• Fri, 11 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

برکس ممالک میں دو مسلم ممالک کی کرنسی کی طاقت زیادہ ہے

Updated: September 11, 2026, 5:01 PM IST | New Delhi

برکس (BRICS) ممالک کے درمیان تجارت میں امریکی ڈالر پر انحصار کم کرنے اور مقامی کرنسیوں کے استعمال کو بڑھانے کی بحث تیز ہوگئی ہے۔ اسی تناظر میں متحدہ عرب امارات کی درہم (Dirham) اور سعودی عرب کی ریال (Riyal) جیسی خلیجی کرنسیاں بھی خصوصی توجہ حاصل کر رہی ہیں۔

Bricks.Photo:INN
برکس۔ تصویر:آئی این این

 برکس (BRICS) ممالک کے درمیان تجارت میں امریکی ڈالر پر انحصار کم کرنے اور مقامی کرنسیوں کے استعمال کو بڑھانے کی بحث تیز ہوگئی ہے۔ اسی تناظر میں متحدہ عرب امارات کی  درہم (Dirham)  اور سعودی عرب کی  ریال (Riyal)  جیسی خلیجی کرنسیاں بھی خصوصی توجہ حاصل کر رہی ہیں۔ تاہم یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ یہ دونوں کرنسیاں مجموعی طور پر روسی روبل، چینی یوآن یا بھارتی روپے سے زیادہ طاقتور یا برکس کی سب سے غالب کرنسیاں بن چکی ہیں۔ ماہرین کے مطابق برکس میں اصل رجحان کسی ایک مشترکہ کرنسی کے قیام کے بجائے رکن ممالک کے درمیان  نیشنل کرنسیز میں دو طرفہ تجارت اور ادائیگیوں کو فروغ دینا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:بی آئی ایس کی بڑی کارروائی،۹۹ء۸۰۳؍ گرام بغیر ہال مارک والے سونے کے زیورات ضبط

برکس میں ۲۰۲۶ء کے دوران  برازیل، روس، ہندوستان ، چین، جنوبی افریقہ، مصر، ایتھوپیا، ایران، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور انڈونیشیا شامل ہیں۔ ہندوستان اس وقت برکس کی صدارت کررہا ہے اور ۱۲؍ اور ۱۳؍  ستمبر کو نئی دہلی میں برکس سربراہی اجلاس منعقد ہونے جارہا ہے۔ اس اجلاس میں مالی تعاون، مقامی کرنسیوں میں تجارت اور سرحد پار ادائیگیوں کو آسان بنانے جیسے موضوعات اہم رہیں گے۔ 
متحدہ عرب امارات کا  درہم  اور سعودی عرب کا  ریال  دونوں امریکی ڈالر کے ساتھ مضبوطی سے منسلک ہیں، جس کی وجہ سے ان کی قدر میں اتار چڑھاؤ نسبتاً محدود رہتا ہے۔ یہی خصوصیت انہیں کچھ بین الاقوامی تجارتی معاملات میں پرکشش بناتی ہے۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ درہم اور ریال عالمی سطح پر چینی یوآن یا دیگر بڑی کرنسیوں کی جگہ لے چکے ہیں۔ Carnegie Endowment کے مطابق درہم اور ریال کی ڈالر سے وابستگی ہی ایک بڑی وجہ ہے کہ انہیں مکمل طور پر ڈالر کے متبادل کے طور پر استعمال کرنا محدود رہتا ہے۔ 
برکس کے مالی نظام میں  چینی یوآن (Renminbi)  کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ روس اور چین کے درمیان دو طرفہ تجارت کا تقریباً ۹۹؍ فیصد حصہ روبل اور یوآن میں کیا جارہا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان ڈالر پر انحصار میں نمایاں کمی آئی ہے۔ چین کا  سی آئی پی ایس  ادائیگی نظام بھی دیگر ممالک کے ساتھ یوآن میں براہ راست لین دین کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ 
 روس نے مغربی پابندیوں کے بعد مقامی کرنسیوں میں تجارت کو مزید فروغ دیا ہے۔ روس اور ہندوستان کے درمیان بھی براہ راست ادائیگیوں کا بڑا حصہ قومی کرنسیوں میں منتقل ہوچکا ہے، جبکہ  ہندوستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان  روپیہ-درہم لوکل کرنسی سیٹلمنٹ سسٹم  پہلے ہی فعال ہے۔ اسی طرح  ہندوستان اور انڈونیشیا نے  ۲۰۲۶ء میں روپیہ روپیہ مقامی کرنسی سیٹلمنٹ فریم ورک بھی شروع کیا ہے۔  برکس کے حوالے سے سب سے اہم بات یہ ہے کہ رکن ممالک نے اب تک کوئی مشترکہ برکس کرنسی  لانچ نہیں کی ہے۔ ۲۰۲۴ء میں سوشل میڈیا پر روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ہاتھ میں ایک  برکس کرنسی کا نوٹ دکھائے جانے کی خبریں وائرل ہوئی تھیں، لیکن وہ ایک علامتی نوٹ تھا، قانونی طور پر قابلِ استعمال مشترکہ کرنسی نہیں۔ برکس ممالک کا موجودہ زور مقامی کرنسیوں میں تجارت اور متبادل ادائیگی کے نظام پر ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:بمراہ فٹ، ہرشیت کی جگہ یش ٹھاکر ہندوستانی ٹی۲۰؍ ٹیم میں شامل

ہندوستان کی جانب سے اب رکن ممالک کی سینٹرل بینک ڈجیٹل کرنسیز (سی بی ڈی سی) کو آپس میں جوڑنے کی تجویز بھی زیرِ بحث ہے تاکہ سرحد پار ادائیگیوں کو تیز اور آسان بنایا جاسکے۔ اس اقدام کا مقصد امریکی ڈالر کو فوری طور پر ختم کرنا نہیں بلکہ مختلف قومی کرنسیوں میں لین دین کے لیے زیادہ راستے فراہم کرنا ہے۔ 
 اس طرح برکس کی مالی حکمت عملی کسی ایک کرنسی کو ’’بادشاہ‘‘ بنانے کے بجائے ایک ایسے متبادل نظام کی طرف بڑھ رہی ہے جس میں  یوآن، روبل، روپیہ، درہم اور ریال سمیت مختلف قومی کرنسیاں  باہمی تجارت میں زیادہ استعمال ہوسکیں۔ تاہم عالمی سطح پر امریکی ڈالر کی حیثیت اب بھی بہت مضبوط ہے، اس لیے برکس میں ڈالر سے مکمل نجات کا عمل فوری نہیں بلکہ بتدریج آگے بڑھنے والا منصوبہ دکھائی دیتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK