امریکی کمپنی فیڈایکس اسرائیل کو فوجی سازوسامان کی غیر قانونی ترسیل میں ملوث ہے۔ اس فوجی سامان میں ایف-۳۵ لڑاکا طیاروں کے پرزے بھی شامل ہیں جنہیں اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف اپنی فوجی کارروائیوں میں استعمال کرتا رہا ہے۔
EPAPER
Updated: June 04, 2026, 9:01 PM IST | Brussels
امریکی کمپنی فیڈایکس اسرائیل کو فوجی سازوسامان کی غیر قانونی ترسیل میں ملوث ہے۔ اس فوجی سامان میں ایف-۳۵ لڑاکا طیاروں کے پرزے بھی شامل ہیں جنہیں اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف اپنی فوجی کارروائیوں میں استعمال کرتا رہا ہے۔
انسانی حقوق کے میدان میں سرگرم بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ’فیڈ ایکس بیلجیم‘ (FedEx Belgium) کے خلاف ایک فوجداری معاملے میں فریق بنتے ہوئے کمپنی کے خلاف بیلجیم میں شکایت درج کرائی ہے۔ تنظیم نے فیڈایکس پر اسرائیل کو فوجی سازوسامان کی غیر قانونی ترسیل میں ملوث ہونے کا الزام لگایا ہے۔ اس فوجی سامان میں ایف-۳۵ لڑاکا طیاروں کے پرزے بھی شامل ہیں جنہیں اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف اپنی فوجی کارروائیوں میں استعمال کرتا رہا ہے۔
بیلجیم کے خطے والونیا (Wallonia) میں لیئژ (Liège) کے پبلک پراسیکیوٹر کو سول سوسائٹی کی تنظیموں کے ایک اتحاد کی طرف سے یہ شکایت پیش کی گئی ہے۔ اس اتحاد میں فریدساکسی (Vredesactie)، لیگ ڈیس ڈروئٹس ہیومینز، کوآرڈینیشن نیشنلے ڈی ایکشن پور لا پائکس ایٹ لا ڈیموکریسی اور ایمنسٹی انٹرنیشنل شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: فلسطینی کھیلوں پر وار: اسرائیل نے اسٹار فٹبالر رند حلوانی کی حراست بڑھائی
تنظیموں کے مطابق، امریکہ میں قائم لاجسٹکس کمپنی فیڈایکس کی ذیلی کمپنی، فیڈایکس بیلجیم نے علاقائی قانون کے تحت درکار ٹرانزٹ لائسنس حاصل کئے بغیر والونیا کے راستے فوجی کارگو منتقل کیا۔ والونیا کے قوانین کے تحت، بغیر اجازت کے ایسے فوجی سازوسامان کو منتقل کرنا ایک مجرمانہ اقدام ہے۔
اس شکایت میں مرکزی طور پر اکتوبر ۲۰۲۴ء میں امریکہ کے شہر یوٹاہ میں واقع ’ہل ایئر فورس بیس‘ سے اسرائیل کے ’نیواٹم ایئر بیس‘ تک منتقل کی جانے والی کھیپ کا حوالہ دیا گیا ہے۔ فیڈایکس کی ویب سائٹ پر دستیاب معلومات سے پتا چلتا ہے کہ یہ کھیپ امریکی انٹرنیشنل ٹریفک ان آرمز ریگولیشنز (ITAR) کے تابع تھی۔
یہ بھی پڑھئے: فلسطین پر اسرائیلی قبضہ، آثار قدیمہ کے تعلق سے فلسطینیوں میں تشویش
جون ۲۰۲۵ء میں، فیڈایکس نے بيان دیا تھا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان تنازع کے دوران اسرائیلی فضائی حدود کی بندش کی وجہ سے کچھ پروازوں کے راستے تبدیل کئے گئے تھے۔ کمپنی نے کہا تھا کہ آئی ٹی اے آر (ITAR) کے زیرِ کنٹرول کچھ سامان غیر ارادی طور پر لیئژ سے گزرا ہو سکتا ہے۔ شکایت کے مطابق، کارگو کو لیئژ ایئرپورٹ پر اتارا گیا، سڑک کے ذریعے جرمنی کے کولون ایئرپورٹ منتقل کیا گیا اور پھر وہاں سے آگے اسرائیل بھیج دیا گیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے الزام لگایا کہ لیئژ ایئرپورٹ سے گزرنے والی مشکوک فوجی کھیپوں کی مزید رپورٹیں مقامی قوانین کے نفاذ میں کمزوریوں کی نشان دہی کرتی ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل بیلجیم کی ڈائریکٹر کیرن تھیبو نے کہا کہ ایف-۳۵ لڑاکا طیارے اسرائیلی فضائیہ کے جدید ترین طیاروں میں شامل ہیں اور غزہ میں آپریشنز کے دوران ان کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا گیا ہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ بین الاقوامی قانون کے تحت ریاستوں کا یہ فرض ہے کہ وہ ایسے ہتھیاروں کی منتقلی کو روکیں جو بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزیوں میں استعمال ہوسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ہندوستان اسرائیلی فوجی ایتان گلبوع کے خلاف کارروائی کرے: ہند رجب فاؤنڈیشن
شکایت کرنے والی تنظیموں نے احتساب اور ٹرانزٹ قوانین کے سخت نفاذ کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فوجی سازوسامان منتقل کرنے والی کمپنیوں کو مقامی قوانین کی تعمیل کرنی چاہئے۔ انہیں اس بات کو یقینی بنانے کیلئے پوری مستعدی سے کام لینا چاہئے کہ ان کی سرگرمیاں انسانی حقوق کی پامالیوں یا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کا سبب نہ بنیں۔