امریکہ ۷۵؍ ممالک کے درخواست دہندگان کیلئے ویزا خدمات معطل کرے گا ، یہ معطلی۲۱؍ جنوری سے نافذ العمل ہوگی لیکن یہ سیاحوں یا قلیل مدتی ویزا کے حاملین پرنافذ نہیں ہوگی۔
EPAPER
Updated: January 15, 2026, 9:02 PM IST | Washington
امریکہ ۷۵؍ ممالک کے درخواست دہندگان کیلئے ویزا خدمات معطل کرے گا ، یہ معطلی۲۱؍ جنوری سے نافذ العمل ہوگی لیکن یہ سیاحوں یا قلیل مدتی ویزا کے حاملین پرنافذ نہیں ہوگی۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ۷۵؍ ممالک کے درخواست دہندگان کے لیے تارکین وطن کے ویزا کی خدمات معطل کر دیں گے۔یہ معطلی۲۱؍ جنوری سے نافذ العمل ہوگی اور اس سے لاطینی امریکہ اور کیریبین، بلقان اور جنوبی ایشیا، افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک کے درخواست دہندگان متاثر ہوں گے۔یہ تبدیلی صرف ان لوگوں پر اثر انداز ہوگی جو امریکہ مستقل طور پر منتقل ہونا چاہتے ہیں۔ یہ سیاح یا قلیل مدتی ویزاحاملین پر نافذ نہیں ہوگی۔واضح رہے کہ یہ تازہ ترین اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ میں ففا ورلڈ کپ کی میزبانی میں پانچ ماہ باقی ہیں، جسے وہ کنیڈا اور میکسیکو کے ساتھ منعقد کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کی جانب سے امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کیلئے جوابی کارروائی کا منصوبہ تیار
تازہ ترین پابندیوں کے بارے میں محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ اس نے امریکی سفارت خانوں کو متاثرہ ممالک کے تارکین وطن کے ویزا کی درخواستوں کی کارروائی روکنے کو کہا ہے۔یہ اقدام نومبر میں جاری کردہ ایک وسیع تر حکم نامے کے بعد آیا ہے جس میں ان ممکنہ تارکین وطن پر جانچسخت کی گئی تھی جو امریکہ پر مالی بوجھ بن سکتے ہیں۔محکمہ خارجہ نے ایک بیان میں کہا، ’’ٹرمپ انتظامیہ ان لوگوں کے خلاف ہے جو امریکی امیگریشن سسٹم کا استحصال کرکے امریکی عوام سے دولت نکالنا چاہتے ہیں۔ دریں اثناء محکمہ خارجہ نے مزید کہا ک ان۷۵؍ ممالک سے تارکین وطن کے ویزا کی پروسیسنگ اس وقت معطل کی جائے گی جب تک کہ محکمہ خارجہ امیگریشن پروسیسنگ کے طریقہ کار کا ازسرنو جائزہ لے کر ان غیر ملکی شہریوں کی اندراج کو روکنے کے لیے اقدامات کرے جو فلاحی اور عوامی فوائد لے سکتے ہیں۔محکمہ خارجہ کے مطابق، متاثرہ ممالک کے شہری اب بھی تارکین وطن کے ویزا کی درخواستیں جمع کروا سکتے ہیں، لیکن معطلی کے دوران کوئی امیگریشن ویزا منظور یا جاری نہیں کیا جائے گا۔ تاہم امریکی حکومت نے یہ نہیں بتایا ہے کہ یہ معطلی کب ختم ہوگی۔جبکہ دوہری شہریت رکھنے والوں کے لیے ایک استثنا ہے اگر وہ ایسے ملک کے درست پاسپورٹ کے ساتھ درخواست دیتے ہیں جو معطلی کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔یہ معطلی غیر امیگریشن، عارضی، سیاحتی یا کاروباری ویزا پر لاگو نہیں ہوگی۔
یہ بھی پڑھئے: ’’امریکہ اور ایران میں کشیدگی پیدا ہوئی تو خطے پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے ‘‘
واضح رہے کہ گزشتہ کچھ مہینوں میں،ٹرمپ انتظامیہ نے امیگریشن کے قوانین سخت کیے ہیں، خاص طور پر ان ممالک کے لوگوں کے لیے جن کے جانچ پڑتال کے عمل کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ کافی مضبوط نہیں ہیں، یا جنہیں ممکنہ قومی سلامتی کیلئے خطرہ سمجھا جاتا ہے۔تاہم جون میں، انتظامیہ نے۱۲؍ ممالک کے شہریوں پر مکمل پابندی عائدکی،جن میں افغانستان، چاڈ، کانگو، استوائی گنی، اریٹیریا، ہیتی، ایران، لیبیا، میانمار، صومالیہ، سوڈان اور یمن شامل تھے۔اکتوبر تک، وائٹ ہاؤس نے امریکی تاریخ میں پناہ گزینوں کے داخلے کی سب سے کم حدمقرر کی ، جس میں مالی سال۲۰۲۶ء کے لیے صرف ۷۵۰۰؍پناہ گزینوں کی حد مقرر کی، جبکہ ٹرمپ نے سفید فام جنوبی افریقیوں کے خلاف نسل کشی کے جھوٹے نظریات کو تقویت دی ۔ایسے وقت میں، ٹرمپ انتظامیہ نے غیر ملکی امدادی پروگراموں میں کٹوتی کی ہے جو دوسرے ممالک میں رہنے والے پناہ گزینوں کی مدد کرتے ہیں۔جبکہ امریکی شہریوں کیلئے ملازمت کے تحفظ کا حوالہ دیتے ہوئے انتظامیہ نے ہنر مند امیگریشن کو محدود کرنے کی طرف بھی قدم بڑھایا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ گرین لینڈ چاہتے ہیں لیکن امریکی سینیٹرز کا ان کے عزائم روکنے کیلئے بل پیش
جس کے تحت ستمبر میں، اس نے ایچ ون بی ویزا کی فیس میں تیزی سے اضافہ کیا ۔جو امریکی کمپنیاں غیر ملکی کارکنوں کو ملازم رکھنے کے لیے استعمال کرتی ہیں فی درخواست لاگت بڑھا کر ایک لاکھ ڈالر کر دی۔ اس کے علاوہ واشنگٹن ڈی سی میں نومبر میں دو نیشنل گارڈز کے اراکین کی شوٹنگ سے منسلک ایک افغان شہری کی گرفتاری کے بعد، حکومت نے چھ ممالک پر اضافی سفری پابندیاں نافذ کیں۔ جن میں فلسطین، برکینا فاسو، مالی، نائجر، جنوبی سوڈان اور شام تھے۔امیگریشن اہلکاروں نے پناہ کے مقدمات بھی روک دیے اور ان ممالک کے لوگوں کے لیے شہریت اور گرین کارڈ کی درخواستوں کی پروسیسنگ بند کر دی جو پابندیوں سے سب سے پہلے متاثر ہوئے تھے۔
بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے تجزیے کے مطابق۲۰۲۵ء میں، پچاس سال میں پہلی بار امریکہ میں خالص منفی امیگریشن درج کی گئی اور ملک میں داخل ہونے والوں کے مقابلے میں زیادہ تارکین وطن نے ملک چھوڑ دیا ۔