• Wed, 07 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ترکی: غزہ کیلئے برانڈز کا بائیکاٹ، لیکن کمپنیوں کو منافع، بائیکاٹ مہم پر سوالیہ نشان!

Updated: October 06, 2026, 10:04 PM IST | Istanbul

ترکی میں اسکولی سطح سے لے کر شہریوں کے درمیان تک اسرائیلی اشیاء یا اسرائیل کی حمایت کرنے والی کمپنیوں کے بائیکاٹ کی اکتوبر ۲۰۲۳ء سے جاری ہے۔ جس کے ویڈیوز سوشل میڈیا پر اکثر و بیشتر وائرل ہوتے ہیں۔ ان میں درجنوں برانڈز جیسے کولگیٹ سے ڈزنی+، اوریو، ملکاؔ، سنیکرز، لوریئل، ایچ اینڈ ایم اور اولکر تک شامل ہیں۔ تاہم، ان کمپنیوں نے ترکی میں منافع ریکارڈ کیا ہے جس نے بائیکاٹ مہم پر سوالیہ نشان لگادیا ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

ترکی کے ایک اسکول کے طلبہ کی جانب سے بنائے گئے ایک ویڈیو نے غزہ کے معاملے پر جاری صارفین کے بائیکاٹ کو ایک نئے زاویے سے نمایاں کردیا ہے۔ ۱۰؍ ستمبر ۲۰۲۶ء کو ترکی کے اخبار ینی شفق کی جانب سے جاری کئے گئے ایک ویڈیو میں طلبہ ان عالمی اور مقامی برانڈز کی مصنوعات کو بائیکاٹ کے پیغام کے ساتھ پیش کرتے نظر آتے ہیں جنہیں مختلف فلسطین حامی حلقے اسرائیل سے تجارتی یا دیگر روابط رکھنے یا اسرائیل کی حمایت سے جوڑتے ہیں۔ ینی شفق کی اپنی وضاحت میں بھی طلبہ کی سرگرمی کو اسرائیل کی حمایت کرنے والی سمجھی جانے والی کمپنیوں کے بائیکاٹ کی یاد دہانی قرار دیا گیا ہے۔ ویڈیو کے ایک نمایاں منظر میں ایک طالبہ کولگیٹ کے بڑے ڈبے کے پیچھے بیٹھی دکھائی دیتی ہے، جبکہ پس منظر میں ترکی اور فلسطین کے پرچم موجود ہیں۔ لیکن ویڈیو کے دیگر مناظر پر نظر ڈالنے سے واضح ہوتا ہے کہ پیغام صرف ایک ٹوتھ پیسٹ برانڈ تک محدود نہیں۔ دستیاب ویڈیو فریموں میں ڈزنی+، ملکا، اوریو، سنیکرز، چیٹوز، فانٹا، اسپرائٹ، ریڈ بُل، نیسکیفے، کیپی، نیو بیلنس، ایچ اینڈ ایم، ڈیور، لوریئل پیرس، گارنیئر، ایستی لاؤڈر، ہیڈ اینڈ شولڈرز، نار، کالوی، فنِش، ایریل، داملا اور اولکر سمیت متعدد مصنوعات اور برانڈز دکھائی دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: اگر مصر نے اسرائیل پر حملہ کیا تو سینائی باقی نہیں رہے گا: اسرائیلی وزیر

یہ فہرست اس لیے بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس میں خوراک اور مشروبات کے ساتھ تفریح، فیشن، کاسمیٹکس، ذاتی نگہداشت، صفائی ستھرائی اور مقامی کاروباری گروپس تک تقریباً ہر روزمرہ استعمال کا شعبہ شامل ہے۔ تاہم، دستیاب رپورٹ میں اسکول کا نام، ضلع، اساتذہ یا سرگرمی کے منتظمین کے نام نہیں بتائے گئے اور نہ ہی یہ ثابت کیا گیا ہے کہ یہ کسی باقاعدہ نصابی منصوبے کا حصہ تھا۔ اس لیے اسے سرکاری ’’اسکول پروجیکٹ‘‘ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

ایک فہرست نہیں، کئی بائیکاٹ مہمات
ترکی میں ’’اسرائیل سے منسلک‘‘ یا ’’اسرائیل کی حمایت کرنے والے‘‘ قرار دیے جانے والے برانڈز کی کوئی ایک سرکاری جامع فہرست موجود نہیں۔ مختلف شہری گروپس، فلسطین حامی تنظیمیں اور صارفین اپنی اپنی فہرستیں استعمال کرتے ہیں۔ ینی شفق نے اگست ۲۰۲۶ء میں شائع کی گئی اپنی ایک وسیع فہرست میں مشروبات، خوراک، کاسمیٹکس، ذاتی نگہداشت اور صفائی کی مصنوعات کی درجنوں کمپنیوں اور برانڈز کو شامل کیا تھا۔ اس فہرست میں کوکا کولا، کیپی، داملا، فانٹا، اسپرائٹ، نیسکیفے، نیسلے، ملکاؔ، لوریئل، ایریل، فنِش اور کئی دوسرے نام شامل ہیں۔
دوسری جانب فلسطینی قیادت والی بی ڈی ایس تحریک کی موجودہ ترجیحی مہموں کی فہرست الگ ہے۔ اس میں کوکا کولا اور ڈزنی+ جیسے نام شامل ہیں، لیکن ویڈیو میں دکھائی دینے والے تمام برانڈز اس کی ترجیحی صارف بائیکاٹ فہرست میں شامل نہیں۔ بی ڈی ایس کی اپنی دستاویز بھی ’’ترجیحی اہداف‘‘، مقامی سطح پر چلنے والی ’’نامیاتی‘‘ بائیکاٹ مہموں اور دیگر دباؤ کی مہموں میں فرق کرتی ہے۔ اس لیے ترکی کے اسکول کی ویڈیو کو بی ڈی ایس کی مکمل فہرست کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھئے: روس: سائبیریا میں طاعون کا اثر، ایک کی موت، سیکڑوں افراد کو کوارنٹائن کیا گیا

برانڈز کی اصل کاروباری تصویر کیا ہے؟
ویڈیو میں نظر آنے والے کئی نام دراصل چند بڑی عالمی کمپنیوں کے ذیلی برانڈز ہیں۔ ملکا اور اوریو مونڈیلیز انٹرنیشنل کے برانڈز ہیں؛ کمپنی نے ۲۰۲۵ء میں تقریباً ۵ء۳۸؍ ارب ڈالر کی خالص آمدنی رپورٹ کی۔ چیٹوز پیپسی کو کے پورٹ فولیو کا حصہ ہے اور پیپسی کو نے ۲۰۲۵ء میں تقریباً ۹۴؍ ارب ڈالر کی آمدنی حاصل کی۔ سنیکرز مارس کا برانڈ ہے، جبکہ مارس نے مارس اور کیلانووا کے مشترکہ ۲۰۲۵ء کاروبار کی بنیاد پر خود کو ۶۵؍ ارب ڈالر سے زیادہ کی خاندانی ملکیت والی کمپنی قرار دیا ہے۔ مشروبات کے شعبے میں ویڈیو کے کئی نام ایک ہی کاروباری نظام سے جڑے ہیں۔ فانٹا، اسپرائٹ، کیپی اور داملا کوکا کولا کے برانڈ پورٹ فولیو سے متعلق ہیں، جبکہ ترکی میں کوکا کولا کی بوتلنگ اور تقسیم کا بڑا کاروبار کوکا کولا ایچیک کے ذریعے چلتا ہے۔ ۲۰۲۵ء میں کمپنی کی ترکی کی فروخت کا حجم ۵۶۲؍ ملین یونٹ کیسز رہا، جو ۲۰۲۴ء کے ۵۶۸؍ ملین کے مقابلے میں تقریباً 1 فیصد کم تھا۔ مجموعی طور پر کمپنی کا بین الاقوامی حجم ۵ء۱۳؍ فیصد بڑھا، جس نے ترکی کی کمزور کارکردگی کو متوازن کیا۔
کوکا کولا کے لیے ترکی کی تصویر ۲۰۲۶ء میں بھی یکساں نہیں رہی۔ پہلی سہ ماہی میں ترکی کا حجم سالانہ بنیاد پر ۴ء۱؍ فیصد بڑھ کر ۱۳۰؍  ملین یونٹ کیسز ہوگیا، لیکن دوسری سہ ماہی میں کمپنی نے خود ترکی کے حجم کو ’’محدود‘‘ قرار دیا، جبکہ پاکستان اور وسطی ایشیا کی تیز نمو نے مجموعی نتائج کو سہارا دیا۔ دوسری سہ ماہی میں ترکی کی افراطِ زر کے اثرات نکالنے کے بعد آمدنی ۲۸؍ فیصد بڑھ کر ۷ء۲۵؍ ارب ترک لیرا رہی۔ یہ اعداد بتاتے ہیں کہ بائیکاٹ کا دباؤ موجود ہونے کے باوجود قیمتوں، مہنگائی، مصنوعات کے امتزاج اور دوسرے معاشی عوامل بھی کمپنی کے نتائج پر اثرانداز ہوتے ہیں۔

بائیکاٹ واقعی کتنا اثرانداز ہوا؟
ترکی میں بائیکاٹ کی طاقت کا ایک اہم پیمانہ صارفین کا رویہ ہے۔ کوندا کے جنوری ۲۰۲۶ء کے بارومیٹر کے مطابق ترکی کی ۴۱؍ فیصد آبادی نے کسی سیاسی وجہ سے کسی برانڈ کا بائیکاٹ کرنے کی بات کی۔ کوکا کولا ۶ء۱۴؍ فیصد کے ساتھ اس بائیکاٹ کا سب سے نمایاں برانڈ بتایا گیا۔ سروے نے یہ بھی ظاہر کیا کہ بائیکاٹ کا رجحان سیاسی اور ثقافتی شناخت کے لحاظ سے مختلف گروپس میں الگ الگ شدت رکھتا ہے۔ کوکا کولا کے اعداد میں بھی بائیکاٹ کے اثرات کے اشارے ملے ہیں، اگرچہ کسی ایک نتیجے کو صرف بائیکاٹ سے منسوب کرنا احتیاط کا تقاضا کرتا ہے۔ ۲۰۲۵ء کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق ترکی میں کوکا کولا کا کاربونیٹڈ مشروبات کی مارکیٹ میں حصہ ۵۹؍ فیصد سے کم ہوکر ۵۴؍ فیصد ہوا، جبکہ ۲۰۲۵ء کی دوسری سہ ماہی میں ترکی میں کمپنی کی فروخت میں تقریباً ۵؍ فیصد کمی رپورٹ ہوئی۔ کمپنیوں کی آمدنی پر مہنگائی، شرحِ مبادلہ، قیمتوں اور عمومی طلب کے اثرات بھی ہوتے ہیں، اس لیے یہ اعداد بائیکاٹ کا اکیلا مالی ثبوت نہیں بلکہ اس دباؤ کے ایک بڑے معاشی پس منظر کا حصہ ہیں۔
یہ اثر صرف مشروبات تک محدود نہیں رہا۔ ۲۰۲۵ء کے ایک تحقیقی جائزے میں ترکی میں کوکا کولا کی فروخت پر بائیکاٹ کے نمایاں اثرات کا ذکر کیا گیا اور یہ مشاہدہ بھی سامنے آیا کہ بائیکاٹ کی شدت مختلف ادوار میں کم اور زیادہ ہوتی رہی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صارفین کا ردعمل مستقل ایک ہی سطح پر نہیں رہا، بلکہ غزہ کی صورت حال اور عوامی توجہ کے ساتھ اس میں اتار چڑھاؤ آیا۔

یہ بھی پڑھئے: ترکی خلائی کانگریس: ۲۱؍ ممالک کے درمیان اتفاق رائے سے انطالیہ اعلامیہ منظور

اسکول کینٹینوں سے شروع ہوکر ادارہ جاتی پالیسی تک
ترکی میں یہ رجحان محض سوشل میڈیا تک محدود نہیں رہا۔ نومبر ۲۰۲۳ء میں ازمیر صوبائی محکمۂ قومی تعلیم اور اسکول کینٹینرز اسوسی ایشن نے صوبے کے اسکولوں اور متعلقہ اداروں کی کینٹینوں میں اسرائیلی مصنوعات اور اسرائیل کی حمایت کرنے والی سمجھی جانے والی مصنوعات کی فروخت روکنے کا اعلان کیا۔ محکمۂ تعلیم نے مقامی اور ملکی مصنوعات کے استعمال کو بھی اس فیصلے کا حصہ قرار دیا۔ بالکیسیر کے کیپسوت ضلع میں دسمبر ۲۰۲۳ء میں اسکول کینٹینوں کا باقاعدہ معائنہ بھی کیا گیا۔ ضلعی حکام نے دو اسکولوں میں چیکنگ کے بعد رپورٹ کیا کہ بائیکاٹ فہرست میں شامل اسرائیلی اور اسرائیل کی حمایت کرنے والی قرار دی گئی مصنوعات فروخت نہیں ہورہی تھیں۔ اسی طرح بیٹ مین کے کوزلوک ضلع کے محکمۂ قومی تعلیم نے اپنے زیر انتظام اسکولوں اور اداروں میں بائیکاٹ شدہ مصنوعات نہ خریدنے اور نہ فروخت کرنے کی ہدایت جاری کی تھی۔
یہ عمل بعد کے برسوں میں بھی ختم نہیں ہوا۔ بائیکاٹ کی فہرستوں نے گھر کی خریداری، اسکول کینٹین اور مقامی دکانوں سے آگے بڑھ کر متبادل تجارتی ماڈل بھی پیدا کیے۔ جنوری ۲۰۲۶ء میں استنبول کے بیلیک دوزو ضلع میں فری غزہ نامی مارکیٹ قائم ہوئی، جہاں منتظمین کے مطابق اسرائیل یا صہیونیت سے منسلک قرار دی جانے والی مصنوعات فروخت نہیں کی جاتیں اور مقامی مصنوعات کو ترجیح دی جاتی ہے۔ مارکیٹ کی منتظم نائلے آکتاش نے بتایا کہ منصوبے کا مقصد کم از کم ان مصنوعات کی خریداری کے ذریعے رقم منتقل نہ کرنا تھا جنہیں منتظمین بائیکاٹ کے دائرے میں رکھتے ہیں۔

ہر برانڈ کا تازہ کاروباری حجم ایک جیسا نہیں
ویڈیو میں موجود کاسمیٹکس اور ذاتی نگہداشت کے برانڈز بھی بڑے عالمی کاروباری گروپس سے وابستہ ہیں۔ لوریئل نے ۲۰۲۵ء میں ۰۵ء۴۴؍ ارب یورو کی فروخت رپورٹ کی، جبکہ ۲۰۲۶ء میں اس کی آمدنی مزید ۵؍ فیصد بڑھنے کی بجائے ۲۰۲۵ء کا ہی تازہ مکمل سالانہ تقابل دستیاب ہے۔ ایستی لاؤڈر نے جون ۲۰۲۶ء کو ختم ہونے والے مالی سال میں ۰۵ء۱۵؍ ارب ڈالر کی فروخت اور ۵؍  فیصد سالانہ اضافہ رپورٹ کیا۔
ہیڈ اینڈ شولڈرز اور ایریل پی اینڈ جی کے بڑے برانڈز میں شامل ہیں۔ پی اینڈ جی نے جون ۲۰۲۶ء کو ختم ہونے والے مالی سال میں ۰۳ء۸۷؍ ارب ڈالر کی خالص فروخت رپورٹ کی۔ ایچ اینڈ ایم کے پاس نومبر ۲۰۲۵ء تک دنیا بھر میں ۴۱۰۱؍ اسٹورز تھے، جبکہ ڈیور کی فیشن اینڈ لیدر گڈز کاروباری تقسیم نے ۲۰۲۵ء میں ۷۷ء۳۷؍  ارب یورو کی آمدنی رپورٹ کی۔
ریڈ بُل نے ۲۰۲۵ء میں دنیا بھر میں ۹۶۹ء۱۳؍ ارب کینز فروخت کیے اور اس کا گروپ ٹرن اوور ۱۹۶ء۱۲؍ ارب یورو رہا۔ نیسکیفے والی نیسلے نے ۲۰۲۵ء کے پہلے ۹؍ ماہ میں ترکی کو اپنی مضبوط ترین نمو میں حصہ ڈالنے والی مارکیٹوں میں شمار کیا، جبکہ ۲۰۲۶ء کی پہلی ششماہی میں بھی ترکی اس کی نمو کے بڑے ذرائع میں شامل رہا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بائیکاٹ کی موجودگی کے باوجود ہر برانڈ کی مالی کارکردگی یکساں سمت میں نہیں جارہی۔
فہرست میں موجود اولکر کی کہانی اس سے بھی مختلف ہے۔ یہ ترکی کی اپنی بڑی فوڈ کمپنی ہے، نہ کہ مغربی ملٹی نیشنل۔ اولکر بسکوئی نے ۲۰۲۵ء میں ۱۱۲؍ ارب ترک لیرا کی آمدنی اور ۵ء۱۶؍ فیصد ایف بی وی او کے مارجن کی اطلاع دی، جبکہ کمپنی کے مطابق اس کی ’’میڈ اِن ترکی‘‘ مصنوعات ۱۰۰؍ سے زیادہ ممالک تک پہنچتی ہیں۔ ویڈیو میں اس جیسے مقامی برانڈ کا شامل ہونا ظاہر کرتا ہے کہ بائیکاٹ کی بحث صرف غیر ملکی کمپنیوں تک محدود نہیں رہی بلکہ ترکی میں کمپنیوں کی ملکیت، سپلائی چین اور کاروباری شراکت داری بھی صارفین کی جانچ کا موضوع بن چکی ہے۔
کولگیٹ نے ۲۰۲۵ء میں عالمی سطح پر ۳۸ء۲۰؍ ارب ڈالر کی خالص فروخت رپورٹ کی اور اس کی نامیاتی فروخت میں ۴ء۱؍ فیصد اضافہ ہوا۔ کمپنی کے عالمی مالیاتی نتائج میں ترکی یا اس ویڈیو سے متعلق کسی مخصوص بائیکاٹ اثر کو الگ سے ظاہر نہیں کیا گیا۔ اسی طرح ویڈیو میں کسی برانڈ کی موجودگی بذاتِ خود اس بات کا ثبوت نہیں کہ کمپنی نے اسرائیلی فوج یا حکومت کو براہِ راست مالی مدد فراہم کی ہے۔ کولگیٹ سمیت بعض کمپنیوں کے بارے میں بائیکاٹ حلقوں کے دعوے ان کی اسرائیل میں کاروباری موجودگی یا دیگر روابط پر مبنی ہیں، جنہیں کمپنی کی براہِ راست فوجی یا سیاسی حمایت کے برابر قرار دینا الگ دعویٰ ہوگا۔
ترکی میں بائیکاٹ کے پھیلاؤ کا موجودہ نقشہ اسی لیے ایک وسیع صارف تحریک اور مختلف فہرستوں کے مجموعے کے طور پر سامنے آتا ہے: ایک طرف اسکول کینٹینیں مخصوص مصنوعات ہٹا چکی ہیں، دوسری طرف ۲۰۲۶ء کے صارف سروے میں ۴۱؍ فیصد تک سیاسی بائیکاٹ کا ذکر ملتا ہے، جبکہ کوکا کولا جیسے بڑے برانڈ کے ترکی میں حجم اور مارکیٹ شیئر میں اتار چڑھاؤ بھی ریکارڈ ہوا ہے۔ ساتھ ہی ۲۰۲۶ء کی دوسری سہ ماہی میں کوکا کولا ایچیک کی ترکی کی افراطِ زر سے پاک آمدنی ۲۸؍ فیصد بڑھ کر ۷ء۲۵؍ ارب ترک لیرا ہوگئی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ بائیکاٹ کے اثر کو قیمتوں، مہنگائی اور صارفین کے مجموعی رویے سے الگ کرکے ناپنا آسان نہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK