ترکی میں نئے ضوابط کے تحت ۱۵؍ سال سےکم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کردی گئی، *سرکاری گزٹ میں شائع ضوابط کے مطابق عمر کی تصدیق میں ذاتی ڈیٹا کا تحفظ اور امتیازی سلوک سے اجتناب ضروری۔
EPAPER
Updated: October 10, 2026, 8:02 PM IST | Ankara
ترکی میں نئے ضوابط کے تحت ۱۵؍ سال سےکم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کردی گئی، *سرکاری گزٹ میں شائع ضوابط کے مطابق عمر کی تصدیق میں ذاتی ڈیٹا کا تحفظ اور امتیازی سلوک سے اجتناب ضروری۔
ترکی نے سنیچر کو سرکاری گزٹ میں شائع ہونے والے سائبر سیکیورٹی ڈائریکٹوریٹ کے نئے ضوابط کے مطابق۱۵؍ سال سے کم عمر بچوں کو سوشل نیٹ ورک فراہم کنندگان کی خدمات پیش کرنے سے روک دیا ہے۔ضابطے میں کہا گیا ہے کہ فراہم کنندگان۱۵؍ سال کی عمر کو نہ پہنچنے والے بچوں کو خدمات فراہم نہیں کر سکتے۔ضابطوں کے مطابق فراہم کنندگان کو۱۵؍ سال اور اس سے زیادہ عمر کے صارفین کے لیے مختلف خدمات پیش کرنی چاہئیں اور ضروری اقدامات کرنے چاہئیں، مزید کہا گیا ہے کہ انہیں نابالغ کے بہترین مفادات اور ان کی جسمانی، ذہنی، نفسیاتی، سماجی اور جذباتی نشوونما پر غور کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھئے: ہندوستان میں اسٹارلنک: ایلون مسک کی مکیش امبانی پر تنقید تیز
علاوہ ازیں اس میں کہا گیا کہ عمر کی تصدیق میں ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کو ترجیح دینی چاہیے، ایسے طریقے استعمال کرتے ہوئے جو شناخت قائم کرنے کے بجائے صرف یہ طے کریں کہ آیا صارف عمر کی حد پر پورا اترتا ہے۔یہ کہتے ہوئے کہ فراہم کنندگان کو تصدیقی طریقوں کی صداقت ،ان کی الگورتھم ساخت، اور بچوں پر مرکوز سروس پالیسیوں کو صارفین، والدین اور ڈائریکٹوریٹ کے لیے واضح، قابل آڈٹ اور قابل جانچ بنانا چاہیے، اس نے زور دیا کہ انہیں واضح، صارف دوست والدین کے کنٹرول ٹولز بنانے چاہئیں۔
یہ بھی پڑھئے: فرانس: طلبہ مظاہرین کے احتجاج کے دوران ۱۰۰ سے زائد تعلیمی عملہ زخمی: وزیر تعلیم
یہ ضوابط ترکی کی پارلیمنٹ کی جانب سے اس اپریل میں منظور کردہ سوشل میڈیا پر نئی قانون سازی کے تحت آتے ہیں۔واضح رہے کہ اس سے قبل دنیا کے متعدد ممالک نو عمروں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کرچکے ہیں۔متعدد تحقیق کے مطابق سوشل میڈیا کا استعمال کم عمروں کی جسمانی ، ذہنی اور جذباتی نشوونما پر منفی اثر کا سبب بن رہا ہے، ان کے برتاؤ اور نفسیات میں پیچیدگی پیدا کررہا ہے۔ اس کے علاوہ کوئی فلٹر کا نظام موثر انداز میں نہ ہونے سے بچوں تک مضر مواد کی رسائی آسانی سے ہو جاتی ہے۔ ان تمام منفی اثرات کے مدنظر حکومت کا یہ فیصلہ ایک مثبت پیغام دیتا ہے۔