Updated: October 09, 2026, 10:02 PM IST
| London
برطانیہ میں نفرت انگیز وال چاکنگ اور مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہنچانے جیسے نچلی سطح کے خطرات میں کمی آئی ہے، لیکن آتش زنی، ہتھیاروں، جان سے مارنے کی دھمکیوں اور تشدد پر مشتمل زیادہ سنگین واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ ان واقعات میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان پہنچانے کی ناکام بنائی گئی سازشیں بھی شامل ہیں، جن میں سے گزشتہ سال ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا تھا۔ یہ حملے ۶۴ مساجد اور متعلقہ عمارتوں پر کئے گئے، جن میں سے تقریباً ۲۰ فیصد ایک سال کے اندر متعدد واقعات کا سامنا کرنا پڑا۔
برٹش مسلم ٹرسٹ (بی ایم ٹی BMT) کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، برطانوی مساجد پر حملے مزید سنگین نوعیت کے ہوتے جا رہے ہیں، جبکہ مسلمانوں کو نچلی سطح پر ہراساں کرنے کے واقعات میں کمی آئی ہے۔ بی ایم ٹی نے جولائی ۲۰۲۶ء تک کے ایک سال کے دوران برطانیہ اور چینل جزائر میں مساجد کے خلاف ۷۸ حملے اور واقعات ریکارڈ کئے یعنی تقریباً ہر پانچ دن میں ایک واقعہ پیش آیا ہے۔
اگرچہ برطانیہ میں نفرت انگیز وال چاکنگ اور مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہنچانے جیسے نچلی سطح کے خطرات میں کمی آئی ہے، لیکن آتش زنی، ہتھیاروں، جان سے مارنے کی دھمکیوں اور تشدد پر مشتمل زیادہ سنگین واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ ان واقعات میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان پہنچانے کی ناکام بنائی گئی سازشیں بھی شامل ہیں، جن میں سے گزشتہ سال ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا تھا۔ یہ حملے ۶۴ مساجد اور متعلقہ عمارتوں پر کئے گئے، جن میں سے تقریباً ۲۰ فیصد ایک سال کے اندر متعدد واقعات کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ جنگ، ۳؍ سال: مظاہروں کا دائرہ وسیع، بارسلونا سے ایتھنز تک فری فلسطین کے نعرے
مسلمانوں کے خلاف نفرت سے نمٹنے کیلئے سرکاری نگراں ادارے کے طور پر گزشتہ سال قائم کئے جانے والے بی ایم ٹی نے کہا کہ نچلی سطح کے بے قابو واقعات نے مزید سنگین جرائم کی راہ ہموار کی ہے۔ ادارے کی چیف ایگزیکٹیو عقیلہ احمد نے کہا کہ ”آج ایک مسجد خالصتاً اس لئے غیر محفوظ ہے کیونکہ وہ ایک مسجد ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ”پیدا ہونے والی تفریق اور پولرائزیشن کی وجہ سے برطانوی مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔“
برطانوی ہوم آفس نے مساجد اور مسلم تنظیموں کے تحفظ کیلئے ۴۰ ملین پاؤنڈ مختص کئے ہیں۔ بی ایم ٹی نے نشاندہی کی کہ کچھ مساجد کو اس فنڈنگ کے حصول میں ۱۸ ماہ تک کی تاخیر کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ احمد نے نفرت کی بنیادی وجوہات سے نمٹنے کی کوششوں پر زور دیتے ہوئے متنبہ کیا کہ ان واقعات میں کمی کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ جنگ کے ۳؍ سال: تباہ شدہ پانی، بجلی نظام نے فلسطینیوں کی زندگی تباہ کر دی ہے!
رپورٹ میں ذکر کردہ مخصوص واقعات میں اسکاٹ لینڈ کے علاقے آئر (Ayr) میں رمضان کے دوران ایک مسجد کی کھڑکی پر بار بار کئے جانے والے حملے شامل ہیں جب خواتین اور بچے افطار کیلئے جمع تھے؛ ایڈنبرا کی ایک مسجد کے باہر نمازیوں کو چاقو مارنے کا واقعہ جس کے نتیجے میں دہشت گردی سے متعلق الزامات عائد کئے گئے؛ پیس ہیون، ایسٹ سسیکس میں ایک مسجد پر آتش زنی کا حملہ؛ اور جولائی میں اِپسوِچ (Ipswich) میں ایک اسلامی تقریب کو نشانہ بنانے کی مبینہ ”انتہائی دائیں بازو کی دہشت گردی سے متعلق“ سازش پر ۱۲ افراد کی گرفتاری جیسے واقعات شامل ہیں۔
رپورٹ میں سابق ایسٹ لندن سینٹرل سینی گوگ (یہودی عبادت گاہ) کی عمارت پر آتش زنی کا حملہ بھی شامل کیا گیا، جو مقامی صومالی کمیونٹی کی جانب سے اسے مسجد میں تبدیل کرنے کے منصوبے کے اعلان کے بعد چلائی جانے والی ایک آن لائن نفرت انگیز مہم کے نتیجے میں پیش آیا تھا۔ اس واقعے میں دو افراد کو گرفتار کیا گیا تھا، اگرچہ حملے کا محرک تاحال نامعلوم ہے۔