Updated: October 12, 2026, 10:00 PM IST
| London
ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے درمیان برطانیہ کے ممتاز تعلیمی ادارے ونچسٹر کالج نے طلبہ کی بہتر تعلیم اور توجہ برقرار رکھنے کے لیے قلم اور کاغذ سے پڑھائی کا طریقہ دوبارہ اپنا لیا ہے۔ اسکول انتظامیہ کے مطابق، کلاس میں لیپ ٹاپ کا غیر ضروری استعمال طلبہ کی توجہ منتشر کرتا ہے اور ان کے سیکھنے کے عمل کو متاثر کر سکتا ہے۔
ونچسٹر کالج۔ تصویر: آئی این این
برطانیہ کے قدیم اور ممتاز تعلیمی اداروں میں شمار ہونے والے ونچسٹر کالج نے جماعتی کام اور گھر کے زیادہ تر کاموں کیلئے دوبارہ قلم اور کاغذ کا طریقہ اختیار کر لیا ہے۔ ہیمپشائر میں واقع اس رہائشی اسکول کی بنیاد۱۳۸۲ء میں رکھی گئی تھی۔ اسکول انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس نے تدریس کے روایتی طریقوں کی جانب اس لئے واپسی کی ہے کیونکہ اسے خدشہ ہے کہ کلاس میں لیپ ٹاپ کا استعمال۱۳؍ سے۱۸؍ سال کی عمر کے طلبہ کی تعلیمی صلاحیت اور سیکھنے کے عمل کو متاثر کرتا ہے۔ اسکول کی سربراہ ایلزبتھ اسٹون نے دی سنڈے ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر موبائل فون کے استعمال پر پابندی لگانے کے باوجود طلبہ کو ہر وقت اپنے ساتھ لیپ ٹاپ رکھنے اور جب چاہیں استعمال کرنے کی اجازت دی جائے تو اس پابندی کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ موبائل فون پر ہونے والی زیادہ تر سرگرمیاں باآسانی ٹیبلٹ یا لیپ ٹاپ پر بھی منتقل کی جا سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: نوبیل انعام برائے معاشیات ۲۰۲۶ء کا اعلان، رابرٹ ہال اور مائیکل ووڈ فورڈ فاتح
اسٹون کے مطابق، کلاس میں لیپ ٹاپ کا استعمال کہیں زیادہ توجہ بھٹکانے والا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیک وقت کئی کام کرنے کا تصور درست نہیں ، بلکہ حقیقت میں انسان کی توجہ بار بار ایک کام سے دوسرے کام کی جانب منتقل ہوتی رہتی ہے۔ مثلاً پہلے کسی بات کو سننا، پھر کسی دوسری چیز کو دیکھنا اور اس کے بعد دوبارہ پہلے کام کی طرف متوجہ ہونا۔ اس طرح طلبہ کی توجہ مسلسل تقسیم ہوتی رہتی ہے۔ گزشتہ سال ستمبر سے اسکول کے طلبہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کلاس میں لیپ ٹاپ کا استعمال صرف اسی صورت میں کریں جب یہ واضح ہو کہ اس سے سبق کو سمجھنے اور سیکھنے میں فائدہ ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق، ۹؍ سے۱۰؍ سال اور۱۳؍ سے۱۵؍ سال کی عمر کے طلبہ کیلئے گھر کا کام صرف قلم اور کاغذ کے ذریعے مکمل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سعودی: ریاض انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثیوں کا تازہ حملہ، ہلاکتوں کی تعداد ۱۸؍ ہوگئی
موبائل فون کے استعمال سے متعلق بھی اسکول نے سخت ضابطے نافذ کئےہیں۔ نو سال سے زیادہ عمر کے طلبہ کو اسکول اور رہائشی ہاسٹل میں صرف سادہ موبائل فون استعمال کرنے کی اجازت ہے، جن میں اسمارٹ فون جیسی جدید سہولتیں موجود نہیں ہوتیں۔ ایلزبتھ اسٹون نے دی سنڈے ٹائمز کو بتایا کہ اساتذہ کو واضح طور پر ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کمپیوٹر کے استعمال سے حاصل ہونے والے ٹھوس اور نمایاں تعلیمی فوائد پر غور کریں۔ اگر کمپیوٹر کے استعمال سے کوئی واضح تعلیمی فائدہ ثابت نہ ہو تو اسے استعمال نہ کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسکول نے اس معاملے میں طریقۂ کار تبدیل کر دیا ہے۔ اب لیپ ٹاپ کو تعلیم حاصل کرنے کا بنیادی ذریعہ نہیں سمجھا جائے گا، بلکہ اگر ٹیکنالوجی کے بغیر بھی کوئی کام کیا جا سکتا ہے تو طلبہ کو روایتی طریقہ اختیار کرنا چاہئے۔
یہ بھی پڑھئے: بچوں، نوعمروں میں موٹاپا۱۹۹۰ء سےچار گنا بڑھا، سترہ کروڑافراد متاثر: ڈبلیو ایچ او
تاہم، اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسکول نے موبائل فون اور لیپ ٹاپ کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ طلبہ اب بھی ان آلات کو مصنوعی ذہانت (اے آئی)، ریاضی میں سہ جہتی ماڈلنگ، جغرافیہ میں موسمیاتی تبدیلیوں کے کمپیوٹر پر مبنی تجزیے اور انگریزی و دیگر زبانوں کی تعلیم میں یادداشت بہتر بنانے والے ڈجیٹل فلیش کارڈز کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، خصوصی تعلیمی ضروریات یا سیکھنے میں دشواریوں کا سامنا کرنے والے بچوں کو کلاس اور گھر کے کام کیلئے کمپیوٹر استعمال کرنے کی اجازت بھی دی گئی ہے۔