تھی۔ اخبار نے ایک گمنام اسرائیلی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ ”ٹرمپ کو فیصلہ کرنا ہے۔ اگر وہ دشمنی دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو امکان ہے کہ اسرائیل کو بھی شامل ہونے کیلئے کہا جائے گا۔“
یہ بھی پڑھئے: کانز ۲۰۲۶ء: ہاویئر بارڈیم کی ٹرمپ، نیتن یاہو، پوتن پر شدید تنقید
پاکستان کی ایران-امریکہ مذاکرات کے دوسرے دور کیلئے کوششیں
پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کو اب بھی امید ہے کہ اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا دوسرا دور ہوسکتا ہے۔ دی ٹائمز (The Times) سے گفتگو کرتے ہوئے شریف نے کہا کہ اسلام آباد خطے میں ”مستقل امن کے حصول کے بارے میں پرامید ہے“ اور مذاکرات میں سہولت کاری کیلئے ہر ممکن کوشش کرے گا۔ پاکستانی وزیر اعظم کا یہ بیان، ان رپورٹس کے درمیان سامنے آیا ہے جن میں بتایا جارہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایک نئی مجوزہ فوجی کارروائی کے تحت ایران پر نئے حملے شروع کرسکتی ہے، جس کا مبینہ عنوان ”آپریشن سلیج ہیمر“ (Operation Sledgehammer) رکھا گیا ہے۔