Updated: November 07, 2026, 3:01 PM IST
| Dubai
عمرہ کی ادائیگی کیلئے سعودی عرب روانگی سے قبل ترکی کے ایک ایئرپورٹ پر ۶۸؍ سالہ ریٹائرڈ امام نماز کی امامت کرتے ہوئے اچانک گر پڑے اور انتقال کرگئے۔ وہ احرام کی حالت میں تقریباً ۱۸۰؍ عازمینِ عمرہ کے قافلے کی قیادت کررہے تھے، واقعے نے ساتھی عازمین کو غمزدہ کردیا۔
ترکی کے وسطی علاقے میں واقع ایک ہوائی اڈے پر عمرہ کی ادائیگی کیلئے سعودی عرب روانہ ہونے سے چند لمحے قبل نماز کی امامت کرتے ہوئے ۶۸؍ سالہ ترک شہری کا انتقال ہوگیا۔ مقامی میڈیا نے جمعہ کو یہ اطلاع دی۔ عبداللہ اوزکان، جو قونیہ کے ضلع بی شہر کے ریٹائرڈ امام تھے، احرام کی حالت میں تھے اور مکہ مکرمہ روانگی کی تیاری کرنے والے اپنے ساتھی مسافروں کے ساتھ نماز ادا کررہے تھے کہ اچانک ان کی طبیعت بگڑ گئی اور وہ زمین پر گر پڑے۔ اوزکان حج و عمرہ کے ایک ٹریول ادارے کے مقامی نمائندے کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہے تھے۔ وہ تقریباً ۱۸۰؍ عازمینِ عمرہ کے ایک گروپ کے ساتھ سفر کررہے تھے۔ ترک خبر رساں ایجنسی انادولو کے مطابق، تمام عازمین سفری کارروائیاں مکمل کرنے کے بعد رات تقریباً ۲؍ بجے قونیہ ایئرپورٹ پر جمع ہوئے تھے۔
روانگی سے قبل اوزکان نے الوداعی دعا کی امامت کی۔ اس کے بعد انہوں نے کلمۂ شہادت، عمرہ و حج کے دوران پڑھی جانے والی تلبیہ اور نبی کریم ﷺ پر درود و سلام کا ورد شروع کیا۔ عینی شاہدین کے مطابق، آخری درود پڑھتے ہوئے اچانک ان کی آواز کمزور پڑ گئی اور وہ گر پڑے۔ ایئرپورٹ کے طبی عملے نے فوری طور پر انہیں ابتدائی طبی امداد فراہم کی اور قلب و تنفس کی بحالی کیلئے سی پی آر (CPR) بھی کیا۔ بعد ازاں ایمرجنسی سروسیزکے ذریعے انہیں سلجوق یونیورسٹی کے میڈیکل فیکلٹی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔ ترک میڈیا کے مطابق، انہیں دل کا دورہ پڑا تھا، تاہم موت کی حتمی طبی وجہ کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔ گروپ میں شامل ایک عازمِ عمرہ نے اس واقعے کی ویڈیو بھی ریکارڈ کی تھی، جس میں اوزکان کو نماز کی امامت کرتے اور اچانک گرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ ان کے ساتھی اس وقت فوری طور پر مدد کیلئے آگے بڑھے۔
یہ بھی پڑھئے: چین: ۲۰۲۶ء میں شادیوں کی شرح میں تقریباً ۱۰ فیصد کمی، شرح پیدائش میں مزید گراوٹ کے خدشات بڑھ گئے
اوزکان کے ساتھ تقریباً ۱۵؍ برس تک کام کرنے والے اسماعیل گوموش نے بتایا کہ واقعے سے قبل ان میں بیماری کی کوئی علامت دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ انہوں نے خود اپنی آنکھوں سے انہیں گرتے ہوئے دیکھا۔ ان کے مطابق، اوزکان نماز مکمل کرنے کے بعد نبی کریم ﷺ پر درود و سلام پڑھ رہے تھے کہ ان کی آواز کمزور ہوئی اور وہ آگے کی جانب گر پڑے۔ ضلع بی شہر کے مفتی اینس آکتاش نے اوزکان کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک قابلِ احترام مذہبی شخصیت تھے اور کئی برسوں سے مقامی برادری کی خدمت کررہے تھے۔ جمعہ کو ضلع بی شہر کی چارسِی مسجد میں نمازِ جنازہ ادا کی گئی، جس کے بعد انہیں مقامی قبرستان میں سپردِ خاک کردیا گیا۔ نمازِ جنازہ میں اہلِ خانہ، مذہبی عہدیداروں اور مقامی باشندوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔