Updated: February 09, 2026, 8:11 PM IST
| Dallas
امریکی ریپبلکن قانون ساز برینڈن گل کے اس بیان پر تنازع کھڑا ہو گیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ ٹیکساس کا شہر ڈلاس ’’پاکستان جیسا محسوس ہوتا ہے‘‘ اور وہاں ’’اسلامائزیشن‘‘ ہو رہا ہے۔ ان کے اس دعوے پر مسلم تنظیموں، شہری حقوق کے کارکنوں اور سیاسی حلقوں نے سخت تنقید کی ہے اور بیان کو اسلاموفوبک اور حقائق سے عاری قرار دیا ہے۔
برینڈن گل۔ تصویر: آئی این این
امریکہ کے ریپبلکن قانون ساز برینڈن گل کے ایک متنازع بیان نے سیاسی اور سماجی سطح پر شدید بحث چھیڑ دی ہے، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ٹیکساس کے شہر ڈلاس کے بعض حصے ’’پاکستان جیسے محسوس ہوتے ہیں‘‘ اور وہاں ’’اسلامائزیشن‘‘ کا عمل جاری ہے۔ برینڈن گل، جو امریکی ایوانِ نمائندگان میں ٹیکساس کی نمائندگی کرتے ہیں، نے ایک حالیہ انٹرویو اور سوشل میڈیا پوسٹس میں کہا کہ ڈلاس کے بعض تجارتی مراکز اور رہائشی علاقوں میں ثقافتی تبدیلی نمایاں ہے، جسے انہوں نے ’’اسلامی ہجرت‘‘ سے جوڑا۔ ان کے مطابق یہ تبدیلی ’’امریکی شناخت‘‘ کے لیے ایک مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ گل نے اپنے بیان میں کسی سرکاری اعداد و شمار، تحقیقی رپورٹ یا حکومتی دستاویز کا حوالہ نہیں دیا، تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ مقامی شہریوں کی شکایات ان کے موقف کی بنیاد ہیں۔ ان کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں فوری ردِعمل سامنے آیا۔
یہ بھی پڑھئے: ایپسٹین جیسے چہرے نے رفعت اوزدمیر کو سماجی دباؤ میں مبتلا کر دیا
مسلم تنظیموں اور شہری حقوق کے گروپوں نے گل کے بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بیانات نہ صرف گمراہ کن ہیں بلکہ امریکی آئین میں درج مذہبی آزادی اور مساوات کے اصولوں کے منافی ہیں۔ متعدد تنظیموں نے کہا کہ کسی شہر میں مذہبی یا نسلی تنوع کو ’’خطرہ‘‘ قرار دینا سماجی تقسیم کو ہوا دیتا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، برینڈن گل کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ میں امیگریشن، شناخت اور مذہب کے موضوعات پر سیاسی کشیدگی پہلے ہی موجود ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات عوامی خدشات کو بڑھانے اور انتخابی سیاست میں مخصوص ووٹ بینک کو متحرک کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ڈلاس، جو امریکہ کے بڑے اور متنوع شہروں میں شمار ہوتا ہے، میں مختلف نسلی اور مذہبی برادریاں آباد ہیں، جن میں مسلم کمیونٹی بھی شامل ہے۔ سرکاری مردم شماری کے مطابق، مسلمان شہر کی مجموعی آبادی کا ایک محدود حصہ ہیں اور ان کی موجودگی کئی دہائیوں سے ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کے خلاف بحیرۂ روم کی ۲۰؍ سے زائد بندرگاہوں پر ورکرز یونین کی ہڑتال
ڈیموکریٹک پارٹی کے لیڈروں اور بعض ریپبلکن سیاستدانوں نے بھی گل کے بیان سے فاصلہ اختیار کیا ہے اور کہا ہے کہ ثقافتی تنوع کو خطرے کے طور پر پیش کرنا امریکہ کی جمہوری روایت کے خلاف ہے۔ ان کے مطابق، ایسے بیانات سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی گل کے بیان پر شدید ردِعمل سامنے آیا، جہاں متعدد صارفین نے کہا کہ ’’پاکستان جیسا‘‘ کہنا بذاتِ خود ایک منفی اور تعصب پر مبنی تشبیہ ہے۔ کئی صحافیوں اور ماہرین نے نشاندہی کی کہ اس طرح کے بیانات نہ تو حقائق پر مبنی ہوتے ہیں اور نہ ہی کسی سنجیدہ پالیسی بحث میں مدد دیتے ہیں۔ خیال رہے کہ برینڈن گل نے اب تک اپنے بیان پر معذرت یا وضاحت جاری نہیں کی ہے، تاہم تنازع برقرار ہے اور معاملہ امریکہ میں اسلاموفوبیا، سیاسی بیان بازی اور مذہبی آزادی سے متعلق وسیع تر بحث کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔