• Fri, 09 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

فلسطینی صحافی بشریٰ الطویل مسلسل ۴۶؍ دنوں سے اسرائیل کی قیدمیں: رپورٹ

Updated: October 08, 2026, 10:05 PM IST | Jerusalem

اسرائیل کی جانب سے گزشتہ ۴۶؍دنوں سے ایک فلسطینی خاتون صحافی کو قیدِ تنہائی میں رکھا گیاہے۔ اس دوران انہیں کسی سے ملاقات کرنے تک کا موقع فراہم نہیں کیا جا رہا ہے حتیٰ کہ ان کی قانونی ٹیم بھی ان سے نہیں مل پا رہی ہے۔ تاہم ، بارہا انہیںمختلف قید خانوں میں منتقل کیا جا رہا ہے، بغیر یہ بتائے کہ ان کا جرم کیاہے یا ان کے خلاف کیا الزام ہے۔ قیدیوں اور انسانی حقوق سے جڑی کئی تنظیموں نے ان کی قید کی مخالفت کرتے ہوئے جلد ہی ان کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

Palestinian Journalist Bushra Al Tawil. Photo: X
فلسطینی صحافی بشریٰ الطویل۔ تصویر: ایکس

 فلسطینی قیدیوں کے حقوق کیلئے کام کرنے والی تنظیموں کے مطابق، اسرائیلی جیل حکام نے فلسطینی صحافی بشریٰ الطویل کو مسلسل ۴۶؍ دنوں سے قیدِ تنہائی میں رکھا ہوا ہے۔ فلسطینی پریزنر سوسائٹی، الضمیر پریزنر سپورٹ اینڈ ہیومن رائٹس ایسوسی ایشن اور پی ایل او کے کمیشن برائے قیدی و سابق قیدی امور نے بدھ کوایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ ۳۳؍ سالہ بشریٰ الطویل کو جنوبی اسرائیل کے شہر بئر السبع میں واقع اوہلی اوض آئسولیشن جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل انہیں شمالی اسرائیل کے شہر حیفہ کی دامون جیل میں قیدِ تنہائی میں رکھنے کے بعد وسطی اسرائیل کی نوے ترزا جیل منتقل کیا گیا تھا۔تنظیموں کا کہنا ہے کہ مسلسل جیلوں کی منتقلی اور قیدِ تنہائی کی وجہ سے ان کی قانونی ٹیم بشریٰ الطویل سے ملاقات نہیں کر پا رہی ہے، جبکہ کمیشن کے وکلاء کی جانب سے اس سلسلے میں متعدد درخواستیں جمع کرائی جا چکی ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: غزہ میں نسل کشی ختم نہیں ہوئی ہے: اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ البانیز

 بیان کے مطابق، بدھ کو ایک وکیل کو عین طے شدہ ملاقات کے وقت بتایا گیا کہ بشریٰ کو دوبارہ اوہلی اوض منتقل کر دیا گیا ہے، جس کے باعث یہ ملاقات منسوخ ہوگئی ۔ بعد ازاں ان انسانی حقوق کے اداروں نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں فعال بین الاقوامی تنظیموں، بالخصوص ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی (آئی سی آرسی ) سے اپیل کی ہے کہ وہ بشریٰ الطویل کی قیدِ ختم کروانے اور ان کی فوری رہائی کو یقینی بنانے کیلئے ہنگامی مداخلت کریں۔فلسطینی تنظیموں کے مطابق، بشریٰ الطویل کا معاملہ ’’خواتین سمیت فلسطینی قیدیوں کومنصوبہ بند طریقے سے الگ تھلگ رکھنے کی بڑھتی ہوئی پالیسی‘‘ کو اجاگر کرتا ہے، جو گزشتہ چند ماہ کے دوران ایک ’’منظم طریقہ کار‘‘ بن چکی ہے۔ اس پالیسی کے باعث قیدی اپنے خلاف لگائے گئے الزامات سے نہ صرف بے خبر رہتے ہیں بلکہ انہیں چیلنج بھی نہیں کر پاتے، شدید ذہنی و نفسیاتی صدمے کا بھی شکار ہوجاتے ہیں۔  
واضح رہے کہ قیدیوں کے ساتھ سلوک سے متعلق اقوامِ متحدہ کے بنیادی معیارات، جنہیں نیلسن منڈیلا رولزکہا جاتا ہے، طویل یا غیر معینہ مدت کی قیدِپر پابندی عائد کرتے ہیں۔ ان قواعد کے تحت کسی قیدی کو دن میں ۲۲؍ گھنٹے یا اس سے زیادہ کسی انسانی رابطے کے بغیر رکھنا قیدِ تنہائی کہلاتا ہے، جبکہ مسلسل ۱۵؍ دنوں سے زائد قید کو طویل قیدِ تنہائی شمار کیا جاتا ہے۔ تنظیموں نے واضح کیا کہ بشریٰ کے ۴۶؍ دن اس حد سے کہیں زیادہ ہیں اور بین الاقوامی معیارات کےخلاف کھلی ورزی ہیں۔بشریٰ الطویل فروری سے بغیر کسی باضابطہ الزام کے انتظامی حراست میں ہیں۔ تنظیموں نے انہیں حال ہی کے سالوں میں انتظامی حراست کا سامنا کرنے والی سب سے نمایاں فلسطینی خواتین قیدیوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔ وہ جمال الطویل کی بیٹی ہیں، جو خود بھی ایک فلسطینی انتظامی قیدی رہے ہیں اور جنہوں نے اسرائیلی جیلوں میں سالہا سال گزارے ہیں۔ تنظیموں نے بشریٰ کی فوری رہائی اور ان کی قیدِ تنہائی کے خاتمے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی آباد کاروں کے حملے میں ایک فلسطینی شہید،۱۶؍افراد زخمی

یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب اسرائیلی فورسیز مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں مسلسل چھاپے مار کر گرفتاریوں کو انجام دے رہی ہیں، جبکہ دوسری جانب غیر قانونی اسرائیلی آبادکاروں کے فلسطینیوں پر حملوں میں شدید اضافہ ہوا ہے۔ فلسطینی اور اسرائیلی انسانی حقوق کے گروہوںکے مطابق، اس وقت تقریباً ۹؍ ہزار ۵۰۰؍ فلسطینی، اسرائیل کی جیلوں میں قید ہیں، جن میں ۹۰؍ کے قریب خواتین اور ۳۵۰؍ سے زائد بچے شامل ہیں۔ ان تمام قیدیوں کو خوراک کی شدید قلت، تشدد اور طبی دیکھ بھال میں دانستہ لاپرواہی کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK