مگریہ بھی کہا:ڈیولپر کی رضامندی کےباوجودتمام امور عدالت کے ذریعے ہی طے کئےجائیں گے۔مسجد کا تحفظ، تعمیرِنو اورکشادہ مسجد کی تعمیر ہی اہم مطالبہ۔
EPAPER
Updated: January 25, 2026, 3:51 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai
مگریہ بھی کہا:ڈیولپر کی رضامندی کےباوجودتمام امور عدالت کے ذریعے ہی طے کئےجائیں گے۔مسجد کا تحفظ، تعمیرِنو اورکشادہ مسجد کی تعمیر ہی اہم مطالبہ۔
مدرسہ ومسجدغوثیہ اہلسنت ایم آئی ڈی سی (اندھیری مغرب ) کا مسئلہ افہام وتفہیم سےحل کرنےکی ٹرسٹیان کی جانب سےکوشش شروع کی گئی ہے،اس کے لئے باہم صلاح ومشورہ کیا گیا۔ باہم مشورے میںاس تعلق سے تبادلۂ خیال کیا گیا مگریہ بھی کہاگیا کہ ڈیولپر کی رضامندی کےباوجودتمام امور عدالت کے ذریعے ہی طے کئےجائیں گے کیونکہ کیس کی شنوائی بامبے ہائی کورٹ میںجاری ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی:میئر انتخاب سے قبل کانگریس، این سی پی (شرد ) اور سماجوادی پارٹی کا اتحاد
باہمی تبادلۂ خیال میںٹرسٹیان کی جانب سے کہا گیا کہ چونکہ کئی برس سے مسجد کی تعمیرِ نو کا معاملہ لٹکا ہوا ہے ۔آکُرتی ڈیولپر کی جانب سے دیئے گئےایک ہال میںنماز ادا کی جارہی ہے۔ اگر وہ ٹرسٹیان کے مطالبے کے مطابق مزیدتین فلیٹ مسجد سےمتصل نئی عمارت میںدینےپر رضا مند ہو اورمسجد کی تعمیر بھی کرے تو اسے مان لیاجائے گا جبکہ پرانے معاہدے کی رو سے ڈیولپر کی جانب سے محض دو فلیٹ اورمسجد کی تعمیرکی ہی بات کہی گئی تھی۔ اس لئے اگر باہم رضا مندی ہوتی ہے توان تمام تفصیلات سے عدالت کوآگاہ کرایاجائے گا کیونکہ کئی برس سے کیس چل رہا ہے اس لئےعدالت میںہی تمام امور طے پائیںگے۔باہمی تبادلۂ خیال میںیہ بھی کہا گیا کہ چونکہ بہت زیادہ وقت گزر گیا اور۲۰۰۹ء سے ہی یہ معاملہ چل رہا ہے اوراب تک کیس کا تصفیہ نہیںہوسکا ہے ۔ اس لئے اگر مسجد کو تحفظ ملے، ٹرسٹیان کےمطالبے کے مطابق ڈیولپر اگلا قدم بڑھائے تونیا معاہدہ کرنے اورکیس کو ختم کرنے میںکوئی حرج نہیں ہوگا۔ اس لئے کہ مسجد کا تحفظ، تعمیرِنو اورکشادہ مسجد کی تعمیر ہی بنیادی عمل اوراہم مطالبہ ہے۔ اگر اس پرڈیولپرراضی نہیںہوتا ہے اور سابقہ معاہدےپرہی عمل درآمد کے لئے مُصر رہتا ہے تو پھر عدالت کے ذریعے ہی معاملات طے کئے جائیں گے ۔یہ تفصیلات مدرسہ ومسجد رضویہ غوثیہ اہلسنت خدمت وانتظامیہ کمیٹی کے فعال رکن اقبال منیار نے نمائندۂ انقلاب کوبتائیں۔
یہ بھی پڑھئے: نوجوانوں کیلئے’صحت آپ کی دہلیز پر‘ اسکیم متعارف
اقبال منیار کے مطابق پرانے معاہدے کے مطابق جہاں نئی مسجد کی تعمیر کی بنیاد ڈالی گئی تھی وہاں ڈیولپر کی جانب سے کثیر منزلہ عمارت تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے اوربزورطاقت ۱۷؍دسمبر کواس جگہ کی صاف صفائی کرواکر ناریل پھوڑ کربنیاد رکھنے کی بھی کوشش کی گئی تھی مگرٹرسٹیان اورمقامی افراد کی شدید مخالفت کے سبب ڈیولپر کو رُکناپڑا تھا اور اب بھی مسجد کی پرانی بنیاد اپنی جگہ قائم ہے۔