• Wed, 02 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

”آر ایس ایس کی جانب سے لاحق خطرات حقیقی ہیں“: برطانیہ میں موہن بھاگوت کے بائیکاٹ کا مطالبہ

Updated: September 02, 2026, 10:05 PM IST | London

۲۰ سے زائد تنظیموں کے ذریعے برطانوی دفترِ خارجہ کو لکھے گئے ایک خط میں الزام لگایا کہ بھاگوت کا دورہ ملک میں آر ایس ایس سے وابستہ افراد کو نفرت انگیز تقاریر پھیلانے کی شہ دے گا، ہندوستانی تارکینِ وطن میں مزید تفریق پیدا کرے گا اور کمزور برادریوں کیلئے خوف اور ہراسانی کا ماحول پیدا کرے گا۔“ خط میں امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (یو ایس سی آئی آر ایف) کی اسی طرح کی کارروائی کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔

Mohan Bhagwat. Photo: X
موہن بھاگوت۔ تصویر: ایکس

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت کے دورۂ برطانیہ سے قبل، ہند نژاد تارکینِ وطن کی ۲۰ سے زائد تنظیموں نے برطانیہ کے مذہبی آزادی یا عقیدے (ایف او آر بی) پینل اور آل پارٹی پارلیمانی گروپ (اے پی پی جی) سے ان کی تقریبات کا بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور ایف او آر بی کے خصوصی ایلچی ڈیوڈ اسمتھ ایم پی اور اے پی پی جی کے چیئرمین جم شینن ایم پی پر زور دیا ہے کہ وہ آر ایس ایس کی عوامی سطح پر مذمت کریں اور اس کے ارکان اور اس سے وابستہ افراد پر پابندیاں عائد کریں۔

یہ بھی پڑھئے: نیویارک: مسلمانوں کو ہندوستان سے نکالنے کا سوچنے والا ہندو نہیں رہ سکتا: موہن بھاگوت

برطانوی دفترِ خارجہ کو لکھے گئے ایک خط میں تنظیموں نے الزام لگایا کہ بھاگوت کا یہ دورہ ”برطانیہ میں ان کے حامیوں کی مدد سے چلائی جانے والی ایک ایسی عوامی مہم کا حصہ ہے جس کا مقصد تنظیم کے تشخص کو بہتر بنانا ہے۔“ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ دورہ برطانیہ میں آر ایس ایس سے وابستہ افراد کو نفرت انگیز تقاریر پھیلانے کی شہ دے گا، ہندوستانی تارکینِ وطن میں مزید تفریق پیدا کرے گا اور کمزور برادریوں کیلئے خوف اور ہراسانی کا ماحول پیدا کرے گا۔“ خط میں امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (یو ایس سی آئی آر ایف) کی اسی طرح کی کارروائی کا حوالہ دیا گیا۔ یاد رہے کہ یو ایس سی آئی آر ایف نے ہندوستان کو مسلسل سات سال تک خصوصی تشویش کا حامل ملک نامزد کیا ہے اور حال ہی میں واشنگٹن پر زور دیا ہے کہ وہ بھاگوت کا ویزا منسوخ کرے۔

یہ بھی پڑھئے: موہن بھاگوت کا کنیڈا میں بیان: ’حملہ آور بن کر آئے لیکن اب بھی پھل پھول رہے ہیں۔۔۔‘

واضح رہے کہ امریکہ اور کنیڈا کے سابقہ دوروں، جن پر تارکینِ وطن برادریوں کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا تھا، کے بعد بھاگوت ۲ سے ۷ ستمبر کے دوران برطانیہ کا دورہ کریں گے۔ خط میں آر ایس ایس کے نظریہ ساز ایم ایس گولوالکر پر بھی تنقید کی گئی کہ انہوں نے مبینہ طور پر اقلیتوں کے ساتھ ہندوستان کے سلوک کیلئے ہٹلر کے یہودیوں کے ساتھ برتاؤ کو ایک نمونے کے طور پر پیش کیا تھا۔ خط میں آر ایس ایس کا تعلق ناروے کے اجتماعی شوٹر اینڈرس بریوک سمیت عالمی سطح پر تشدد کو ہوا دینے سے جوڑا گیا ہے۔ اس خط پر دستخط کرنے والوں میں ساؤتھ ایشیا سولیڈیریٹی گروپ، یوکے انڈین مسلم کونسل، ہندوز فار ہیومن رائٹس یو کے اور دلت سولیڈیریٹی نیٹ ورک یو کے سمیت دیگر تنظیمیں شامل تھیں۔

یہ بھی پڑھئے: میونسپل طلبہ کو آر ایس ایس سے وابستہ تنظیموں کےکیمپس لے جانے کی تجویز منظور

علیحدہ طور پر، تارکینِ وطن کی ۲۰ سے زائد تنظیموں نے لندن کے میئر صادق خان کو خط لکھ کر مطالبہ کیا کہ وہ بھاگوت کی تقریبات کا بائیکاٹ کریں، جی ایل اے (GLA) کے زیرِ انتظام مقامات تک رسائی سے انکار کریں اور آر ایس ایس سے وابستہ گروہوں کا نشانہ بننے والی برادریوں کیلئے میٹروپولیٹن پولیس کے حفاظتی اقدامات کی وضاحت کریں۔ لیبر رکنِ پارلیمنٹ نادیہ وٹوم نے بھی حکومت کی ”ناقابلِ قبول طرزِ عمل“ سے متعلق پالیسی کے تحت بھاگوت کے دورے کے خطرات کے تخمینے پر سوال اٹھاتے ہوئے ایک پارلیمانی سوال پیش کیا ہے، جس پر ہوم سیکرٹری شبانہ محمود کی جانب سے ۳ ستمبر کو جواب دیئے جانے کی توقع ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK