• Mon, 01 September, 2025
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ترکی: گالاتاسرے کے مداحوں نےغزہ اور گلوبل صمود فلوٹیلا کے حق میں آواز بلند کی

Updated: August 31, 2025, 9:17 PM IST | Ankara

ترکی کے گالاتاسرے کلب کے شائقین نے غزہ، اور گلوبل صمود فلوٹیلا کے لیے آواز بلند کی ،منتظمین نے اس فلوٹیلا کو غزہ میں محاصرے اور نسل کشی کے خلاف ایک عالمی احتجاج قرار دیا ہے، اور بین الاقوامی اداروں پر ناکامی اور مجرمانہ ساز باز کا الزام لگایا ہے۔

Turkish football club Galatasaray fans send a message of solidarity to the Palestinians in Gaza. Photo: X
ترک فٹبال کلب گالاتاسرے کے شائقین کا غزہ کے فلسطینیوں کے لیے یکجہتی کا پیغام ۔ تصویر: ایکس

ترک فٹبال کلب گالاتاسرے کے شائقین نے غزہ میں بھوکے فلسطینیوں کے لیے یکجہتی کا ایک طاقتور پیغام بھیجا ہے جو اسرائیلی نسل کشی اور جبری بھوک کا شکار ہیں۔ انہوں نے `گلوبل صمود فلوٹیلا کی حمایت کی، جو کہ غزہ پر اسرائیلی ناکہ بندی کو توڑنے اور انسانی امداد پہنچانے کی ایک بین الاقوامی کوشش  کا حصہ ہے۔ایک حالیہ میچ کے دوران، شائقین نے فلوٹیلا کی حمایت میں بینرز دکھائے اور نعرے لگائے، جس میں ایک پیغام بڑے پیمانے پر گونج رہا تھا:’’غزہ، ہم آ رہے ہیں۔ رفح بارڈر کراسنگ کھولو۔‘‘ حمایت کا یہ مظاہرہ دنیا بھر میں فوری طور پر سرحدی گزرگاہیں کھولنے اور اسرائیل کی جان لیوا ناکہ بندی کو ختم کرنے کے بڑھتے ہوئے مطالبات کا ایک مظاہرہ ہے، اس ناکہ بندی کی وجہ سے غزہ میں قحط کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ میں قید یرغمالوں کی رہائی کے معاہدے کیلئے ہزاروں اسرائیلیوں کا مظاہرہ

واضح رہے کہ اکتوبر۲۰۲۳ء سے اسرائیل کی جانب جاری غزہ کی ناکہ بندی کے سبب بھوک سے ۳۳۲؍فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں۱۲۴؍ بچے بھی شامل ہیں۔جب سے اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ `آئی پی سی (انٹیگریٹڈ فوڈ سیکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن) نے۲۲؍ اگست کو غزہ میں باضابطہ طور پر قحط کا اعلان کیا ہے، غزہ کی وزارت صحت نے اسرائیل کی جانب سے جبری بھوک سے مزید۵۴؍ اموات درج کی ہیں، جن میں نو بچے بھی شامل ہیں۔اسرائیل نے۲؍ مارچ سے غزہ کی تمام امدادی گزرگاہیں بند کر رکھی ہیں، جس سے امدادی قافلے سرحدوں پر پھنسے ہوئے ہیں۔غزہ پر محاصرہ توڑنے کے لیے بین الاقوامی کمیٹی نے کہا کہ ’’گلوبل صمود فلوٹیلا‘‘ اپنا سفر اتوار کو بارسلونا سے شروع کرے گا، جس کے بعد دوسرا قافلہ جمعرات کو تیونس سے روانہ ہوگا، تاکہ فلسطینی خطے پر اسرائیل کی ناکہ بندی کو چیلنج کیا جا سکے۔ایک بیان میں، کمیٹی نے فلوٹیلا کو غزہ میں ’’محاصرے اور نسل کشی‘‘ کے خلاف ایک عالمی احتجاج قرار دیا، اور بین الاقوامی اداروں پر ’’ناکامی اور مجرمانہ ساز باز‘‘ کا الزام لگایا۔

یہ بھی پڑھئے: ترکی: غزہ میں نسل کشی کےخلاف اسرائیل کے ساتھ اقتصادی و تجارتی تعلقات ختم

کمیٹی نے زور دیا کہ’’ یہ قافلہ صرف امداد لے جانے والی علامتی کشتیاں نہیں ہیں، بلکہ ایک طاقتور انسانی پیغام ہے جو محاصرہ ختم کرنے کے عالمی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔‘‘بیان میں کہا گیا ہے کہ ہر جہاز غزہ کے لیے امید کی پکار اور محاصرے اور ناانصافی کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کرنے والی ایک عالمی آواز لے کر جا رہا ہے۔گلوبل صمود فلوٹیلا چار اقدامات کا مجموعہ ہے، `المغرب صمود فلوٹیلا، `گلوبل موومنٹ ٹو غزہ، `فریڈم فلوٹیلا کولیشن، اور `صمود نوسنتارا۔ منتظمین نے کہا کہ یہ کوشش ناکہ بندی کو چیلنج کرنے کی گزشتہ کوششوں کے بعد کی جا رہی ہے، جن میں۲۰۱۰ء میں ترک جہاز `ماوی مارمارا اور اس سال `الضمیر، `مدلین، اور حنظلہ بحری جہازوں کے مشن شامل ہیں۔اسرائیلی بحریہ کے دستوں نے۲۶؍ جولائی کو حنظلہ امدادی جہاز کو غزہ کے ساحلوں کے قریب روکا اور اسے اشدود کی بندرگاہ لے گئے۔
تاہم اسرائیل نے اکتوبر۲۰۲۳ سے غزہ میں ۶۳؍ ہزار ۴۰۰؍ سے زائد فلسطینیوں کو ہلاک کیا ہے۔گزشتہ نومبر میں، بین الاقوامی فوجداری عدالت نے غزہ میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور اس  کے سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے  گرفتاری وارنٹ جاری کیے تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK