Updated: January 29, 2026, 7:07 PM IST
| New York
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اعلیٰ معاون اسکاٹ بیسنٹ نے ہندوستان کے ساتھ نئے آزاد تجارتی معاہدے پر یورپی یونین کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے اس معاہدے کو ’’مایوس کن‘‘ قرار دیا اور یورپ پر الزام لگایا کہ وہ اصولوں کے بجائے تجارت کو ترجیح دے رہا ہے۔
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر:آئی این این
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اعلیٰ معاون اسکاٹ بیسنٹ نے ہندوستان کے ساتھ نئے آزاد تجارتی معاہدے پر یورپی یونین کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے اس معاہدے کو ’’مایوس کن‘‘ قرار دیا اور یورپ پر الزام لگایا کہ وہ اصولوں کے بجائے تجارت کو ترجیح دے رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اعلیٰ معاون نے بدھ کو ہندوستان کے ساتھ حال ہی میں طے پانے والے یورپی یونین کے ’’مدر آف آل ڈیلز‘‘ معاہدے پر سخت ردِعمل دیا۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ وہ یورپ کے رویے سے’’انتہائی مایوس‘‘ ہیں اور یورپی بلاک پر الزام عائد کیا کہ وہ اپنے سیاسی اصولوں پر تجارت کو فوقیت دے رہا ہے۔یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب ایک دن قبل ہندوستان اور یورپی یونین نے ایک ایسے تاریخی آزاد تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دی جسے دونوں فریقین نے غیر معمولی قرار دیا جبکہ یورپی کمیشن کی صدر اُرسلاولا فان ڈیر لیئن نے اسے ’’مدر آف آل ڈیلز‘‘ کا نام دیا۔
روسی تیل اور مبینہ دُہرا معیار
سی این بی سی کو دیئے جانے والے ایک انٹرویو میں بیسنٹ نے دعویٰ کیا کہ یورپی ممالک ہندوستان میں روسی تیل سے تیار کی گئی مصنوعات خرید رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ یورپی یونین نے ہندوستانی مصنوعات پر زیادہ ٹیرف عائد کرنے کے معاملے میں امریکہ کا ساتھ اس لیے نہیں دیا کیونکہ وہ ہندوستان کے ساتھ تجارتی معاہدے پر مذاکرات میں مصروف تھی۔
یہ بھی پڑھئے:ٹی ۲۰؍ ورلڈکپ:ہندوستان خطاب کا سب سے بڑا دعویدار ہے: شاستری
بیسنٹ نے کہا کہ ’’انہیں وہی کرنا چاہیے جو ان کے اپنے مفاد میں ہو اس کے باوجود میں یہ ضرور کہوں گا کہ میں یورپیوں سے بہت مایوس ہوں۔‘‘انہوں نے اس طرزِعمل کو یورپ کی جانب سے’’اپنے ہی خلاف جنگ کی مالی معاونت قرار دیا‘‘ اور کہا کہ اگرچہ یورپ اس تنازع کا سب سے زیادہ خمیازہ بھگت رہا ہے، اس کے باوجود وہ روس پر معاشی دباؤ بڑھانے کے بجائے تجارتی تعلقات کو ترجیح دے رہا ہے۔
یہ تبصرے واشنگٹن میں یورپ کے ہندوستان اور روس دونوں کے ساتھ معاشی تعلقات پر بڑھتی ہوئی مایوسی کی عکاسی کرتے ہیں۔ گزشتہ سال امریکہ نے روسی تیل کی مسلسل خریداری کے باعث ہندوستان سے درآمدات پر۲۵؍ فیصد اضافی ٹیرف عائد کیا تھا، تاہم یورپی یونین نے ایسا نہیں کیا۔ اس کے برعکس، یورپ نے مذاکرات جاری رکھے جو اس ہفتے مکمل ہوئے اور یوں حالیہ برسوں میں یورپی یونین کے سب سے بڑے تجارتی معاہدوں میں سے ایک وجود میں آیا۔
یہ بھی پڑھئے:دہلی ہائی کورٹ نے سمیر وانکھیڈے کی عرضی پر سماعت سے انکار کردیا
معاہدے کی تفصیلات
نئے معاہدے کے تحت یورپی یونین ۷؍ برسوں میں ہندوستان کی برآمدات کی مالیت کے لحاظ سے ۹۹؍ فیصد پر ٹیرف ختم کر دے گی۔ تقریباً ۳۳؍ ارب ڈالر مالیت کی محنت طلب مصنوعات، جن میں ٹیکسٹائل، چمڑا، جوتے، قیمتی پتھر اور زیورات شامل ہیں، معاہدہ نافذ ہوتے ہی ٹیرف سے مستثنیٰ ہو جائیں گی۔ اس کے بدلے میں ہندوستان یورپی یونین کی ۶ء۹۶؍ فیصد برآمدات پر ٹیرف کم کرے گا، جن میں سے تقریباً ایک تہائی کمی معاہدے کے عملی نفاذ کے ساتھ ہی، یعنی ۲۰۲۷ء کے اوائل میں نافذ ہو جائے گی۔