• Fri, 11 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

پوتن ۲۰۲۸ء تک فوجیوں سے محروم ہوجائیں گے: یوکرینی جاسوسی سربراہ

Updated: September 11, 2026, 8:00 PM IST | Kyiv

یوکرین کے جاسوسی سربراہ نے ایک بیان میں کہا کہ روسی صدر پوتن ۲۰۲۸ء تک فوجیوں سے محروم ہوجائیں گے، انہوں نے کہاکہ روسی فوج کے حوصلے پست ہیں اور وہ لڑنا نہیں چاہتے۔

Russian President Vladimir Putin. Photo: INN
روسی صدر ولادیمیر پوتن۔ تصویر: آئی این این

یوکرین کے جاسوسی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل اولیہ ایواشچینکونے پیش گوئی کی ہے کہ روسی فوج۲۰۲۸ء تک فوجیوں اور فوجی وسائل سے محروم ہو سکتی ہے، جبکہ ماسکو کی صفوں میں حوصلے ”انتہائی پست“ ہیں۔یوکرین کی وزارت دفاع میں انٹیلیجنس ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ نے کہا کہ روس کے وسائل صرف مزید۱۶؍ ماہ تک چلیں گے۔انہوں نے دی ٹائمز سے کہا، ”روس کے پاس اگلے ایک سال کے لیے فوجی اور معاشی وسائل ہیں، لیکن ہمارا اندازہ ہے کہ یہ۲۰۲۸ء میں ختم ہو جائیں گے۔“

یہ بھی پڑھئے: برطانیہ اور اسرائیل میں ٹھن گئی، یروشلم میں برطانوی قونصل خانہ بند

جنرل اولیہ ایواشچینکونے مزید کہا، ”روس روزانہ تقریباًایک ہزار افراد بھرتی کرتا ہے، کبھی کبھی ۱۲۰۰؍لیکن ان ہلاکتوں کے اعداد و شمار کو دیکھیں۔ کل یہ۱۴۱۰؍ تھیں، ایک دن پہلے۱۵۱۱؍تھی ۔ ان میں سے تقریباً۶۰؍ فیصد میدان جنگ میں مارے جاتے ہیں۔“ انہوں نے مزید کہا کہ’’ روسی فوج کے حوصلے انتہائی پست ہیں کیونکہ کوئی لڑنا نہیں چاہتا۔‘‘
دریں اثنا، روسی ڈرونز نے یوکرین کے جنوب مشرقی شہر پاولوہراد میں ایک شاپنگ مال پر حملہ کیا جس میں کم از کم پانچ افراد ہلاک اور۶۷؍ دیگر زخمی ہوئے جب۔حکام نے کہا کہ دن کی روشنی میں ہونے والے اس حملے میں دکانیں اور گاڑیاں نشانہ بنیں،یہ حملہ اس وقت ہوا جب سڑکوں پر بہت سے لوگ موجود تھے۔ زخمیوں میں۱۳؍، ۱۴؍، اور۱۵؍ سال کے تین نوعمر لڑکے بھی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: لبنان: اسرائیلی حملوں سے ۲۲؍ فیصد قابل کاشت زمین متاثر

واضح رہے کہ امریکہ میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی واپسی کے بعد جنگ بندی کی سفارت کاری تیز ہے۔ امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے ماسکو میں صدر پیوٹن اور پھر۶؍ ستمبر کو کیف میں صدر زیلنسکی سے ملاقات کی۔ دونوں دارالحکومتوں کیلئے۷۲؍ گھنٹے کی عارضی جنگ بندی پر اتفاق بھی ہوا، لیکن دیگر علاقوں میں حملے جاری ہیں۔ علاوہ ازیں ٹرمپ اور پوتن کے درمیان۹۰؍ منٹ کی فون کال بھی ہوئی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK