انگلینڈ اور ویلز کی عدالتوں نے ویڈیو ریکارڈنگ کی صلاحیت رکھنے والے Meta Smart Glasses کے استعمال پر پابندی عائد کردی ہے۔ عدالتوں میں داخل ہونے والے ایسے افراد کے چشمے ضبط کرلیے جائیں گے اور عمارت سے نکلتے وقت واپس کیے جائیں گے۔
EPAPER
Updated: August 13, 2026, 9:14 PM IST | London
انگلینڈ اور ویلز کی عدالتوں نے ویڈیو ریکارڈنگ کی صلاحیت رکھنے والے Meta Smart Glasses کے استعمال پر پابندی عائد کردی ہے۔ عدالتوں میں داخل ہونے والے ایسے افراد کے چشمے ضبط کرلیے جائیں گے اور عمارت سے نکلتے وقت واپس کیے جائیں گے۔
انگلینڈ اور ویلز کی عدالتوں نے Meta کے اسمارٹ چشموں کو عدالت کی عمارتوں میں لانے پر پابندی عائد کردی ہے۔ ان چشموں میں کیمرہ موجود ہے جس کے ذریعے انہیں پہنے ہوئے ویڈیو ریکارڈ کی جاسکتی ہے، جس کے باعث عدالتی کارروائی کی رازداری اور غیر مجاز ریکارڈنگ سے متعلق خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ His Majesty’s Courts & Tribunals Service (HMCTS)، جو انگلینڈ اور ویلز میں فوجداری، دیوانی اور خاندانی عدالتوں کا انتظام کرتا ہے، نے فیصلہ کیا ہے کہ Meta Smart Glasses پہن کر یا ساتھ لے کر عدالت میں داخل ہونے والے افراد کے چشمے ضبط کرلیے جائیں گے۔ انہیں عدالت سے باہر نکلتے وقت واپس کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: روس سے جنگ ختم کرنے کیلئے یوکرین نے امریکہ کو تجاویز پیش کیں
ایچ ایم سی ٹی ایس کے ترجمان نے کہا کہ ’’عدالتوں اور ٹریبونلز میں تصاویر یا ویڈیوز بنانے پر واضح پابندیاں عائد ہیں، اسی لیے Meta کے چشموں کا استعمال ممنوع ہے۔‘‘ برطانیہ میں عدالت کی عمارت کے اندر سرکاری اجازت کے بغیر تصویر یا ویڈیو بنانا ممنوع ہے اور اس پر توہینِ عدالت کی کارروائی بھی ہوسکتی ہے۔ یہ اقدام صرف عدالتوں تک محدود تشویش کا حصہ نہیں۔ برطانوی میڈیا کے مطابق ملک کے متعدد ریستوران، تھیٹر اور پب بھی Meta Smart Glasses کے استعمال پر پابندی لگا چکے ہیں۔ ایسے مقامات پر بنیادی خدشہ یہ ہے کہ چشمہ پہننے والا شخص بظاہر عام چشمہ استعمال کرتے ہوئے آس پاس موجود لوگوں کی ویڈیو بنا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ کی تباہ حال عمارتوں سے لاشیں نکالنے کا کام شروع
برطانیہ کا یہ فیصلہ نیویارک کی عدالتوں کے اقدام کے تقریباً ایک ماہ بعد سامنے آیا ہے۔ نیویارک میں بھی عدالتوں نے گزشتہ ماہ ان چشموں کے استعمال پر پابندی کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد عدالتوں میں خفیہ یا غیر مجاز ریکارڈنگ سے متعلق بحث مزید تیز ہوگئی۔ میٹا کے یہ اسمارٹ چشمے عام چشموں کی طرح پہنے جاتے ہیں، لیکن ان میں کیمرہ اور دیگر ٹیکنالوجی شامل ہے جس سے صارف اپنے اردگرد کی ویڈیو ریکارڈ کرسکتا ہے۔ اسی وجہ سے عدالتوں جیسے حساس مقامات پر ان کے استعمال سے یہ سوال پیدا ہوا ہے کہ آیا وہاں موجود افراد کو علم ہوگا کہ ان کی تصاویر یا ویڈیو بنائی جارہی ہے۔
برطانوی عدالتوں میں تصاویر اور ویڈیوز کی پابندی کا مقصد عدالتی کارروائی، گواہوں، متاثرین، ملزمان اور دیگر متعلقہ افراد کی رازداری برقرار رکھنا ہے۔ غیر مجاز ریکارڈنگ کو صرف انتظامی خلاف ورزی نہیں سمجھا جاتا بلکہ بعض صورتوں میں اسے Contempt of Court کے طور پر بھی کارروائی کا سامنا ہوسکتا ہے۔