• Thu, 08 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

۲۰۲۶ء میں یوکرینی ڈرونز نے روس پر روزانہ حملے کئے ہیں: ماسکو

Updated: January 06, 2026, 2:13 PM IST | Moscow

روس کی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین نے ۲۰۲۶ء کے آغاز سے ہر روز ماسکو اور دیگر علاقوں کو ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا ہے، جس میں روسی فضائی دفاع نے سیکڑوں ڈرونز کو تباہ کیا ہے۔ نئی رپورٹس میں ان حملوں کے باعث ماسکو میں کچھ اوقات میں ہوائی اڈوں کی بندش، توانائی انفراسٹرکچر پر اثرات، اور یوکرین پر روسی جوابی فضائی حملوں کی تفصیلات شامل ہیں۔ یوکرین کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں جنگی اخراجات بڑھانے اور روسی فوجی و توانائی اہداف کو نشانہ بنانے کیلئے ہیں، جبکہ روس ان حملوں کو ’’دہشت گردانہ‘‘ قرار دیتا ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

روسی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ یوکرین نے ۲۰۲۶ء کے آغاز سے ہر دن دارالحکومت ماسکو اور دیگر روسی علاقوں کو ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا ہے، جس کے جواب میں روسی فضائی دفاعی نظام مسلسل مصروف عمل ہے۔ وزارت نے بتایا ہے کہ ایک ہی دن میں ۴۳۷؍  میں سے ۵۷؍ ڈرونز کو ماسکو کے علاقے میں تباہ کیا گیا، جبکہ ملک بھر میں سیکڑوں مزید ڈرونز کو ناکارہ بنایا گیا۔ روسی وزارتِ دفاع کی جانب سے ٹیلیگرام پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ڈرون سرگرمیاں ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مستقل اور باقاعدگی سے انجام دی جا رہی ہیں، جس کا مقصد ماسکو اور اس کے فوجی و توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر دباؤ ڈالنا ہے۔ اسے یوکرین کی طرف سے جاری جنگی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اگر وینزویلا کے خام تیل کی برآمدات پر پابندی ہٹا دی گئی تو کمپنیوں کو کتنا سستا تیل ملے گا؟

ماسکو کے میئر، سرگئی سوبیانین نے بھی حالیہ دنوں میں متعدد ڈرون مداخلت کی رپورٹس کی تصدیق کی ہے، اگرچہ انہوں نے نقصان یا مشتبہ حملوں کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ ان حملوں کے باعث ماسکو اور دیگر شہروں کے ہوائی اڈوں کو عارضی طور پر بند بھی کیا گیا، جس نے نئے سال اور آرتھوڈوکس کرسمس کے دوران اہم سفری اوقات میں خلل ڈالا۔ روسی حکام کا کہنا ہے کہ پچھلے ہفتے روس کی سرزمین اور جزیرہ نما کریمیا میں کم از کم ایک ہزار ۵۴۸؍ یوکرینی ڈرونز کو فضائی دفاع نے تباہ کیا۔ یوکرین نے اس دعوے پر براہِ راست تبصرہ نہیں کیا، لیکن گزشتہ برس سے یوکرین نے اپنی فوجی حکمت عملی میں دوررس ڈرون حملوں کو بڑھایا ہے، جس سے وہ فوجی رسد، توانائی کے نیٹ ورکس اور جنگی لاگتوں کو متاثر کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:ایران: صورتحال کشیدہ، انٹرنیٹ معطل، بین الاقوامی ردِ عمل

ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ۳۰؍ دسمبر ۲۰۲۵ء کو یوکرینی ڈرون حملوں کے باعث ماسکو میں بڑے پیمانے پر بجلی منقطع ہوئی، جس کے نتیجے میں ۶؍ لاکھ سے زائد افراد اندھیرے میں رہ گئے۔ کچھ علاقوں میں موبائل نیٹ ورک اور دیگر سہولیات بھی متاثر ہوئیں۔ اسی دوران، روس کے زیرِ قبضہ خورلی (خیرسون خطہ) میں یوکرینی ڈرون حملے کے نتیجے میں کم از کم ۲۰؍ سے ۴۰؍ افراد ہلاک اور ۵۰؍ سے زائد زخمی ہونے کے دعوے بھی سامنے آئے ہیں، حالانکہ یوکرین نے اس کی تصدیق نہیں کی۔ دونوں جانب سے فضائی اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ یوکرین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے فوجی اہداف، لاجسٹک مراکز اور توانائی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا رہا ہے، جبکہ روس کی طرف سے بھی یوکرین میں ڈرون تیار کرنے، لانچنگ سائٹس، دفاعی صنعت اور توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں جاری ہیں۔ روسی وزارتِ دفاع کے مطابق ایسے حملے یوکرین کی ڈرون صلاحیتوں کو کمزور بنانے کیلئے کئے گئے۔

یہ بھی پڑھئے:ظہران ممدانی کا دفتر میں پہلا دن، ان کا لباس بہت کچھ بیان کرتا ہے

کیف پر روسی حملے میں بھی تازہ اطلاعات سامنے آئی ہیں جہاں روس کے حملے میں کم از کم ایک شہری ہلاک ہوا، اور فضائی دفاعی دستے دارالحکومت میں فعال ہیں۔ میئر وٹالی کلیٹسکو نے شہریوں کو پناہ گاہوں میں رہنے کی ہدایت کی ہے۔یاد رہے کہ یوکرین اور روس کے درمیان جنگ تقریباً چار سال سے جاری ہے، جس میں دونوں طرف شہری اور فوجی اہداف پر حملے معمول بن چکے ہیں۔ نئی حکمت عملیوں اور ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال نے جنگ کے اسباب اور اثرات کو نئی صورتیں دی ہیں، جن پر عالمی سطح پر تشویش اور تجزیہ جاری ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK