Updated: January 05, 2026, 9:55 PM IST
| London
ہندہ اور حبا مریسی دس برس کی عمر سے گہری دوست ہیں، مگر آج وہ ایک دوسرے سے ۱۷۸؍ میل کے فاصلے، مضبوط جیل کی دیواروں اور بغیر مقدمہ غیر معینہ قید کے باعث جدا ہیں۔ حبا مریسی فلسطین ایکشن گروپ کے ان آخری ارکان میں شامل ہیں جو برطانیہ میں دہشت گرد تنظیم قرار دیئے جانے کے بعد مختلف جیلوں میں بھوک ہڑتال پر ہیں۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے ماہرین نے قیدیوں کی صحت، حراستی حالات اور بین الاقوامی قوانین کی ممکنہ خلاف ورزی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ہندہ اور حبا مریسی کی دوستی بچپن سے ہے، مگر دو دہائیوں بعد وہ ایک ایسے نظام کے تحت الگ کر دی گئی ہیں جس میں بغیر مقدمہ سماعت غیر معینہ قید ممکن ہے۔ حبا مریسی ان فلسطین ایکشن کارکنان میں شامل ہیں جو برطانیہ میں تنظیم کو کالعدم قرار دیئے جانے کے بعد مختلف جیلوں میں قید ہیں اور کئی ہفتوں سے بھوک ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بعض قیدی صحت بگڑنے کے بعد ہڑتال ختم کر چکے ہیں، جبکہ کچھ کو اسپتال منتقل کیا گیا۔ مکتوب میڈیا سے گفتگو میں ہندہ نے اپنی دوست کی صحت پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہیں چاہتیں کہ حبا طویل عرصے تک بھوک ہڑتال جاری رکھے۔ قیدیوں کا کہنا ہے کہ جیل سینسرشپ، خطوط اور ملاقاتوں پر پابندیوں کے ساتھ ساتھ ان پر سختیاں بڑھا دی گئی ہیں۔ ان کے مطالبات میں فلسطین ایکشن پر دہشت گردی کی پابندی ختم کرنا اور اسرائیلی اسلحہ ساز کمپنی ایلبٹ سسٹمز کی سرگرمیوں کو بند کرنا شامل ہے، جس پر غزہ میں استعمال ہونے والے ڈرون فراہم کرنے کے الزامات ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:وینزویلا کی حمایت میں عالمی برادری نےآواز بلند کی
حبا اور دیگر قیدی ایک سال سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے الزامات کے تحت بغیر مقدمہ قید ہیں۔ ان پر برسٹل میں ایلبٹ فیکٹری کو ایک ملین پاؤنڈ سے زائد نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔ اس مقدمے کا پہلا مرحلہ جاری ہے جبکہ فلسطین ایکشن کے خلاف عدالتی جائزہ بھی زیر سماعت ہے۔ ہندہ کے مطابق، حبا ایک حساس اور ہمدرد شخصیت کی مالک ہیں جو دوسروں کے ساتھ ہونے والے ظلم پر گہری فکر رکھتی ہیں۔ یمنی نژاد ہونے کے باعث وہ غزہ میں فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم کو ذاتی سطح پر محسوس کرتی ہیں۔ ہندہ کا کہنا ہے کہ انہیں اپنی دوست پر فخر ہے کیونکہ بھوک ہڑتال جیسا قدم اٹھانا غیر معمولی حوصلے کا متقاضی ہے۔ حبا کی بھوک ہڑتال ۲؍ نومبر سے جاری ہے اور یہ موجودہ مہم کی طویل ترین ہڑتال بن چکی ہے۔ دیگر قیدیوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے مطالبات تسلیم نہ کئے تو احتجاج مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ قانونی نمائندوں اور اہلِ خانہ کی کوششوں کے باوجود وزیر داخلہ نے قیدیوں کے وکلا سے ملاقات سے انکار کیا ہے، جس پر انسانی حقوق کے ماہرین نے صحت کو لاحق سنگین خطرات کی نشاندہی کی ہے۔
یاد رہے کہ ۲۶؍ دسمبر کو اقوام متحدہ کے ماہرین نے ایک بیان میں کہا کہ حراست میں قیدیوں کی صحت اور زندگی کے تحفظ سے متعلق بین الاقوامی قوانین کی پاسداری پر سنجیدہ سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔ اقوام متحدہ نے واضح کیا کہ قابلِ روک اموات کسی صورت قابل قبول نہیں۔ حبا کی والدہ نقل و حرکت کے مسائل کے باعث اب اپنی بیٹی سے ملنے سے قاصر ہیں، کیونکہ حبا کو لندن کی جیل سے ویسٹ یارکشائر منتقل کر دیا گیا ہے۔ ہندہ کے مطابق، اچانک منتقلی اور قیدی یونٹس میں حالات نے حبا کو شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کیا۔ اگرچہ نئی جیل میں رویہ نسبتاً بہتر بتایا گیا ہے، مگر حبا کا کہنا ہے کہ وہ اپنی والدہ سے ملاقات کے لیے دوبارہ برونزفیلڈ جیل جانا چاہتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:ایران: صورتحال کشیدہ، انٹرنیٹ معطل، بین الاقوامی ردِ عمل
بھوک ہڑتال کے دوران حبا کئی ہفتوں تک تنہائی میں رہیں اور ملاقاتوں پر پابندی رہی۔ مالی مشکلات، سیکوریٹی خدشات اور نسلی و جنسی تشدد کے واقعات کے باعث ہندہ کیلئے جیل جانا بھی ایک خوفناک تجربہ بن گیا ہے۔ ہندہ کہتی ہیں کہ بظاہر ٹھیک دکھائی دینے کے باوجود قیدی کی حالت اچانک بگڑ سکتی ہے۔ اس کے باوجود حبا اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام موت کیلئے نہیں بلکہ زندگی اور انصاف کی محبت میں اٹھایا گیا ہے۔ بھوک ہڑتال کرنے والوں کے اہلِ خانہ اور دوست ایک طرف شدید خوف اور دوسری جانب گہرے فخر کے جذبات رکھتے ہیں۔ برطانیہ سمیت دنیا بھر میں امریکہ سے ملائیشیا تک مظاہرے جاری ہیں، جہاں کارکنان سرکاری عمارتوں، ایلبٹ سہولیات اور برطانوی سفارت خانوں کے سامنے احتجاج کر رہے ہیں۔ قیدیوں کا کہنا ہے کہ یہ ہڑتال کبھی اس حد تک نہیں پہنچنی چاہیے تھی، مگر تمام دیگر راستے بند ہو چکے ہیں۔