Updated: September 05, 2026, 1:26 PM IST
| New York
اقوامِ متحدہ میں ایسے نقشوں کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی قرارداد زیرِ غور ہے جو ممالک کا حقیقی رقبہ زیادہ درست دکھاتے ہیں، یہ مہم افریقہ کی قیادت میں چل رہی ہے اور حکومتوں، اسکولوں، بین الاقوامی تنظیموں اور ٹیکنالوجی فرموں سے مطالبہ کر رہی ہے کہ وہ صدیوں پرانی اس پروجیکشن کو ترک کرکے ایسے نقشے اپنائیں جو ممالک کے اصل حجم کو زیادہ درست طریقے سے ظاہر کریں۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی جمعہ کو ایک قرارداد پر ووٹ کرے گی جس میں دنیا بھر سے روایتیمرکیٹر نقشے سے ہٹ کر ایسے ڈیزائن اپنانے کا مطالبہ کیا جائے گا جو افریقہ کے حجم کو گھٹا کر نہ دکھائیں اور شمالی خشکیوں کو بڑھا کر نہ پیش کریں۔ یہ مہم افریقہ کی قیادت میں چل رہی ہے اور حکومتوں، اسکولوں، بین الاقوامی تنظیموں اور ٹیکنالوجی فرموں سے مطالبہ کر رہی ہے کہ وہ صدیوں پرانی اس پروجیکشن کو ترک کرکے ایسے نقشے اپنائیں جو ممالک کے اصل حجم کو زیادہ درست طریقے سے ظاہر کریں۔
یہ بھی پڑھئے: سونیا گاندھی کی کتاب ’Belonging‘ اب ہارپرکولنز شائع کرے گا، ۱۰؍ نومبر کو ریلیز
بعد ازاں مسودہ قرارداد حکومتوں، اسکولوں، بین الاقوامی تنظیموں اور ٹیک کمپنیوں سے کہتا ہے کہ جہاں بھی براعظموں کے حقیقی حجم کی اہمیت ہو، وہاں ’’ایکول ارتھ پروجیکشن‘‘ اور دیگر مساوی رقبہ والے نقشے اپنائیں، تاکہ زیادہ درست تناسب والے نقشے نئے عالمی معمول بن سکیں۔ تاہم اس میں مرکیٹر پروجیکشن کو مکمل طور پر ممنوع قرار دینے کی بات نہیں ہے۔مرکیٹر پروجیکشن، جو پوری دنیا میں استعمال ہوتی ہے، خط استوا سے جتنا دور کوئی خطہ ہوتا ہے اسے اتنا ہی بڑھا کر دکھاتی ہے۔ چونکہ افریقہ خط استوا پر واقع ہے، یہ اپنے اصل حجم سے چھوٹا دکھائی دیتا ہے، جبکہ یورپ، شمالی امریکہ، گرین لینڈ اور روس سب اپنی اصل نسبت سے کہیں بڑے ظاہر ہوتے ہیں۔ نتیجتاً، افریقہ، لاطینی امریکہ، ہندوستان اور دیگر خط استوائی علاقے شمالی ممالک کے مقابلے میں اپنے اصل رقبے سے بہت چھوٹے دکھائی دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر، یہ نقشہ افریقہ کو گرین لینڈ کے ہم حجم دکھاتا ہے، حالانکہ یہ براعظم ڈنمارک کے اس علاقے سے ۱۴؍ گنا بڑا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بلڈوزر کے سامنے فلسطینی خاتون زیتون کے درخت سے لپٹ گئی
جیسا کہ ٹوگو کے وزیر خارجہ رابرٹ ڈوسی نے بتایا کہ یہ قرارداد ٹوگو نے افریقی یونین کی حمایت سے پیش کی۔ تاہم انہوں نے اس کی حمایت کرنے والے ممالک کی کل تعداد نہیں بتائی۔ انہوں نے کہا کہ افریقہ کو ترجیح نہیں چاہیے، بلکہ وہ چاہتا ہے کہ اس کی حقیقت، خواہشات اور عالمی نظام میں شراکت کو مناسب طور پر تسلیم کیا جائے۔ ٹوگو نے اس کوشش کے تحت ووٹ سے ایک دن قبل تمام رکن ممالک کے لیے ایک استقبالیہ کا اہتمام بھی کیا۔جب ان سے مخالفت کی توقع کے بارے میں پوچھا گیا تو ڈوسی نے کہا کہ وہ زیادہ سے زیادہ اتفاق رائے کا ہدف رکھتے ہیں، کیونکہ وہ سیاستدان سے پہلے ایک ماہر تعلیم ہیں اور بطور ماہر تعلیم وہ وسیع ترین اجماع چاہتے ہیں۔ووٹ سے قبل فنڈ ریزنگ پلیٹ فارم ’’چینج‘‘ پر #CorrectTheMap مہم کے تحت تقریباً ۱۱۰۰۰؍ دستخط جمع ہوئے تھے۔
افریقی یونین نے اگست ۲۰۲۵ء میں اس مہم کی توثیق کی اور ٹوگو کو اقوام متحدہ میں اس کی منظوری کے لیے کوششوں کی قیادت کرنے کو کہا۔ مہم میں کہا گیا کہ ’’جیسے جیسے افریقہ عالمی چیلنجوں کے حل کے لیے مرکزی حیثیت اختیار کر رہا ہے، اس کے حقیقی حجم کی نمائندگی کرنا بہت اہم ہے۔‘‘مورخین اور ماہرین جغرافیہ نے طویل عرصے سے یہ دلیل دی ہے کہ مرکیٹر نقشہ دنیا کے بارے میں مغربی مفروضات کی عکاسی کرتا ہے، اور بعض مہم کاروں نے اس کے منفی اثرات کی مذمت کے لیے ’’نقشہ نگاری کی استعماریت‘‘ کی اصطلاح استعمال کی ہے۔ جرمن مورخ آرنو پیٹرز اس پروجیکشن کے سب سے ممتاز ناقدین میں سے تھے، جنہوں نے ۱۹۷۳ء میں گال-پیٹرز پروجیکشن پر مبنی متبادل نقشہ متعارف کرایا۔ تاہم ٹوگو کی مہم اس کے بجائے ۲۰۱۸ء کے ’’ایکول ارتھ‘‘ نقشے کو فروغ دے رہی ہے، جسے ماہرین نقشہ نگاری کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے تیار کیا ہے اور حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ ہر براعظم کے حجم کی زیادہ درست نمائندگی کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ۶۰؍ فیصد غزہ پر ہمارا قبضہ ہے، مزید توسیع کریں گے: اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو کی شرانگیزی
واضح رہے کہ ڈوسی نے اس مہم کو مارچ میں اقوام متحدہ میں منظور شدہ ایک اور قرارداد سے جوڑا جس میں ٹرانس اٹلانٹک غلاموں کی تجارت کو ’’انسانیت کے خلاف سنگین ترین جرم‘‘ قرار دیا گیا تھا اور اسے ۱۲۳ ؍ممالک نے منظور کیا، جبکہ تین نے مخالفت کی اور ۵۲؍ نے حصہ نہیں لیا۔اگر یہ قرارداد منظور ہوتی ہے تو ٹوگو کی حکومت اگلے سال کی پہلی سہ ماہی میں یونیسکو، افریقی یونین اور گوگل میپس سمیت ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ دارالحکومت لومے میں ایک تقریب کا انعقاد کرے گی تاکہ اس تبدیلی کو نافذ کرنے کے طریقوں پر کام کیا جا سکے۔