Updated: February 10, 2026, 7:09 PM IST
| London
برطانیہ میں جاری مہاجر مخالف مظاہروں اور سخت امیگریشن مباحثے کے دوران ایک تازہ تحقیقی رپورٹ نے انکشاف کیا ہے کہ ہند نژاد افراد برطانوی معیشت، افرادی قوت اور سروس سیکٹر کی ریڑھ کی ہڈی بن چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ہندوستانی کمیونٹی نے ٹیکنالوجی، صحت، تعلیم اور کاروباری شعبوں میں طویل المدتی اور ساختی کردار ادا کیا ہے، جسے موجودہ سیاسی بیانیے میں اکثر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
برطانیہ میں مہاجرین اور امیگریشن کے خلاف جاری مظاہروں کے پس منظر میں ایک جامع تحقیقی رپورٹ نے اس بیانیے کو چیلنج کیا ہے جس کے مطابق ہجرت ملکی معیشت پر بوجھ بنتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی نژاد برطانوی شہری ملک کی معیشت، روزگار اور کلیدی خدماتی شعبوں کے لیے ایک بنیادی ستون کی حیثیت رکھتے ہیں، اور ان کی شراکت کو نظر انداز کرنا حقائق سے انحراف کے مترادف ہے۔ یہ رپورٹ ایسٹن انڈیا سینٹر اور ناؤ ۳۶۵؍ ہیئر کی مشترکہ تحقیق پر مبنی ہے، جس میں برطانیہ میں ہندوستانی ہجرت کے چار بڑے ادوار کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ۱۹۵۰ء کی دہائی سے لے کر اب تک مختلف لہروں میں آنے والی ہندوستانی کمیونٹی نے نہ صرف افرادی قوت کی کمی کو پورا کیا بلکہ برطانوی معیشت کی ساخت کو مضبوط بنانے میں بھی کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ جنگ کے سائے میں عالمی میڈیا کا بحران: صحافی ہلاکتیں، دباؤ اور سنسرشپ
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ہندوستانی نژاد افراد خاص طور پر ٹیکنالوجی، آئی ٹی، صحت اور پیشہ ورانہ خدمات کے شعبوں میں نمایاں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، برطانیہ کے ٹیک سیکٹر میں ہندوستانی نژاد پیشہ ور افراد کا تناسب غیر معمولی طور پر زیادہ ہے، جس نے ملک کو عالمی ڈیجیٹل معیشت میں مسابقت کے قابل رکھا۔ اسی طرح نیشنل ہیلتھ سروس میں ہندوستانی نژاد ڈاکٹروں اور طبی عملے کی شمولیت کو خدمات کی تسلسل کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔ یہ نتائج ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب برطانیہ کے مختلف شہروں میں مہاجرین کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں، جن میں امیگریشن کی سطح کم کرنے اور پناہ گزینوں کی آمد روکنے کے مطالبات شامل ہیں۔ سیاسی سطح پر بھی امیگریشن ایک حساس موضوع بنا ہوا ہے، اور حکومت نے حالیہ برسوں میں ویزا قوانین اور داخلے کے ضوابط کو مزید سخت کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سپر باؤل ۲۶ء: بیڈ بنی کا پیغامِ اتحاد، ٹرمپ کی تنقید، گلوکار کا انسٹاگرام خاموش
رپورٹ کے مصنفین کا کہنا ہے کہ اس سیاسی بحث میں اکثر امیگریشن کو ایک عددی مسئلہ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جبکہ اس کے معاشی اور ادارہ جاتی فوائد کو پس منظر میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق، ہندوستانی نژاد افراد کی شراکت محض روزگار تک محدود نہیں بلکہ انہوں نے کاروبار، اسٹارٹ اپس اور چھوٹے و درمیانے درجے کے اداروں کے ذریعے مقامی معیشت کو بھی تقویت دی ہے۔ تحقیق میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ ہندوستانی کمیونٹی کی کامیابی کا ایک پہلو ان کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ مہارت ہے، جس نے انہیں اعلیٰ قدر والے شعبوں میں جگہ بنانے میں مدد دی۔ اس کے نتیجے میں ٹیکس آمدنی، اختراعات اور عالمی روابط میں اضافہ ہوا، جس سے برطانوی معیشت کو براہِ راست فائدہ پہنچا۔
یہ بھی پڑھئے: ڈلاس پر امریکی قانون ساز کا متنازع بیان، ’اسلامائزیشن‘ کے دعوے پر شدید ردِعمل
یاد رہے کہ رپورٹ ایسے وقت میں شائع ہوئی ہے جب برطانیہ میں مہاجر مخالف بیانیہ عوامی مباحثے پر حاوی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس بیانیے میں مختلف مہاجر گروہوں کو ایک ہی پیمانے سے ناپا جاتا ہے، جبکہ حقائق بتاتے ہیں کہ مختلف کمیونٹیز کی معاشی شراکت میں نمایاں فرق ہوتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس رپورٹ کی اہمیت صرف ہندوستانی کمیونٹی کے دفاع میں نہیں بلکہ پالیسی سازی کے لیے ایک ڈیٹا پر مبنی بنیاد فراہم کرنے میں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر امیگریشن پالیسی حقائق کے بجائے جذبات یا سیاسی دباؤ کے تحت بنائی گئی تو اس سے ایسے شعبے متاثر ہو سکتے ہیں جو پہلے ہی مہارت کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ ہندوستانی نژاد برطانوی افراد کو محض مہاجر کے طور پر نہیں بلکہ برطانیہ کے سماجی و معاشی ڈھانچے کے مستقل حصے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ مصنفین کے مطابق، امیگریشن پر بحث اس وقت ہی متوازن ہو سکتی ہے جب وہ ڈیٹا، شراکت اور طویل المدتی اثرات کو مرکز میں رکھے، نہ کہ صرف عوامی دباؤ اور انتخابی سیاست کو۔