• Mon, 26 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ترکی:عدالت کا فلوٹیلا کے ترکی شہریوں سے بدسلوکی میں ملوث افراد کی تحقیق کا حکم

Updated: October 26, 2026, 12:05 PM IST | Istanbul

ترک عدالت نے غزہ فلوٹیلا میں ترکی شہریوں کے ساتھ بدسلوکی میں ملوث افراد کی تحقیقات کا حکم دیا ہے، عدالت نے ۳۴؍ دیگر ملزمین بشمول نیتن یاہو کے گرفتاری وارنٹ برقرار رکھے، شہریوں کے خلاف مبینہ جرائم پر مزید شواہد اور علاحدہ فرد جرم کی درخواست کی ہے۔

Public protest against the Israeli attack on the flotilla. Photo: X
فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے کے خلاف عوام کا احتجاج۔ تصویر: ایکس

استنبول کی ایک عدالت نے استغاثہ کو حکم دیا ہے کہ وہ ان ۳۵؍ افراد جن میں نیتن یاہو بھی شامل ہے، کی تحقیقات کرے جو مبینہ طور پر غزہ جانے والے امدادی فلوٹیلا کے شرکاء ترک شہریوں جب وہ  اسرائیل میں قید تھےکے ساتھ بدسلوکی میں ملوث تھے جب وہ۳۵؍ ملزمان، جن میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو بھی شامل ہیں۔استنبول۱۱؍ویں ہائی کرمنل کورٹ نے  شکایت کنندگان کی جانب فیصلہ دیا کہ اسرئیلی حراست میں  ترک شہریوںکے خلاف مبینہ بدسلوکیوں میں حصہ لیا، کی شناخت کی جانی چاہیے اور ضروری قانونی کارروائی کے لیے استغاثہ کو بھیجا جانا چاہیے۔عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ تمام۳۵؍ ملزمین کے خلاف موجودہ گرفتاری کے وارنٹ اور انٹرپول ریڈ نوٹس کی درخواستیں برقرار رہیں۔واضح رہے کہ یہ کیس غزہ جانے والے فلوٹیلا پر اسرائیل کے مسلح حملے سے متعلق ہے، جو غزہ کے لیے انسانی امداد لے جا رہا تھا۔سماعت کے دوران، ایک شکایت کنندہ نے کہا کہ وہ غزہ میں فلسطینیوں کو طبی سامان پہنچانے کے لیے ڈاکٹر کے طور پر فلوٹیلا میں شامل ہوا تھا۔اس نے کہا کہ اسرائیلی فوجیوں نے ان کے جہاز سے طبی سامان کے پانچ یا چھ ڈبے ضبط کر لیے اور اسرائیل کی اشدود بندرگاہ پر شرکاء کے ساتھ بدسلوکی کی گئی۔اس نے کہا کہ وہ ملزمان کے خلاف اپنی شکایت پر قائم رہنا چاہتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: مغربی کنارہ میں تشدد پر اقوام متحدہ کا اظہار تشویش

ایک اور شکایت کنندہ نے کہا کہ اسے دو بار کپڑے اتار کر تلاشی کا نشانہ بنایا گیا اور اپنا حجاب اتارنے سے انکار کرنے کے بعد اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ اس کی تلخ کلامی ہوئی۔اس نے عدالت کو بتایا، ’’انہوں نے میرے حجاب کے بجائے جو کپڑے انہوں نے مجھے دیے تھے، انہیں پہنے ہوئے میری ریکارڈنگ کی اور میرا مذاق اڑایا۔‘‘اس نے کہا کہ اسے حراست میں لینے والے فوجیوں میں سے ایک نے اسے بتایا تھا کہ وہ ترکی کے وسطی صوبے یوزگات سے ہے۔اس نے کہا، ’’انہوں نے ہمارا ذاتی سامان لے لیا، اور میں ان میں سے کوئی بھی واپس نہیں لے سکی۔ ہماری پرائیویسی کی سنگین خلاف ورزی کی گئی۔ میں شکایت درج کرا رہی ہوں۔‘‘
ایک ترک قانون ساز نے بھی گواہی دی، کہا کہ حراست میں لیے جانے کے بعد اسے اور تقریباً۸۰؍ دیگر شرکاء کو بد بودار کمرے میں رکھا گیا تھا۔اس نے کہا کہ قرآن پاک پڑھنے کے دوران، ایک اسرائیلی فوجی نے اسلام کی توہین کی۔انہوں نے کہا کہ زیر حراست افراد کو سونے کی اجازت نہیں دی گئی اور انہیں زبانی بدسلوکی اور نفسیاتی بدسلوکی کا نشانہ بنایا گیا۔اس نے مزید کہا کہ اگلے دن آنے والے پولیس افسران نے عبرانی زبان میں ترکی اور زیر حراست افراد کی توہین کی۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل میں انتخابات سے قبل نتن یاہو کے خلاف ہزاروں افراد کا احتجاج

بار اسوسسی ایشن کے صدرساکا نے غزہ میں نسل کشی کے الزامات سے متعلق کارروائی میں بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ) کے حکم کردہ عارضی اقدامات کا حوالہ دیا۔انہوں نے متعلقہ ICJ دستاویزات اور غزہ میں نسل کشی کے الزامات سے متعلق اقوام متحدہ کی رپورٹ کی کاپیاں طلب کیں۔انہوں نے نیتن یاہو اور دیگر ملزمان کے خلاف جاری کردہ گرفتاری کے وارنٹ اور ریڈ نوٹس کی درخواستوں کا بھی حوالہ دیا۔جبکہ وکیل یاسین ساملی نے دلیل دی کہ اس کیس میں نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم اور شہریوں کے خلاف حملوں کے الزامات شامل ہیں۔ساملی نے کہا کہ وکلاء نے شواہد کی آٹھ جلدیں جمع کرائی ہیں، جن میں پانچ غزہ میں خواتین اور بچوں کے خلاف مبینہ جرائم سے متعلق ہیں۔
اپنے عبوری فیصلے میں، عدالت نے نوٹ کیا کہ موجودہ فرد جرم بنیادی طور پر غزہ جانے والے امدادی فلوٹیلا کے خلاف کی گئی کارروائیوں کو بیان کرتی ہے، جبکہ غزہ میں شہریوں کے خلاف جرائم سے متعلق الزامات صرف بالواسطہ اور عمومی اصطلاحات میں پیش کیے گئے تھے۔پینل نے کہا کہ نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کی تحقیقات ترکی کے وزیر انصاف کی درخواست پر کی جا سکتی ہیں۔بعد ازاں اس اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ عدالتیں فرد جرم میں بیان کردہ حقائق پر مبنی الزامات کی پابند ہیں، پینل نے ممکنہ نئی فرد جرم کے حوالے سے استغاثہ سے باضابطہ درخواست کا حکم دیا۔
درخواست میں غزہ میں شہریوں کے خلاف مبینہ جرائم، جو فلوٹیلا سے متعلق کارروائیوں سے الگ ہیں، کو ٹھوس الفاظ میں بیان کرنے اور معاون شواہد سے جوڑنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔عدالت نے کہا کہ قانونی تنظیموں کی جانب سے جمع کرائے گئے شواہد کو اس عمل میں مدنظر رکھا جانا چاہیے۔پینل نے یہ بھی حکم دیا کہ آیا۳۵؍ ملزمین میں سے کسی کے ترکی میں منقولہ یا غیر منقولہ اثاثے ہیں، اس بارے میں تحقیقات کی جائیں۔علاوہ ازیں عدالت نے ہدایت کی کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) میں ملزمان سے متعلق کارروائیوں کے دستاویزات کے لیے وزارت انصاف کے ذریعے درخواست بھیجی جائے۔عدالت نے مزید حکم دیا کہ غزہ میں نسل کشی کے الزامات سے متعلق جمع کرائی گئی اقوام متحدہ کی رپورٹ وزارت انصاف کے ذریعے طلب کی جائے۔دریں اثناء پینل نے شکایت کنندگان اور کئی قانونی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے کارروائی میں حصہ لینے کی درخواستوں کو قبول کر لیا۔سماعت۳۰؍ مارچ۲۰۲۷ء تک ملتوی کر دی گئی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK