• Sat, 07 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

برطانیہ: اے آئی کے خلاف ہاتھ سے سلے ۱۴؍ لحاف کے ساتھ فنکار کا منفرد احتجاج

Updated: November 06, 2026, 10:14 PM IST | London

برطانوی فنکار سی جے رے نے مصنوعی ذہانت، ٹیکنالوجی کی بڑھتی طاقت، سرمایہ داری اور فاشزم کے خلاف احتجاج کا منفرد طریقہ اختیار کیا ہے۔ چار ماہ کی محنت سے تیار کردہ ان کے ۱۴؍ ’انارکسٹک پرئیر کوئلٹس‘ میں سیاسی نعروں کو رنگین کپڑوں، فیلٹ اور ہاتھ کی سلائی کے ذریعے پیش کیا گیا ہے۔ فنکار کے نزدیک مشینوں اور اے آئی کے بڑھتے اثرات کے دور میں ہاتھ سے تخلیق کیا گیا فن انسانی ہنر، احساس اور اجتماعی مزاحمت کی علامت ہے۔

C J Reay (left). Image: X
سی جے رے (بائیں)۔ تصویر: ایکس

مصنوعی ذہانت اور ڈجیٹل ٹیکنالوجی کے خلاف احتجاج عموماً مظاہروں، پوسٹروں اور سوشل میڈیا مہمات کی شکل میں سامنے آتا ہے، لیکن برطانیہ کے ایک فنکار نے اس کے لیے سوئی، دھاگے اور کپڑے کا سہارا لیا ہے۔ فنکار سی جے رے (CJ Reay) نے ۱۴؍ ہاتھ سے تیار کردہ لحافوں کا ایک سلسلہ تخلیق کیا ہے، جس میں ڈیٹا سینٹرز، ٹیکنالوجی کے ارب پتی مالکان، سرمایہ داری اور فاشزم کو نشانہ بنانے والے نعرے درج ہیں۔ ان کا یہ کام ’انارکسٹ پرئیر کوئلٹس‘ (Anarchist Prayer Quilts) کے نام سے پیش کیا جا رہا ہے۔ ان میں ایک طویل لحاف پر درج نعرہ خاص طور پر توجہ حاصل کر رہا ہے: ’’ہر ڈیٹا سینٹر ملبے کا ڈھیر بن جائے، موت کی مشینیں کھنڈر اور زنگ آلود ہو جائیں، کنکریٹ کو چیر کر پھول کھلیں اور آخری ٹیکنالوجی لارڈ اپنی ہی بکواس کا شکار ہو۔‘‘ یہ پیغام محض ڈیٹا سینٹرز کے خلاف غصے کا اظہار نہیں بلکہ اس وسیع تر احتجاج کی نمائندگی کرتا ہے جس میں فنکار ٹیکنالوجی کی بے لگام توسیع اور اس کے پیچھے موجود طاقتور کاروباری مفادات پر سوال اٹھا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ریڈٹ نے آسٹریلیا کی ۱۶؍ سال سے کم عمر کے سوشل میڈیا پابندی کوغیر موثر قرار دیا

لحافوں پر دوسرے نعروں میں دولت مند طبقے کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایک پر لکھا ہے کہ ’’آج کے ظالم کل کی کھاد بنیں گے‘‘، جبکہ ایک اور تخلیق میں ’’امیر وہی پائیں گے جس کے وہ مستحق ہیں‘‘ کا پیغام دیا گیا ہے۔ ان کاموں میں فاشزم کے خلاف مزاحمت، اجتماعی طاقت، آزادی اور متبادل سماجی تصورات بھی نمایاں ہیں۔ رے کے سابقہ پوسٹرز میں بھی ایسے نعرے شامل رہے ہیں، مثلاً ’’کوئی عظیم رہنما نہیں، صرف عظیم عوام‘‘ اور ’’کوئیر یوٹوپیا محض خیالی تصورات نہیں، ضرورت ہیں۔‘‘ رے نے ان لحافوں کو تیار کرنے کے لیے پورے ۴؍ ماہ صرف کیے۔ مسلسل باریک سلائی اور کام پر توجہ دینے کے باعث انہیں شدید سر درد ہونے لگا اور آخرکار آنکھوں کا معائنہ بھی کرانا پڑا۔ فنکار نے دی گارڈین کو بتایا کہ ’’چار ماہ تک یہ کام کرنے کے بعد آخر میں مجھے بہت شدید سر درد ہونے لگا، اس لیے میں نے آنکھوں کا ٹیسٹ کروایا۔ میں نے تو اپنا پورا موسمِ گرما ہی برباد کرلیا۔‘‘ تاہم ان کی محنت کا نتیجہ ایسے فن پاروں کی صورت میں سامنے آیا ہے جو روایتی سیاسی پوسٹرز کے بجائے کپڑے اور سلائی کے ذریعے اپنا پیغام دیتے ہیں۔ سی جے رے برطانیہ میں ’بلیک لاج پریس‘ (Black Lodge Press) کے نام سے اپنے پوسٹرز اور گرافک ڈیزائن کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان کے کام میں نمایاں حروف، پرانی تصاویر اور دو رنگوں کی پرنٹنگ کا استعمال ہوتا ہے۔ ان کے انداز پر پنک موسیقی، خصوصاً بینڈ کراس (Crass) سے وابستہ فنکار جی ووشر اور معروف امریکی فنکارہ باربرا کروگر کے اثرات بھی دکھائی دیتے ہیں۔ رے کے مطابق کروگر کے کام میں سوال اٹھانے کا انداز انہیں پسند ہے، کیونکہ اس سے ناظرین کو اختیار، اقتدار اور سماجی مطابقت کی نوعیت پر غور کرنے کا موقع ملتا ہے۔
لحاف بنانے کی طرف ان کا رجحان اچانک پیدا نہیں ہوا۔ گزشتہ برس انہوں نے بریڈفورڈ کے ایک انارکسٹ سوشل کلب ’ون اِن ٹویلو‘کے ساتھ مل کر اس کی سوچ اور سرگرمیوں کی عکاسی کرنے والے بینرز تیار کیے تھے۔ اس کے علاوہ بارنسلے سوک کے ایک منصوبے میں بھی حصہ لیا، جو کان کنوں کی ہڑتال کے دوران ان کی بیویوں کے تیار کردہ بینرز سے متاثر تھا۔ ان تجربات نے انہیں روایتی لحاف سازی کی تاریخ اور مختلف معاشروں میں سلائی کے اجتماعی کردار سے روشناس کرایا۔ انہوں نے ویلش اور امیش لحافوں کے انداز کا مطالعہ کیا اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ مختلف علاقوں اور برادریوں میں کپڑے کے ڈیزائن کس طرح مشترکہ ثقافتی روایت کا حصہ بنتے رہے ہیں۔ رے کے لیے ان تخلیقات کی اہمیت صرف سیاسی نعروں تک محدود نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انارکی کو اکثر ’’ایک خوبصورت خیال‘‘ کہا جاتا ہے اور وہ اپنے فن میں اسی خوبصورتی کو انسانی تخلیق اور اجتماعی احساس کے ساتھ جوڑنا چاہتے ہیں۔ ان کے بقول، ڈجیٹل مشینری اور مصنوعی ذہانت میں انسانی ثقافت کے مسلسل ضم ہونے کے ماحول میں انسانی ہاتھ سے بنایا گیا فن ایک الگ اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اب ہر چیز اتنی جعلی محسوس ہوتی ہے کہ حقیقی فن تخلیق کرنا تقریباً ایک انقلابی عمل بن گیا ہے۔‘‘ ان کے نزدیک اے آئی سے تیار کردہ فن اور انسان کے ہاتھ سے تخلیق کیے گئے فن میں بنیادی فرق یہ ہے کہ دوسرے میں بنانے والے کی محنت، جسمانی تجربہ اور شخصیت شامل ہوتی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: کولنز ڈکشنری نے ’Mogging‘ کو۲۰۲۶ء کا ’ورڈ آف دی ایئر‘ قرار دیا

۳۸؍ سالہ رے کی پرورش کارلائل کے قریب ہوئی، جہاں ان کے بچپن کے زمانے میں انتہائی دائیں بازو کی سیاست اور فاشزم مخالف سرگرمیاں مقامی سماجی زندگی کا حصہ تھیں۔ بعد میں انہوں نے نیوکاسل میں سیاست اور سماجیات کی تعلیم حاصل کی اور وہاں کے متبادل ثقافتی مراکز میں زینز، مزاحمتی پوسٹرز اور خود سے تخلیق کیے جانے والے فن کے طریقوں سے واقف ہوئے۔ انہوں نے ایل جی بی ٹی کیو (LGBTQ+) صحت کے شعبے میں بھی کام کیا اور دوستوں کے ساتھ مل کر ’نیوکاسل نرڈ پنکس‘ کے نام سے کام شروع کیا، جس کے ذریعے کامکس، زینز اور متبادل سرگرمیوں کی رہنما فہرستیں تقسیم کی جاتی تھیں۔ وبا کے دور میں ان کے پوسٹرز کو زیادہ توجہ ملنے لگی اور بلیک لاج پریس ایک باقاعدہ شناخت بن گیا۔ آج انسٹاگرام پر ان کے تقریباً ایک لاکھ ۴۵؍ ہزار فالوورز ہیں، لیکن وہ اپنے فن کو زیادہ سے زیادہ تجارتی مصنوعات میں تبدیل کرنے کے حق میں نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی ویب سائٹ پر سال میں صرف چند مرتبہ ہی دکان کھولتے ہیں، کیونکہ وہ صارفیت کے اس کلچر کا حصہ نہیں بننا چاہتے جس میں ہر نعرے کو ٹی شرٹ یا کسی دوسری فروخت ہونے والی چیز پر چھاپ دیا جائے۔ ان کے نزدیک زینز اور پرنٹ شدہ مواد کے ذریعے متبادل خیالات کی آزادانہ تقسیم بھی اہم ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے الگورتھم اور مواد پر پابندیوں کے ماحول میں چھوٹے، آزاد اور زیرِ زمین اشاعتی نیٹ ورک دوبارہ اہمیت حاصل کرسکتے ہیں۔ ان کے یہ ۱۴؍ لحاف نومبر میں شیفیلڈ کی ’میموری ڈانس‘ نمائش میں ۵؍ سے ۲۸؍ نومبر تک پیش کیے جائیں گے، جبکہ دسمبر میں ۴؍ سے ۳۱؍ تاریخ تک لنکن کی ’بیس گیلری‘ میں رکھے جائیں گے۔ اس سلسلے نے رے کی پہلی کتاب کی تیاری کی راہ بھی ہموار کی ہے، جو جنوری میں شائع ہونے والی ہے۔ یوں ایک ایسا فنکار جو پہلے اپنے سیاسی پوسٹرز کے لیے پہچانا جاتا تھا، اب کپڑے اور دھاگے کے ذریعے ٹیکنالوجی کے دور میں انسانی تخلیق کی اہمیت پر بحث چھیڑ رہا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK