Updated: May 04, 2026, 9:03 PM IST
| New York
اقوام متحدہ کی فلسطین کے لیے خصوصی نمائندہ Francesca Albanese نے کہا ہے کہ اسرائیل نے اپنے علاقائی عزائم کو آگے بڑھانے کے لیے یونان کا انتخاب کیا ہے۔ ایتھنز میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا کہ ریاستوں کو ایسے اقدامات میں شریک نہیں ہونا چاہیے جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔ انہوں نے بین الاقوامی فوجداری عدالت اور عالمی عدالت انصاف میں زیر بحث الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ احتساب ضروری ہے، جبکہ یونان اسرائیل تعلقات پر بھی سوالات اٹھائے۔
فرانسسکا البانیز۔ تصویر : آئی این این
فلسطین کے لیے اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ Francesca Albanese نے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل اپنے علاقائی مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے یونان جیسے ممالک کے ساتھ تعلقات کو استعمال کر رہا ہے، اور اس حوالے سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ یہ بیان انہوں نے ایتھنز میں اپنی نئی کتاب کی تقریب رونمائی کے دوران دیا، جہاں انہوں نے اسرائیل اور یونان کے درمیان بڑھتے تعلقات پر تنقیدی نظر ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ یونان کے کچھ حلقوں میں یہ خیال پایا جاتا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات انہیں سیکوریٹی یا سفارتی فوائد فراہم کریں گے، لیکن ان کے مطابق حقیقت اس سے مختلف ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی طرزِعمل سے یورپ میں ’اسرائیلائزیشن‘ کا خطرہ: فرانسسکا البانیز کا انتباہ
فرانسسکا نے کہا کہ، ’’آپ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ نے اسرائیل کو اپنے تاریخی خدشات کے حل کے لیے منتخب کیا ہے، لیکن درحقیقت اسرائیل نے آپ کو چنا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل ایسے ممالک کے خوف اور عدم تحفظ کو استعمال کرتے ہوئے اپنی علاقائی بالادستی کو مضبوط کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ انہوں نے اپنی گفتگو میں بین الاقوامی قانون اور ریاستوں کی ذمہ داریوں پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق، اگر کوئی ملک ایسے اقدامات میں شریک ہوتا ہے جو ممکنہ طور پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوں، تو اسے بھی جوابدہ ٹھہرایا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: متحدہ عرب امارات میں فضائی آپریشن مکمل بحال، پروازیں معمول پر آگئیں
انہوں نے اس حوالے سے عالمی عدالت انصاف اور بین الاقوامی فوجداری عدالت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان فورمز پر اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم اور دیگر الزامات زیر بحث رہے ہیں۔ تاہم، یہ بات اہم ہے کہ ایسے معاملات قانونی عمل کا حصہ ہوتے ہیں اور ان پر حتمی فیصلے متعلقہ عدالتیں ہی دیتی ہیں۔ البانیز نے کہا، ’’اخلاقی پہلو کے علاوہ، یہ ایک قانونی معاملہ بھی ہے، اور ریاستوں کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ وہ کسی بھی غیر قانونی عمل میں شریک نہ ہوں۔‘‘ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کسی ملک نے ہتھیاروں یا دیگر وسائل کی فراہمی کے ذریعے تنازعے میں بالواسطہ کردار ادا کیا تو اس کے نتائج بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: سعودی عرب نے حج کیلئے ۱۵؍ سال عمر کی پابندی کا فیصلہ واپس لے لیا
ان کے بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مشرق وسطیٰ کی صورتحال بدستور عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، اور یورپی ممالک کے کردار پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ یونان نے حالیہ برسوں میں اسرائیل کے ساتھ دفاعی، توانائی اور سفارتی تعاون کو فروغ دیا ہے، جسے بعض حلقے خطے میں توازن کے لیے اہم قرار دیتے ہیں، جبکہ دیگر اسے متنازعہ سمجھتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، اس طرح کے بیانات بین الاقوامی سفارتکاری میں حساسیت پیدا کر سکتے ہیں، خاص طور پر جب وہ ایسے موضوعات سے متعلق ہوں جن پر عالمی سطح پر شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔ یہ بھی واضح ہے کہ اقوام متحدہ کے نمائندوں کے بیانات پالیسی نہیں ہوتے بلکہ وہ انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کے تناظر میں رائے پیش کرتے ہیں۔ اس لیے ان بیانات کو ایک وسیع تر بحث کے حصے کے طور پر دیکھا جاتا ہے، نہ کہ کسی حتمی فیصلہ یا موقف کے طور پر۔