Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ کے ’’بورڈ آف پیس‘‘ فنڈ میں اربوں ڈالر کے وعدوں کے باوجود صفر رقم: رپورٹ

Updated: May 27, 2026, 10:18 PM IST | Washington

ایک رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے ’’بورڈ آف پیس‘‘ فنڈ میں اربوں ڈالر کے وعدوں کے باوجود صفر رقم جمع ہوئی ، یہ بورڈ غزہ کی تعمیر نو کی نگرانی کے لیے بنایا گیا تھا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا ’’بورڈ آف پیس‘‘، جو غزہ کی تعمیر نو کی نگرانی کے لیے بنایا گیا تھا، کو رکن ممالک کی جانب سے اربوں ڈالر کے وعدوں کے باوجود کوئی فنڈ موصول نہیں ہوا ہے۔ فنانشل ٹائمز نے بدھ۲۷؍ مئی کو یہ اطلاع دی۔واضح رہے کہ یہ بورڈ سب سے پہلے ٹرمپ نے اسرائیل اور حماس کے درمیان اکتوبر میں جنگ بندی معاہدے کے بعد ایک امریکی حمایت یافتہ اقدام کے حصے کے طور پر تجویز کیا تھا، جس کا مقصد اس خطے میں دو سالہ جنگ  کو ختم کرنا اور غزہ میں تعمیر نو کی کوششیں شروع کرنا تھا۔تاہم روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور کئی ایسے ممالک شامل تھے جو روایتی طور پر مشرق وسطیٰ کے امن یا تعمیر نو کی سفارت کاری میں شامل نہیں رہے۔
دریں اثناء جنوری میں قیام کے بعد سے، بورڈ سے منسلک فنڈ، جس کا انتظام ورلڈ بینک کے ذریعے کیا جا رہا ہے اور اقوام متحدہ کی حمایت حاصل ہے، کو کوئی براہ راست امداد نہیں ملی۔ فنانشل ٹائمز نے چار نامعلوم ذرائع کے حوالے سے یہ اطلاع دی۔ جبکہ ایک ذریعے کے مطابق ’’صفر ڈالر جمع کرائے گئے ہیں۔‘‘ تاہم، بورڈ کے ترجمان کے مطابق، بورڈ کو کچھ مالی امداد براہ راست جے پی مورگن چیس اکاؤنٹ میں موصول ہوئی ہے۔جبکہ کئی بڑے یورپی ممالک اس اقدام سے دور رہے ہیں، جس میں زیادہ تر مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے دیرینہ اتحادی، ٹرمپ کے نظریاتی حامی، اور چھوٹے ممالک شامل ہیں جو ان کی انتظامیہ کے ساتھ قریبی تعلقات چاہتے ہیں۔ فرانس اور برطانیہ نے واضح طور پر شرکت سے انکار کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ اور لبنان پر اسرائیل کی وحشیانہ بمباری جاری،۱۸؍ افراد شہید

واضح رہے کہ یہ بورڈ اس طرح تشکیل دیا گیا ہے کہ امریکہ مرکز میں رہے، اور فیصلوں پر حتمی اختیار ٹرمپ کے پاس ہوگا۔ رپورٹس یہ بھی بتاتی ہیں کہ وہ اپنی صدارتی مدت ختم ہونے کے بعد بھی اس ادارے کی قیادت جاری رکھ سکتے ہیں۔اس سے قبل ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ تعمیر نو کی کوششوں میں ۱۰؍ ارب ڈالر کا تعاون کرے گا، جبکہ قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے کم از کم ایک  ارب ڈالر کا وعدہ کیا تھا۔ بورڈ کے چارٹر کے تحت، مستقل رکنیت کے لیے اراکین سےایک ارب ڈالر دینے کی توقع کی جاتی ہے۔یہ بھی یاد رہے کہ یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے اپریل میں ایک  جائزےکے مطابق،اسرائیل کے ذریعے کی جانے والی  وسیع تباہی کے بعد غزہ کو اگلی دہائی میں تعمیر نو کے لیے۷۱؍ ارب ڈالر سے زیادہ کی ضرورت ہوگی۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ پھر فضیحت کے درپے ، جنوبی ایران پر فضائی حملہ

دریں اثناءاکتوبر میں جنگ بندی کے اعلان کے باوجود، غزہ میں صورتحال غیر مستحکم ہے اور تشدد کی اطلاعات جاری ہیں۔ اسرائیلی افواج اور حماس دونوں نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK