Inquilab Logo Happiest Places to Work

ڈھاکہ میں برطانیہ، آسٹریلیا، ای یو کے مشنز نے روہنگیا پناہ گزینوں کے میانمار واپسی کے حق پر زور دیا

Updated: August 25, 2026, 10:15 PM IST | Dhaka

۲۵ اگست کو منائے جانے والے ’روہنگیا نسل کشی یادگار دن‘ کے موقع پر جاری کردہ مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ۹ سال بعد بھی میانمار کی ریاست راکھینے میں تنازع کی شدت میں کمی نہیں آئی ہے اور انسانی بحران ہنوز برقرار ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ”غیر یقینی صورتحال، شہری انفراسٹرکچر پر فضائی حملے اور امداد نیز تجارت پر میانمار کے حکام کی ناکہ بندیاں انسانی بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہیں۔“

Photo: X
روہنگیا پناہ گزین۔ تصویر: ایکس

میانمار کے روہنگیا افراد کی بڑے پیمانے پر بنگلہ دیش ہجرت کی نویں برسی کے موقع پر، برطانیہ، آسٹریلیا، کنیڈا اور یورپی یونین (ای یو) سمیت ۱۶ سفارتی مشنز نے منگل کے روز ڈھاکہ میں ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں روہنگیا پناہ گزینوں کے اپنے آبائی ملک واپسی کے حق کا اعادہ کیا گیا۔ واضح رہے کہ میانمار کی فوج نے ۲۵ اگست ۲۰۱۷ء کو روہنگیا افراد کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کیا تھا جس کی وجہ سے لاکھوں افراد ملک چھوڑنے پر مجبور ہوگئے تھے۔ بنگلہ دیش کے شہر کاکس بازار کے جنوب مشرقی ساحل پر آج بھی تقریباً ۱۲ لاکھ مظلوم روہنگیا پناہ لئے ہوئے ہیں۔ 

۲۵ اگست کو منائے جانے والے ’روہنگیا نسل کشی یادگار دن‘ کے موقع پر جاری کردہ مشترکہ بیان کے مطابق، ۹ سال بعد بھی میانمار کی ریاست راکھینے میں تنازع کی شدت میں کمی نہیں آئی ہے اور انسانی بحران ہنوز برقرار ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ”غیر یقینی صورتحال، شہری انفراسٹرکچر پر فضائی حملے اور امداد نیز تجارت پر میانمار کے حکام کی ناکہ بندیاں انسانی بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہیں۔“ سفارتی مشنز نے اپنے بیان میں زور دیا کہ جاری عدم استحکام بنگلہ دیش اور خطے بھر میں مزید نقل مکانی کا سبب بن رہا ہے، جس کے نتیجے میں خطرناک سمندری سفر کے دوران جانی نقصان ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: نیدرلینڈز کا غزہ سے متعلق خدشات کے باعث ’یوروویژن ۲۰۲۷ء‘ میں شرکت سے انکار

مشنز نے تسلیم کیا کہ موجودہ حالات روہنگیا پناہ گزینوں کو رضاکارانہ، محفوظ، باوقار اور پائیدار واپسی کی اجازت نہیں دیتے، اور زور دیا کہ کسی بھی واپسی کیلئے نقل مکانی کی بنیادی وجوہات کو دور کرنے، برادریوں کے درمیان اعتماد کو بحال کرنے اور میانمار میں وسیع تر امن و استحکام کی حمایت کیلئے ایک تزویراتی، مربوط اور طویل مدتی طریقہ کار کی ضرورت ہے۔

سفارتی مشنز نے روہنگیا پناہ گزینوں کی واپسی کیلئے ضروری حالات پیدا کرنے میں تعاون کی خاطر بنگلہ دیش کے ساتھ مل کر کام جاری رکھنے کا عہد کیا۔ بیان کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ ”جیسے ہی یہ بحران اپنے دسویں سال میں داخل ہو رہا ہے، ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ روہنگیا عوام کو فراموش نہ کیا جائے۔ ہم روہنگیا برادریوں کی آواز کو بلند کرنا، انصاف اور احتساب کا مطالبہ کرنا، اور عالمی حمایت کو برقرار رکھنے کیلئے بنگلہ دیش اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنا جاری رکھیں گے۔“

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK