اقوامِ متحدہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اس وقت شدید ہو گئی جب مبینہ رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے دفتر سے تعلقات منجمد کر دیئے اور ایک متنازع فہرست کے معاملے پر سخت ردِعمل دیا۔
EPAPER
Updated: May 28, 2026, 10:01 PM IST | New York
اقوامِ متحدہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اس وقت شدید ہو گئی جب مبینہ رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے دفتر سے تعلقات منجمد کر دیئے اور ایک متنازع فہرست کے معاملے پر سخت ردِعمل دیا۔
اقوام متحدہ نے صیہونی ریاست اسرائیل کو بلیک لسٹ میں شامل کردیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ نے اسرائیل کو کشدیگی والے علاقوں میں جنسی تشدد کرنے کے جرم میں بلیک لسٹ کردیا ہے۔ اسرائیلی جیل سروس ’آئی پی ایس‘ کو رواں سال کی بلیک لسٹ فہرست میں شامل کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ لسٹ میں اضافے کیلئے دیگر اسرائیلی ایجنسیوں کی بھی نگرانی کی جا رہی ہے۔
اسرائیل نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے دفتر سے تعلقات منجمد کر دیئے
اسرائیل نے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے دفتر کے ساتھ تعلقات منجمد کر دیئے ہیں اور پرامیلا پٹن کے مجوزہ دورۂ اسرائیل کو بھی منسوخ کر دیا ہے۔ اسرائیل نے واضح کیا ہے کہ جب تک انتونیو غطریس اقوامِ متحدہ کے سربراہ رہیں گے، وہ ان کے دفتر کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں رکھے گا۔ اقوامِ متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینن نے پوسٹ کو بتایا:’’اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اسرائیل کو حماس، داعش اور دنیا کی سب سے بدترین دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر کے ایک اخلاقی شرمناک عمل کیا ہے، اور اقوامِ متحدہ کی باقی ماندہ ساکھ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ ‘‘ڈینن نے وضاحت کی کہ اسرائیل نے اقوامِ متحدہ کے ساتھ تعاون کیا، معلومات فراہم کیں اور مکمل شفافیت کے ساتھ کام کیا۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کے ’’بورڈ آف پیس‘‘ فنڈ میں اربوں ڈالر کے وعدوں کے باوجود صفر رقم: رپورٹ
ان کے مطابق، اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے حقائق کو نظر انداز کیا اور’’اسرائیل کے خلاف الزام تراشی اور جھوٹے پروپیگنڈے کی مہم‘‘ جاری رکھی۔ انہوں نے مزید کہا:’’جو شخص اسرائیل کو حماس کے دہشت گردوں اور ریپ کرنے والوں کے برابر قرار دے سکتا ہے، اس میں اخلاقی حس نہیں ہے۔ ‘‘انتونیو غطریس، جنہوں نے۷؍ اکتوبر کے قتلِ عام کو جواز دیا، انرواکے اہلکاروں کے اس حملے میں ملوث ہونے کو چھپایا، اور ادارے کو اپنی تاریخ کی بدترین سطح پر پہنچایا، وہ اپنی مدت کے آخری مہینوں میں اسرائیل کے خلاف سیاسی اور جھوٹے الزامات کو آگے بڑ رہے ہیں۔
غطریس کی مدتِ صدارت۳۱؍ دسمبر۲۰۲۶ء کو ختم ہوگی۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ معاملہ قیادت کی تبدیلی کی دوڑ کے دوران سامنے آیا ہے۔ معاملے سے قریبی ایک ذریعے کے مطابق اسرائیل اسے غطریس کی ’’آخری کوشش‘‘ سمجھتا ہے۔ یہ بھی ایک بڑے مالی بحران کے دوران ہوا ہے: اقوامِ متحدہ کو اپنی۸۰؍ سالہ تاریخ کے سب سے سنگین مالی بحران کا سامنا ہے، جس کی وجہ رکن ممالک کی جانب سے ۱ء۵۶؍ ارب ڈالر کی واجب الادا رقوم ہیں۔