• Wed, 04 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

برطانیہ نے نئے امیگریشن قوانین کا اعلان کردیا

Updated: November 04, 2026, 3:17 PM IST | Agency | London

سیکریٹری آف اسٹیٹ برائے ہوم ڈپارٹمنٹ شبانہ محمودکا موقف ہے کہ امیگریشن سسٹم میں اصلاحات کا مقصد عوام پر مالی بوجھ کو کم کرنا ہے۔

Shabana Mahmood. Photo: INN
شبانہ محمود۔ تصویر: آئی این این

برطانیہ کے نئے امیگریشن قوانین کے مطابق سوشل کیئر کے شعبہ میں۲۵؍ ہزار پاؤنڈ سالانہ کمانے والے۵؍ برس بعد ہی مستقل قیام کی درخواست دے سکیں گے۔ اس سے قبل ایسے افراد کو مستقل قیام کیلئے ۱۵؍ بر س تک رہائش پذیر ہونا ضروری تھا۔  سیکریٹری آف اسٹیٹ برائے ہوم ڈپارٹمنٹ شبانہ محمود کے بقول  مئی۲۰۲۵ءسے پہلے آنے والے اس سہولت سے مستفید ہوسکیں گے۔

برطانوی وزیر داخلہ نے بتایا کہ کم آمدنی والے دیگر ورکرس کیلئے مستقل قیام کی شرط کو۱۰؍ برس کردیا گیا ہے جبکہ ۵۰؍ہزار سے زائد کمانے والے اور صحت و تعلیم میں خدمات سر انجام دینے والے۵؍ برس بعد ہی مستقل قیام کیلئےدرخواست دے سکیں گے۔مجرمانہ ریکارڈ، انگریزی نہ بولنے، قرضہ ادا نہ کرنے اور نیشنل انشورنس ادا نہ کرنے والوں کو مستقل رہائش  دینے سے انکار کردیا جائےگا۔ شبانہ محمود کا کہنا ہے کہ قانونی راستے سے آکر پناہ طلب کرنے والے۵؍ برس بعد مستقل قیام کی اجازت طلب کرسکیں گے جبکہ غیرقانونی تارکین وطن۲۰؍ برس بعد مستقل قیام کی درخواست دے سکیں گے، برطانیہ میں تعلیم یا ملازمت کرنے والوں پر بھی اسی شرط کا اطلاق ہوگا، ملازمت یا تعلیم حاصل نہ کرنے والوں کے مزید۱۰؍ برس بڑھ کر۳۰؍ سال ہوجائیں گے، برطانیہ میں رہنے کا حق اب خود بخود نہیں ملے گا، اسے محنت کرکے حاصل کرنا ہوگا۔

برطانوی  ذرائع ابلاغ کے مطابق امیگریشن قوانین کے تحت مستقل قیام کا حق رکھنے والا فرد جب تک چاہے قیام کرسکتا ہے،کام اور تعلیم حاصل کرنے کا حق بھی رکھتا ہے، مستقل قیام کی صورت میں اہل ہو تو وہ سہولیات کیلئے درخواست دینےکے علاوہ برطانوی شہریت کیلئے بھی رجوع کرسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: سرکاری کے ساتھ اب پرائیویٹ اسکولوں کے اساتذہ بھی مردم شماری کریں گے

میڈیا رپورٹ میں شبانہ محمود کو سابقہ حکومت کے دور میں نیٹ مائیگریشن کے بعد مستقل رہائش کے اہل افراد کی تعداد پر تشویش ہے۔ انہیںپہلے سے ملک میں موجود افراد پر نئے قوانین کے ممکنہ نفاذ پر حکومت کے اندر ہی تنقیدکا سامنا تھا۔  ’العربیہ ‘ کی خبر کے مطابق ہاؤسنگ سیکریٹری انجیلا رینر سمیت متعدد لیبر اراکین پارلیمان نے شبانہ محمودکی مجوزہ تجاویز کو غیر برطانوی قرار دیا تھا۔ شبانہ محمودکا موقف تھا کہ امیگریشن سسٹم میں اصلاحات کا مقصد عوام پر مالی بوجھ کو کم کرنا ہے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق ہوم آفس کے مطابق ۲۰۲۱ء سے۲۰۲۴ء کے درمیان برطانیہ کی آبادی میں ۲ء۶؍ ملین افراد کا اضافہ ہوا۔ ہوم آفس کی پیشگوئی کے مطابق۲۰۲۶ء سے۲۰۳۰ء تک۱ء۶؍  ملین افراد برطانیہ میں آباد ہوسکتے ہیں۔

خیال رہےکہ شبانہ محمود اسی امیگریشن سسٹم نظام کی تشکیل نو کر رہی ہیں جس کے تحت ان کے والدین کشمیر سے یہاں آئے تھے۔ برطانیہ کے  وزیر اعظم اینڈی برنہم کے مطابق یہ کہنا مشکل ہےکہ قانونی مائیگریشن کی سطح بہت زیادہ ہے یا بہت کم، قانونی مائیگریشن میں نمایاں کمی آئی ہے،۲۰۲۵ء میں نیٹ مائیگریشن ۱۷۱۰۰۰؍ رہی جو گزشتہ برس کے مقابلے میں نصف ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK