Updated: October 08, 2026, 7:05 PM IST
| Gaza
غزہ میں اکتوبر ۲۰۲۳ء سے جاری جنگ کے تقریباً تین سال بعد پانی، نکاسیِ آب اور بجلی کا بنیادی ڈھانچہ شدید تباہی کا شکار ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق ۸۸؍ فیصد زمینی واٹر و سینیٹیشن اثاثے اور ۷۶؍ فیصد زیرِ زمین نیٹ ورک تباہ یا متاثر ہوچکے ہیں، جبکہ توانائی کے تقریباً ۹۰؍ فیصد بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔ آئی سی آر سی کے مطابق غزہ میں پانی کی پیداوار جنگ سے پہلے کی سطح کے تقریباً ۴۰؍ فیصد تک رہ گئی ہے۔ لاکھوں افراد پانی کے ٹینکروں، محدود کنوؤں اور عارضی انتظامات پر انحصار کررہے ہیں۔ پانی کی آلودگی، سیوریج اور کچرے کے مسائل نے صحت کے خطرات بھی بڑھا دیے ہیں، جبکہ امدادی ادارے ایندھن، کلورین، جنریٹرز، پمپ اور اسپیئر پارٹس کی کمی کو بنیادی رکاوٹ قرار دے رہے ہیں۔
تصویر میں غزہ کی تباہ حالی دیکھی جا سکتی ہے۔ تصویر: آئی این این
غزہ میں صاف پانی کا حصول کبھی روزمرہ زندگی کی ایک معمولی ضرورت تھا، مگر اب یہی کام ہزاروں خاندانوں کے لیے روزانہ کی جدوجہد بن چکا ہے۔ لوگ پانی کے ٹینکروں کے انتظار میں قطاروں میں کھڑے ہوتے ہیں، بالٹیاں بھرتے ہیں اور پھر فیصلہ کرتے ہیں کہ محدود پانی پینے، کھانا پکانے، نہانے یا کپڑے دھونے میں کہاں خرچ کیا جائے۔ جون ۲۰۲۶ء میں ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی سے بات کرتے ہوئے پانچ بچوں کی ماں ہنادی العف نے بتایا کہ جنگ سے پہلے ان کے خاندان کو پانی کے لیے اس طرح کی جدوجہد نہیں کرنی پڑتی تھی۔ اب ان کے بچے اسکول جانے کے بجائے پانی لانے میں وقت صرف کرتے ہیں۔ یہ صرف ایک خاندان کی کہانی نہیں۔ اقوام متحدہ کے ستمبر کے جائزے کے مطابق اگست کے آغاز میں غزہ کے ۹۱؍ فیصد جائزہ لیے گئے خاندان درمیانے سے شدید درجے کی پانی کی عدم تحفظ کا سامنا کررہے تھے۔ پانی جمع کرنے کے مراکز پر شدید بھیڑ بھی صاف پانی تک رسائی کی بڑی رکاوٹوں میں شامل تھی۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی آباد کاروں کے حملے میں ایک فلسطینی شہید،۱۶؍افراد زخمی
پانی کا بنیادی ڈھانچہ کتنا تباہ ہوا؟
پانی کا بحران محض پانی کی قلت کا نتیجہ نہیں بلکہ اس پورے نظام کی تباہی سے جڑا ہے جس کے ذریعے پانی نکالا، صاف کیا اور گھروں تک پہنچایا جاتا تھا۔ اقوام متحدہ کے دستیاب نقصانات کے جائزے کے مطابق غزہ کے تقریباً ۸۸؍ فیصد زمینی واٹر، سینیٹیشن اور حفظانِ صحت کے اثاثے تباہ یا متاثر ہوئے ہیں، جبکہ ۷۶؍ فیصد زیرِ زمین نیٹ ورک کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ اسی جائزے کے مطابق توانائی کے بنیادی ڈھانچے، بشمول بجلی کی تقسیم کے نیٹ ورک اور متعلقہ اثاثوں، کا تقریباً ۹۰؍ فیصد تباہ یا متاثر ہوا ہے۔ آئی سی آر سی کے مطابق پانی کی پیداوار اکتوبر ۲۰۲۳ء سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں تقریباً ۴۰؍ فیصد رہ گئی ہے، جبکہ غزہ کے کنوؤں سے آزادانہ پانی کی پیداوار جنگ سے پہلے کے مقابلے میں ایک تہائی سے بھی کم رہ گئی ہے۔ اس صورتحال میں پانی کے ٹینکر اب لاکھوں لوگوں کے لیے بنیادی ذریعہ بن گئے ہیں۔ جولائی کے اختتام تک تقریباً ۷۵؍ فیصد آبادی پینے کے پانی کے حصول کے لیے واٹر ٹرکنگ پر انحصار کررہی تھی۔
باقی ماندہ نظام بھی مکمل صلاحیت سے نہیں چل رہا
جو پانی کا نظام ابھی باقی ہے، وہ بھی مسلسل رکاوٹوں سے دوچار ہے۔ پمپنگ اسٹیشن، کنویں، ڈی سیلینیشن پلانٹس اور سیوریج سسٹم بجلی کے بغیر نہیں چل سکتے، جبکہ غزہ کا باقاعدہ بجلی کا نظام جنگ کے دوران تقریباً ختم ہوچکا ہے۔ آئی سی آر سی نے جون میں بتایا تھا کہ غزہ ڈھائی سال سے زیادہ عرصے سے باقاعدہ بجلی کی فراہمی سے محروم ہے۔ پانی اور سینیٹیشن کی باقی سہولیات کو چلانے کے لیے جنریٹرز استعمال کیے جارہے ہیں، لیکن ان کے لیے ایندھن، تیل اور اسپیئر پارٹس درکار ہیں، جو خود شدید قلت کا شکار ہیں۔ یہ بحران کبھی کبھی ایک چھوٹی سی خرابی سے بھی پورے علاقے کی پانی کی فراہمی متاثر کرسکتا ہے۔ مارچ میں اقوام متحدہ نے بتایا تھا کہ غزہ سٹی کو پانی فراہم کرنے والی میکوروٹ لائن کی مرمت کے بعد بھی لائن صرف تقریباً ۶۵؍ فیصد صلاحیت پر چل رہی تھی اور تباہ شدہ تقسیم کار نیٹ ورک کے باعث پیدا ہونے والے پانی کا اندازاً ۷۰؍ فیصد ضائع ہورہا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: مصرکے صدرعبدالفتاح السیسی کے دورۂ جنوبی کوریا کا آغاز
پانی موجود ہو تو بھی پینے کے قابل نہیں
غزہ کا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ لوگوں کو کتنا پانی مل رہا ہے؛ سوال یہ بھی ہے کہ ملنے والا پانی محفوظ ہے یا نہیں۔ اگست میں صحت کے شعبے سے وابستہ اداروں نے غزہ بھر سے ۹۳۸؍ پانی کے نمونے جمع کیے۔ ان نمونوں کی جانچ ان سات لیبارٹریوں میں ہوئی جو شدید عملی مشکلات کے باوجود کام کررہی ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق ۷۳؍ فیصد سے زیادہ نمونے عالمی ادارۂ صحت کی تجویز کردہ فری ریزیڈیول کلورین کی سطح پر پورے نہیں اترے، جبکہ ۱۸؍ فیصد نمونوں میں مائیکرو بائیولوجیکل آلودگی پائی گئی۔ یہ صورتحال وقت کے ساتھ مزید خراب ہونے کے آثار بھی دکھا رہی ہے۔ ستمبر میں فلسطین میں عالمی ادارۂ صحت کی نمائندہ رائن ہلڈے وان ڈی ویرڈٹ کے مطابق جنوری سے اگست کے درمیان ۶؍ ہزار ۷۰۰؍ سے زیادہ پانی کے نمونوں کی جانچ کی گئی اور مائیکرو بائیولوجیکل آلودگی جنوری کے ۶؍ فیصد سے بھی کم سے بڑھ کر اگست میں ۱۸؍ فیصد سے زیادہ ہوگئی۔ اسی عرصے میں شدید آبی اسہال کے کیسز تقریباً دوگنے ہوئے۔
سیوریج، کچرا اور بیماری کا بڑھتا خطرہ
پانی کی قلت نے نکاسیِ آب کے بحران کو بھی مزید سنگین کردیا ہے۔ جولائی کی اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ غزہ میں تقریباً ۶۰؍ فیصد آبادی اپنے عارضی ٹھکانوں سے ۱۰؍ میٹر کے اندر سیوریج یا انسانی فضلے کے سامنے رہ رہی تھی، جبکہ ۹؍ لاکھ سے زیادہ افراد رہائشی علاقوں میں جمع کچرے سے متاثر تھے۔ ستمبر میں بھی صورتحال نازک رہی۔ اقوام متحدہ کے مطابق بعض عارضی کچرا گاہیں اپنی گنجائش سے تجاوز کرچکی تھیں، جبکہ کچھ مقامات مکمل گنجائش تک پہنچنے کے بعد کام کرنا بند کرچکے تھے۔ اس صورتحال نے بارشوں کے موسم سے پہلے سیلاب اور بیماریوں کے خدشات مزید بڑھا دیے ہیں۔ صحت کے شعبے پر اس کا براہِ راست اثر پڑ رہا ہے۔ صاف پانی، مناسب بیت الخلا اور حفظانِ صحت کی سہولیات کی کمی جلدی بیماریوں، اسہال اور دیگر انفیکشنز کے پھیلاؤ کے امکانات بڑھا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی کامیابی ہی امریکہ کو دیوالیہ ہونے سے بچا سکتی ہے: ٹرمپ
پانی کا بحران بچوں اور خواتین کے لیے الگ بوجھ
پانی کے بحران کا ایک کم نظر آنے والا اثر وقت اور انسانی وقار پر پڑتا ہے۔ جب ایک خاندان کو روزانہ کئی گھنٹے صرف پانی جمع کرنے میں لگانے پڑیں تو تعلیم، روزگار، آرام اور خاندان کے دیگر کام پیچھے چلے جاتے ہیں۔ خاص طور پر بچوں کے لیے پانی لانے کی ذمہ داری اسکول اور کھیل کے وقت کو کم کردیتی ہے۔ ہنادی العف کا تجربہ اسی تبدیلی کی ایک مثال ہے؛ ان کے بچوں کے لیے پانی جمع کرنا اب روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ طویل عرصے تک ناکافی پانی اور ناقص صفائی کا ایک نفسیاتی اثر بھی ہے۔ لوگوں کے لیے بنیادی صفائی برقرار رکھنا مشکل ہوجاتا ہے، جس سے بے بسی، ذہنی دباؤ اور اپنے وقار کے متاثر ہونے کا احساس بڑھتا ہے۔
اسرائیل پر پانی کو ’’ہتھیار‘‘ بنانے کا الزام
غزہ کے پانی کے بحران کی ذمہ داری اور اس کی قانونی تعبیر پر بین الاقوامی سطح پر شدید اختلاف موجود ہے۔ تاہم، طبی امدادی تنظیم میڈیسنز سانز فرنٹیئرز (ایم ایس ایف) نے اپریل ۲۰۲۶ء کی اپنی رپورٹ میں الزام عائد کیا کہ اسرائیلی حکام نے پانی تک رسائی کو فلسطینیوں کے خلاف اجتماعی سزا کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کیا ہے۔ ایم ایس ایف کے مطابق اکتوبر ۲۰۲۳ء کے بعد بجلی، ایندھن اور پانی کے نظام کو چلانے کے لیے درکار جنریٹرز، اسپیئر پارٹس اور انجن آئل کی فراہمی شدید متاثر ہوئی۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ پانی اور سینیٹیشن کے ضروری سامان کی اس کی ایک تہائی درخواستیں مسترد کردی گئیں یا ان کا جواب نہیں دیا گیا۔ ایم ایس ایف نے اسے پانی کی ’’منظم اور مسلسل‘‘ محرومی قرار دیتے ہوئے اسرائیلی حکام سے غزہ میں مطلوبہ سطح پر پانی کی فراہمی بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ تنظیم کی جانب سے پیش کیا گیا موقف ہے، جسے اسرائیلی حکومت کی جانب سے اس رپورٹ میں پیش کیے گئے الزامات کے حوالے سے جواب کے ساتھ الگ سے پرکھنا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جنگ ختم کرنے کیلئے ایران کو جوہری افزودگی کم کرنی ہو گی: جے ڈی وینس
بحالی میں صرف پیسہ نہیں، پورا نظام درکار ہوگا
غزہ کے پانی اور بجلی کے نظام کی بحالی کا مطلب صرف تباہ شدہ پائپ یا چند پمپ دوبارہ لگانا نہیں ہے۔ اس کے لیے بجلی کی لائنیں، ٹرانسفارمرز، جنریٹرز، پانی صاف کرنے والے پلانٹس، پمپنگ اسٹیشن، سیوریج نیٹ ورک، کلورین اور دیگر کیمیائی مواد، اسپیئر پارٹس اور بھاری مشینری درکار ہوگی۔ جون میں الائنس فار واٹر جسٹس اِن فلسطین کے حوالے سے پیش کیے گئے تخمینے کے مطابق اگر تعمیراتی سامان فوری طور پر غزہ میں داخل ہونے دیا جائے تب بھی بجلی کے بنیادی نظام کی بحالی میں تین سے پانچ سال لگ سکتے ہیں۔ لیکن مسئلہ صرف تعمیر نو کا نہیں۔ ستمبر تک اقوام متحدہ کی رپورٹس میں ضروری آلات، جنریٹرز، اسپیئر پارٹس، انجن آئل اور پانی صاف کرنے کے لیے درکار مواد کی رسائی میں رکاوٹوں کی نشاندہی کی جاتی رہی ہے۔ غزہ میں پانی کا بحران یوں ایک دوسرے سے جڑے کئی بحرانوں میں تبدیل ہوچکا ہے: تباہ شدہ بجلی کا نظام پانی کی پیداوار کو محدود کرتا ہے، پانی کی کمی صفائی اور سینیٹیشن کو متاثر کرتی ہے، ناقص سینیٹیشن پانی کو مزید آلودہ کرتی ہے اور آلودہ پانی بیماریوں کے خطرے کو بڑھاتا ہے۔ تین سال بعد غزہ کے بہت سے خاندانوں کے لیے بنیادی سہولیات کی تعریف اب بھی وہی ہے جو دنیا کے دوسرے حصوں میں معمول سمجھی جاتی ہے: نل سے پانی آنا، پینے کے لیے محفوظ پانی ملنا، کام کرتا ہوا بیت الخلا اور بجلی کا دستیاب ہونا۔ لیکن یہاں یہ سہولیات دوبارہ حاصل کرنا ایک طویل اور پیچیدہ تعمیرِ نو کا سوال بن چکا ہے۔