میونسپل حکام نے فنڈ جٹانے کیلئے یہ زمین نیلام کی جس کیلئے ’یوکے اسلامک مشن‘ نے کامیاب بولی لگائی۔
EPAPER
Updated: July 16, 2026, 12:00 PM IST | London
میونسپل حکام نے فنڈ جٹانے کیلئے یہ زمین نیلام کی جس کیلئے ’یوکے اسلامک مشن‘ نے کامیاب بولی لگائی۔
برطانیہ کے پیٹروبورو شہر کی مقامی حکومتی کونسل نے فنڈ کی کمی دور کرنے کے مقصد سے ایک ایسا قدم اٹھایا ہے، جس نے وہاں کے اقلیتی ہندو طبقہ کو ناراض کر دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق تقریباً۴۰؍ سال پرانے ایک ہندو مندر اور کمیونٹی سینٹر کی زمین کو قرض اور بجٹ خسارے میں ڈوبی سرکاری کونسل نے نیلام کر دیا۔ موصولہ خبروں کے مطابق اس زمین کو ’یوکے اسلامک مشن‘ کو سوپنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس فیصلہ کے بعد برطانیہ میں ہندو اور مسلم سماج کے درمیان بھی تنازع شروع ہو گیا ہے۔ حالات کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ معاملہ ملک کی سب سے بڑی عدالت میں پہنچ گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: گھڑیاں تبدیل کرنے کا نظام ختم؟سن شائن پروٹیکشن ایکٹ ایوان میں منظور
رپورٹ کے مطابق یہ تنازع لندن سے قریب۱۲۰؍ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع پیٹربورو شہر کا ہے۔ یہاں ایک سرکاری احاطہ ہے، جسے ’نیو انگلینڈ کمپلیکس‘ کہا جاتا ہے۔ اس احاطے میں گزشتہ۴؍ دہائی سے ’بھارت ہندو سماج‘ کا مندر اور کمیونٹی سینٹر چل رہا ہے۔ اس پوری زمین اور احاطے کا مالکانہ حق پیٹربرو شہر کی مقامی حکومت یعنی ’پیٹربرو سٹی کونسل‘ کے پاس ہے۔ کونسل کو اس وقت بجٹ خسارے کا سامنا ہے۔ اس خسارے کو پورا کرنے کے لیے کونسل نے اس سرکاری احاطے کو نیلام کیا۔ ’آج تک‘ نے مندر کی ایک ٹرسٹی کے حوالہ سے بتایا کہ ’’مندر کو بچانے کیلئے’ہندو ٹرسٹ نے۱ء۴؍ ملین پاؤنڈ کی خطیر رقم کی بولی لگائی تھی، لیکن سٹی کونسل نے ’یوکے اسلامک مشن‘ کی بولی زیادہ ہونے کا حوالہ دے کر زمین سونپنے کا فیصلہ سنا دیا۔‘‘ کونسل کے اس فیصلے کے خلاف ’بھارت ہندو سماج‘ نے برطانوی ہائی کورٹ کا رخ کیا ہے۔ ہندو ادارے نے کونسل کی نیت اور اسکے عمل پر سوالات قائم کیے ہیں۔ ہندو ادارے نے کہا ہے کہ ’’کونسل نے نیلامی کے دوران بولیوں کی جانچ اور اسکورنگ میں سنگین لاپروائی اور غلطیاں کیں۔ کونسل کے اراکین نے زمینی حقیقت اور اسکے سماجی اثرات کو دیکھے بغیر بند کمروں میں سفارشات کو منظوری دے دی۔‘‘