’این ٹی اے ‘ کی نااہلی پھر بے نقاب، دفتر کے باہر ہنگامہ،’’قیمت ہم نہیں چکائیں گے‘‘ کے نعرے لگے، کانگریس کی طلبہ تنظیم نے بھی جگہ جگہ مظاہرے کئے۔
EPAPER
Updated: August 18, 2026, 9:07 AM IST | Agency | New Delhi
’این ٹی اے ‘ کی نااہلی پھر بے نقاب، دفتر کے باہر ہنگامہ،’’قیمت ہم نہیں چکائیں گے‘‘ کے نعرے لگے، کانگریس کی طلبہ تنظیم نے بھی جگہ جگہ مظاہرے کئے۔
پیپر لیک کی وجہ سے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفیٰ لینے پر مجبور ہونے والی مودی سرکار کیلئے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) نے پھر مشکلیں پیدا کر دی ہیں۔این ٹی ای نے جون میں ہونے والے یو جی سی- این ای ٹی امتحان کے ۳؍ پرچوں میں خامیوں اور غلطیوں کا حوالہ دیتےہوئے منسوخ کردیا ہے جس نے ایک بار پھر اس کی نااہلی کو بے نقاب کردیا ہے۔ اس نے انگریزی، کامرس اور سوشیالوجی کا پرچہ دینے والے امیدواروں کیلئے دوبارہ امتحانات کا اعلان کیا ہے۔ ایک ماہر کمیٹی نے سوالیہ پرچوں میں حقائق، طباعت، ترجمے اور زبان سے متعلق غلطیوں کی نشاندہی کی ہے جس کے بعد پیپر منسوخ کئے گئے۔
این ٹی اے کو بند کرنے کی مانگ
پیر کو ہی طلبہ تنظیموں کے کارکنوں نےاین ٹی اے کے خلاف زبردست احتجاج کیا اوراس کے دفتر کے باہر پہنچ کر ’’قیمت ہم نہیں چکائیںگے‘‘ کے نعرے لگائے۔ کانگریس نے بھی اس معاملے پر حکومت کو جم کر آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے جوابدہی طے کرنے کی مانگ کی ہے جبکہ اس کی طلبہ تنظیم این ایس یو آئی نے جگہ جگہ احتجاج کیا اور نشاندہی کی کہ این ٹی اے کی غلطی کی قیمت ان طلبہ کو چکانی پڑے گی جنہوں نے امتحان میں شرکت کی تھی۔ نئی دہلی میں این ٹی اے کے دفتر کے باہر احتجاج کے دوران مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ اس ایجنسی کو ختم کیا جائے کیونکہ اس کی بار بار کی کوتاہیوں نے طلبہ کے تعلیمی اور پیشہ ورانہ مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔آل انڈیا اسٹوڈنٹس اسوسی ایشن(آئیسا) نے اوکھلا انڈسٹریل اسٹیٹ میں این ٹی اے کے ہیڈکوارٹرز کے باہر مظاہرہ کے دوران الزام لگایا کہ ۳؍پرچوں کی منسوخی بدنظمی اور جواب دہی کے فقدان کی ایک اور مثال ہے۔اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا (ایس ایف آئی )نے بھی این ٹی اے کے دفتر کے باہر احتجاج کیا اور ملک بھر میں ایجنسی کے خلاف مظاہروں کی اپیل کی۔
متعدد طلبہ کو حراست میں لیاگیا
اس بیچ احتجاج کو ختم کرانے کیلئے متعدد طلبہ کو حراست میں لیاگیا۔ آئیسا نے کہا ہے کہ’’ہم احتجاج کرنے والے طلبہ کی وحشیانہ حراست کی سخت مذمت کرتے ہیں۔‘‘تنظیم نے الزام لگایا کہ پولیس کی کارروائی امتحانات میں بے ضابطگیوں کے خلاف سابقہ طلبہ تحریکوں کے دوران ہونے والی مبینہ کارروائیوں کا تسلسل ہے۔ پولیس کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیاگیا ، جبکہ حکومت بھی خاموش ہے۔
دیکھئے مودی جی این ٹی اے نے کیا کیا: راہل
یو جی سی- این ای ٹی کے ۳؍ پیپر منسوخ کئے جانے پر راہل گاندھی نے سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے براہ راست وزیر اعظم مودی کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔ انھوں نے این ٹی اے کے ذریعہ انگریزی، کامرس اور سماجیات کے امتحانات منسوخ کئے جانے سے متعلق اعلان پر مبنی ’ایکس‘ پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’دیکھیے مودی جی، آپ کی این ٹی اے نے کیا کر دیا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید لکھا ہے کہ ’’ غلطی این ٹی اے کرتا ہے، لیکن سزا طالب علم بھگتتا ہے۔‘‘
این ٹی اے کے ۳؍ افسر برطرف
یو جی سی- این ای ٹی کے امتحان(جون ۲۶ء) میں سوالیہ پرچوں کی خامیوں کے بعد نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کےمزید ۳؍ افسران کو برطرف کردیا گیا ہے۔ وزیر تعلیم پرہلاد جوشی نے کے مطابق این ٹی اے میں۵۰؍سے زائد ملازمین کو ہٹایا جا چکا ہے۔۲۴؍ جولائی کو۴۷؍ملازمین کو برطرف کیا گیا تھا، جبکہ اب مزید۳؍افراد کو ہٹا نے کے بعد یہ تعداد۵۰؍سے تجاوز کر گئی ہے۔وزارت نے کہا کہ یہ اقدامات این ٹی اے کے نظام میں اصلاحات کے تحت کئےجا رہے ہیں۔
’بوسٹن یونیوسٹی کو مجھ پر فخر ہے، دہلی
یونیورسٹی مودی پر فخر کا اظہار کیوں نہیں کرتی؟‘
پیر کو دپکے نے اطلاع دی کہ ’’بوسٹن یونیورسٹی نے اپناسابق طالب علم ہونے کی وجہ سے مجھ پر ایک مضمون شائع کیا ہے۔‘‘ انہوں نے سوال کیا کہ’’ دہلی یونیورسٹی مودی کو اپنے سابق طالب علم کی حیثیت سے فخر کے ساتھ کیوں پیش نہیں کرتی؟ وہ وزیراعظم ہیں، کیا یونیورسٹی کو ان کی ڈگری چھپانے کے بجائے فخر کرتے ہوئے اسے نمایاں نہیں کرنا چاہیے؟‘‘اس کے ساتھ ہی دپکے نے اپنے تعلق سے بوسٹن یونیورسٹی کے مضمون کا لنک بھی شیئر کیا۔
ابھیجیت دپکے نے بھی وزیراعظم مودی کو ڈگری دکھانے کا چیلنج کیا
نئی دہلی(ایجنسی): کاکروچ جنتا پارٹی(سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھی اب وزیراعظم مودی کو اپنی ڈگری عوام کے سامنے پیش کرنے کا چیلنج دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ بوسٹن یونیورسٹی سے حاصل کردہ اپنی ڈگری کے ساتھ اسکالر شپ لیٹر بھی دکھانے کوتیار ہیں۔دپکے نے پیر کو انسٹاگرام پر۵۱؍ سیکنڈ کےویڈیو میں کہا کہ’’میں اپنی ڈگری دکھاؤں گا، میرے پاس اسکالرشپ لیٹر بھی ہے، لیکن آپ کے ’پاؤ پاؤ‘ کیا دکھائیں گے؟“ دپکے نے یہ چیلنج اس لئے کیا کہ سوشل میڈیا پر کچھ افراد ان کی بوسٹن یونیورسٹی کی ڈگری اور اسکالرشپ کی صداقت پر سوالات اٹھارہے ہیں۔