وسطی اناطولیہ میں شہری ترقیاتی منصوبے کے دوران تقریباً۹۰۰؍ سال پرانامدرسہ دریافت ہوا، دریافت ترکی کے صوبہ قیصری میں تاریخی کبیر مسجد کے بالکل جنوب میں واقع ملک محمود غازی کے مقبرے کے قریب ہوئی ہے۔
EPAPER
Updated: January 17, 2026, 4:03 PM IST | Ankara
وسطی اناطولیہ میں شہری ترقیاتی منصوبے کے دوران تقریباً۹۰۰؍ سال پرانامدرسہ دریافت ہوا، دریافت ترکی کے صوبہ قیصری میں تاریخی کبیر مسجد کے بالکل جنوب میں واقع ملک محمود غازی کے مقبرے کے قریب ہوئی ہے۔
ترکی کے قیصری میں مقامی حکام کے مطابق، وسطی اناطولیہ کے شہر قیصری میں تقریباً۹۰۰؍ سال پرانا مدرسہ بحال کیا جائے گا، جس کے آثار ایک شہری تجدید منصوبے کے دوران دریافت ہوئے تھے۔ اسلامی مدرسے کی یہ دریافت سریچی جمیکبیر شہری تجدید منصوبے کے تحت کیے گئے کام کے دوران، تاریخی کبیر مسجد کے بالکل جنوب میں واقع ملک محمود غازی کے مقبرے کے قریب ہوئی ہے۔قیصری کے میئر ممدوح بویوک کلچ نے اناطولیہ نیوز ایجنسی کو بتایا کہ یہ شہر کئی تہذیبوں کا گہوارہ رہا ہے اور اسلامی تاریخ میں اس کا ایک خاص مقام ہے۔انہوں نے کہا، ’’جمیکبیر ایک ایسا علاقہ ہے جہاں ہم محتاط کام کر رہے ہیں۔ اس کے اردگرد کھدائی کرتے ہوئے ہمیں ایک حیرت کا سامنا ہوا۔ محمود غازی کے مقبرے کے بالکل قریب، ہمیں ایک مدرسے کے آثار اور دیواریں ملیں جو ایک مذہبی مجمّعہ کی روایت میں تعمیر کیا گیا تھا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی محاصرے میں غزہ کیلئے ٹرمپ کی نئی فلسطینی ٹیکنوکریٹک حکومت کی حمایت
واضح رہے کہ دانشمند خاندان کے حکمران ملک محمود غازی، قیصری کے بانیوں میں سے ایک سمجھے جاتے ہیں اور اناطولیہ میں ابتدائی ترک-اسلامی تاریخ کی ایک اہم شخصیت ہیں۔ ان کے حکم پر تعمیر کردہ مسجد آج بھی شہر کے اہم ترین نشانیوں میں سے ایک ہے۔بویوک کلچ نے کہا کہ بلدیہ موجودہ علمی مطالعات اور تاریخی دستاویزات کو مدنظر رکھتے ہوئے، وزارت ثقافت و سیاحت کے تعاون سے کھدائی اور بحالی کا کام کرے گی۔انہوں نے کہا، ’’ہمارا مقصد اس مدرسے کو دوبارہ بحال کرنا اور قیصری کی ایک قابل فخر تاریخی یادگار کو اپنے شہر اور ملک کے حوالے کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سنگاپور: جھوٹی گواہی دینے پر پریتم سنگھ کی حزب اختلاف عہدے سے برطرفی کا فیصلہ
یہ بھی یاد رہے کہ ترکی میں اس سےقبل بھی کھدائی کے دوران آثار قدیمہ سے تعلق رکھنے والی متعدد دریافتیں ہو چکی ہیں، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ملک تاریخی طور پر کتنی عظیم ثقافت کا مالک ہے۔ساتھ ہی ترکی اپنے تاریخی ورثے کو تحفظ فراہم کیا ہے۔