Inquilab Logo Happiest Places to Work

برطانیہ کی سپریم کورٹ نے فلسطین ایکشن پر پابندی کے خلاف اپیل کی منظوری دی

Updated: July 31, 2026, 9:04 PM IST | London

برطانیہ کی اعلیٰ ترین عدالت نے فلسطین ایکشن پر پابندی کے خلاف اپیل کی منظوری دے دی، تنظیم کے بانی کا کہنا ہے کہ یہ پابندی غیر قانونی ہے اور آزادی اظہار اور احتجاج کے حقوق کی خلاف ورزی کرتی ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

برطانیہ کی سپریم کورٹ نے جمعرات کو فلسطین ایکشن کی شریک بانی ہدا امروی کو اپیل کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف چیلنج دائر کرنے کی اجازت دے دی جس نے اس گروپ پر عائد پابندی کو برقرار رکھا تھا۔ امروی اس فیصلے کو کالعدم کرانے کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے کہا کہ امروی اپیل کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کر سکتی ہیں، اور یہ کیس۲۰۲۶ء کی آخری سہ ماہی میں سماعت کے لیے پیش کیا جائے گا۔ امروی نے امریکی سوشل میڈیا کمپنی ایکس پر لکھا، ’’ہم سپریم کورٹ میں یہ دلیل دیں گے کہ یہ پابندی غیر قانونی ہے، کیونکہ یہ آزادی اظہار اور احتجاج کے حق کے لیے غیر متناسب ہے۔ یہ جدوجہد جاری رہے گی۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: غزہ: تاریخی امن معاہدے میں حماس ’مکمل غیر مسلح ہونے‘ کیلئے رضامند: ٹرمپ کا دعویٰ

دریں اثنا، ڈیفینڈ آور جیوریز گروپ نے کہا کہ ویسٹ منسٹر میجسٹریٹس کورٹ کے باہر دہشت گردی کے قانون کے تحت پولیس افسران نے۷۰؍ افراد کو گرفتار کیا ہے۔واضح رہے کہ فلسطین ایکشن پر گزشتہ جولائی میں دہشت گردی  قانون کے تحت اس وقت پابندی عائد کی گئی تھی، جب اس گروپ کے ارکان نے رائل ایئر فورس کے اڈے میں داخل ہو کر دو طیاروں پر سپرے پینٹ کیا، جس سے پولیس کے مطابق۷؍ ملین پاؤنڈ کا نقصان ہوا۔ اس کے بعد سے پورے برطانیہ میں سینکڑوں فلسطینی حامی کارکنان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔حالانکہ ہائی کورٹ نے فروری میں فیصلہ دیا تھا کہ یہ پابندی غیر متناسب اور غیر قانونی ہے، لیکن گزشتہ ماہ کورٹ آف اپیل نے اس فیصلے کو کالعدم کر دیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے ماہرین نے برطانیہ میں پرامن احتجاج کے خلاف بڑھتی ہوئی کارروائی  کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطین ایکشن کو دہشت گرد گروپ قرار دینے کی پابندی کو واپس لے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK