Updated: February 13, 2026, 10:16 PM IST
| New York
اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ۲۰۲۵ء کے دوران شام کے صدر اور دو وفاقی وزرا کے خلاف پانچ قاتلانہ حملوں کی منصوبہ بندی کی گئی، جنہیں سیکوریٹی اداروں نے ناکام بنا دیا۔ رپورٹ کے مطابق حملوں کے پیچھے داعش سے وابستہ عناصر کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ شام میں سیکوریٹی خطرات اب بھی برقرار ہیں۔
شام کے صدر احمد الشرع۔ تصویر: ایکس
اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ۲۰۲۵ء کے دوران شام کے صدر احمد الشرع اور کابینہ کے دو اہم ارکان کے خلاف پانچ قاتلانہ حملوں کی کوششیں کی گئیں، تاہم تمام سازشیں بروقت کارروائی کے ذریعے ناکام بنا دی گئیں۔ رپورٹ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو غطریس کی نگرانی میں تیار کی گئی اور اسے رکن ممالک کے سامنے پیش کیا گیا۔ اس میں شام اور عراق میں سرگرم شدت پسند تنظیم داعش کی باقی ماندہ سرگرمیوں پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پانچ الگ الگ مواقع پر صدر احمد الشرع اور دو وزرا کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی گئی۔ ان میں شام کے وزیر داخلہ انس حسن خطاب اور وزیر خارجہ اسد الشیبانی شامل تھے۔
یہ بھی پڑھئے: پاکستان: عمران خان کی آنکھ کی ۸۵؍ فیصد بینائی ختم، سپریم کورٹ نے کمیٹی تشکیل دی
اقوام متحدہ نے واضح کیا کہ یہ کارروائیاں مختلف مقامات پر تیار کی گئیں اور ان کا مقصد شام کی نئی حکومتی قیادت کو غیر مستحکم کرنا تھا۔ یہ تمام سازشیں ۲۰۲۵ء کے دوران سامنے آئے۔ رپورٹ میں مخصوص تاریخوں کی تفصیل فراہم نہیں کی گئی، تاہم کہا گیا ہے کہ کارروائیاں شام کے مختلف علاقوں میں تیار کی گئیں، جہاں شدت پسند نیٹ ورکس اب بھی سرگرم ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق ان سازشوں کے پیچھے داعش سے وابستہ عناصر یا اس کے فرنٹ گروپس کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ داعش کو علاقائی سطح پر بڑا نقصان پہنچ چکا ہے، لیکن اس کے خفیہ سیلز اور ہمدرد اب بھی کارروائیوں کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق شام اور عراق میں داعش کے ہزاروں جنگجو مختلف نیٹ ورکس کے ذریعے متحرک ہیں اور موقع ملنے پر ہائی پروفائل اہداف کو نشانہ بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
تجزیے کے مطابق شدت پسند گروہوں کا مقصد نئی حکومتی قیادت کو کمزور کرنا، سیاسی عدم استحکام پیدا کرنا اور سیکوریٹی فورسیز پر دباؤ بڑھانا تھا۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا کہ ایسے حملے نہ صرف ملکی قیادت بلکہ امن عمل کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شامی سیکوریٹی اداروں اور ان کے بین الاقوامی شراکت داروں کی مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں ان سازشوں کا بروقت سراغ لگایا گیا اور حملوں کو عملی شکل دینے سے پہلے ہی ناکام بنا دیا گیا۔ تاہم آپریشنل تفصیلات سیکوریٹی وجوہات کی بنا پر ظاہر نہیں کی گئیں۔ اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں نشاندہی کی ہے کہ اگرچہ شام میں بڑے پیمانے کی لڑائی کم ہو چکی ہے، لیکن دہشت گرد نیٹ ورکس مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ شمالی اور مشرقی علاقوں میں خفیہ سرگرمیوں، بھرتیوں اور محدود حملوں کے واقعات بدستور رپورٹ ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: بنگلہ دیش الیکشن۲۰۲۶ء: بی این پی کی دو تہائی اکثریت سے جیت، ہندوستان کی مبارکباد
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ داعش اپنی حکمت عملی بدل کر چھوٹے اور حملوں پر توجہ دے رہا ہے، جس کا مقصد ریاستی ڈھانچے کو کمزور کرنا ہے۔ اقوام متحدہ کے رکن ممالک نے رپورٹ پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور شام میں انسداد دہشت گردی تعاون جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ انکشاف ظاہر کرتا ہے کہ شدت پسندی کا خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا اور سیاسی استحکام کے لیے مسلسل سیکوریٹی نگرانی ضروری ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی رپورٹ کے حوالے سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا۔ بعض صارفین نے سیکوریٹی اداروں کی بروقت کارروائی کو سراہا، جبکہ دیگر نے کہا کہ شام میں طویل مدتی امن کے لیے جامع سیاسی حل ناگزیر ہے۔