Inquilab Logo Happiest Places to Work

یوکرین کا روس پر اب تک کا سب سے بڑا ڈرون حملہ ،کروز میزائل کا بھی استعمال

Updated: June 19, 2026, 9:40 AM IST | Agency | Moscow

ماسکو شہر سمیت متعدد اہم فوجی اور توانائی کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا، ایک ہزار سے زائد ڈرون داغے گئے ، ۲۰۰؍ سے زائد کو مارگرانے کا روس کا دعویٰ ۔

The Attack Near Moscow Sent Smoke Everywhere. Photo: INN
ماسکو کے قریب ہونے والے حملہ کی وجہ سے ہر طرف دھواں پھیل گیا تھا ۔تصویر:آئی این این
 روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتی نظرآرہی ہے۔ یوکرین نے جمعرات کو روس پر اب تک کا سب سے بڑا ڈرون حملہ کیا، جس میں دارالحکومت ماسکو سمیت متعدد اہم فوجی اور توانائی کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ روسی وزارتِ دفاع کے مطابق رات بھر میں تقریباً ایک ہزار ڈرون اور چار کروز میزائلوں کو تباہ کیا گیا، جن میں سے لگ بھگ دو سو ڈرون ماسکو کی جانب بڑھ رہے تھے۔یوکرین کے صدر زیلنسکی نے اس کارروائی کو روسی حملوں کا جواب قرار دیتے ہوئے کہا کہ یوکرین نے کبھی جنگ نہیں چاہی لیکن اگر یوکرین کے شہر جلیں گے تو ماسکو بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حملوں کا ہدف وہ تنصیبات تھیں جو روس کی جنگی مشینری کو ایندھن اور لاجسٹک مدد فراہم کر رہی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق جنوبی روس کے روستوف علاقے میں واقع ایک بڑے آئل ڈپو پر ڈرون حملے کے بعد زوردار دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں وہاں موجود ایک شخص ہلاک ہوگیا۔ اسی طرح ماسکو کے قریب کپوتنیا آئل ریفائنری کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ تیل کے ذخیرہ کے ایک بڑے ٹینک کا ڈھکن کئی میٹر فضا میں اچھل گیا جبکہ آسمان پر سیاہ دھوئیں کے بادل چھا گئے۔حملوں کے باعث قریبی شاپنگ سینٹر میں بھی آگ لگ گئی جبکہ ڈرونز کے ملبے سے کئی رہائشی اور تجارتی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔ حفاظتی اقدامات کے تحت متعدد بلند و بالا عمارتوں کو خالی کرا لیا گیا اور ماسکو کے ہوائی اڈوں پر کچھ وقت کیلئے پروازیں بھی معطل کر دی گئیں۔
 
 
زیلنسکی نے کہا کہ یہ کارروائی گزشتہ ہفتے کیف پر روس کے شدید حملوں کا براہِ راست جواب ہے۔ ان کے مطابق یوکرینی فوج اور خفیہ ایجنسیوں نے مشترکہ طور پر روسی جنگی صلاحیت کو کمزور کرنے کے لئے یہ آپریشن انجام دیا۔ انہوں نے اس موقع پر اپنی فوج اور انٹیلی جنس اداروں کی کارکردگی کو بھی سراہا اور پوتن کو انتباہ دیا کہ اگر وہ یوکرین کو تباہ کرنے کی کوشش کریں گے تو روس بھی نہیں بچے گا۔
قابلِ ذکر ہے کہ حملوں کے وقت روسی صدر ولادیمیر پوتن کازان میں جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے لیڈروں کے ساتھ ایک سربراہی اجلاس میں شریک تھے۔ تاہم خبر لکھے جانے تک انہوں نے اس شدیدحملے پر کوئی ردِعمل ظاہر نہیں کیا  ہے۔ ۲۰۲۲ء میں جنگ کے آغاز کے بعد یوکرین کے ڈرون حملے محدود پیمانے پر ہوتے تھے لیکن۲۰۲۳ء میں پہلی مرتبہ یوکرینی ڈرون ماسکو تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ اب یوکرین نہ صرف طویل فاصلے تک حملہ کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے بلکہ بڑے پیمانے پر مربوط ڈرون کارروائیاں بھی انجام دے رہا ہے، جس سے جنگ کا دائرہ محاذِ جنگ سے نکل کر دونوں ممالک کے اندرونی علاقوں تک پھیل گیا ہے۔
 
 
ادھر جی ۷؍ممالک نے یوکرین کے  لئے فوجی امداد میں مزید اضافے کا اعلان کیا ہے۔ تنظیم کے مطابق یوکرین کو جدید فضائی دفاعی نظام، انٹرسیپٹر میزائل اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیار فراہم  کئے جائیں گے۔ اس کے علاوہ روس کے تیل اور گیس کے شعبے پر عائد پابندیوں کو مزید سخت بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ جی ۷؍ نے موسم سرما سے قبل یوکرین کی توانائی اور بجلی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے اضافی مالی اور تکنیکی مدد کا وعدہ بھی کیا ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں ابتدا میں لگتا تھا کہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کرانا نسبتاً آسان ہوگا لیکن دونوں ممالک کے درمیان گہری دشمنی نے مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کی زیلنسکی اور پوتن دونوں سے بات چیت ہوئی ہے اور وہ اس خونریز جنگ کا جلد خاتمہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ دریں اثناءماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ حملے اس بات کی علامت ہیں کہ روس اور یوکرین کی جنگ اب صرف سرحدی محاذ تک محدود نہیں رہی بلکہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے توانائی، صنعتی اور عسکری ڈھانچے کو براہِ راست نشانہ بنا رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK